پشاور:خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں خواتین کے نام پر موبائل سمز استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
محکمہ انسداد دہشتگردی خیبرپختونخوا کے ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ دہشتگردی میں استعمال ہونے والی اکثر موبائل سمیں پنجاب اور سندھ کی خواتین کے نام پر ہوتی ہیں۔
ڈی آئی جی کے مطابق دیہی خواتین سے بے نظیر انکم سپورٹ اور دیگر پروگرامزکےتحت انگوٹھے لگوائے جاتےہیں، انگوٹھےکا نشان لگاکر اس کے ذریعے موبائل سمیں نکلوائی جاتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بھتہ خوری اور دہشتگردی کے زیادہ تر واقعات میں افغان ملوث ہیں، غیر قانونی مقیم افرادکے انخلا سے دہشتگردی کےواقعات میں کمی آئےگی۔
(بشکریہ: جیو نیوز)
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

