کراچی : لیاری کےعلاقے بغدادی میں 5 منزلہ خستہ حال رہائشی عمارت زمیں بوس ہوگئی، ملبے سے 6 لاشوں اور 6 زخمیوں کو نکال لیا گیا ہے جن میں ایک حالت تشویشناک ہے، ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد کے مطابق 20 سے 25 افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، لیاری کی تنگ گلیوں کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شہر کی مخدوش عمارتوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق لیاری کے علاقے بغدادی میں 5 منزلہ رہائشی عمارت گرگئی، عمارت کے ملبے سے مکینوں کو نکالنے کیلئے آپریشن جاری ہے۔
ریسکیو ادارے ایدھی نے ڈان کو بتایا کہ حادثہ لیاری کے علاقے آٹھ چوک میں چوبیس گھنٹہ کلینک کے قریب پیش آیا۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق 6 افراد کی لاشیں ہسپتال لائی جاچکی ہیں،شہید بینظیر بھٹو ٹراما سینٹر کے ایگزیکٹو ڈائر ڈاکٹر صابر میمن نے بتایا کہ 6 زخمیوں کو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا ہے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 5 زخمیوں کو معمولی زخم آئے ہیں۔
ایس ایس پی سٹی کے مطابق ملبے سے 5 افراد کی لاشیں اور 6 زخمیوں کو نکال لیا گیا ہے جبکہ متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاع ہے۔
ایس ایچ او بغدادی نے ڈان کو بتایا کہ عمارت سے نکالے گئے 5 زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں 25 سالہ راشد ولد عزیز، 45 سالہ یوسف ولد سبحان، 35 سالہ سنیتہ زوجہ چینن، 50 سالہ فاطمہ زوجہ بابو اور 35 سالہ چندہ زوجہ جمعہ شامل ہیں۔
ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے بتایا کہ عمارت کے ملبے تلے 20 سے 25 افراد کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں جنہیں نکالنے کے لیے بھاری مشینری کے ذریعے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
ترجمان ریسکیو 1122 نے ڈان نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ موبائل سنگنلز نہ ہونے کی وجہ سے دیر سے اطلاع ملی، حادثے کی جگہ پر بھاری مشینری کی مدد سے آپریشن کرینگے، حادثے میں لوگوں کی اموات کا بھی خدشہ ہے، عینی شاہدین کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کی چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے۔
ریسکیو کے مطابق عمارت کے ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں، رہائشی عمارت میں موجود افراد کی تفصیلات تاحال معلوم نہیں ہوسکی۔
ریسکیو کے مطابق لیاری میں تنگ گلیوں کے سبب ریسکیو آپریشن سست روی کاشکار ہے جبکہ تنگ گلیوں کے سبب بھاری مشینری لانے میں مشکلات کا سامنا ہے، مقامی افراد اور فلاحی امدادی ادارے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو ملبے سے نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق عمارت میں 12 سے زائد فلیٹ تھے اور حادثے کے وقت متاثرہ عمارت میں دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
بدھ, ستمبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم

