بزرگوں نے کہا تھا کہ عقل کن سے سیکھی، بے وقوفوں سے۔ انڈیا میں، میں نے ایک گردوارے میں چالیس ہزار روٹیاں، 4من دال،4من آلو، سویا بین اور سفید چنوں کا سالن، بنانے کے لئے، دیکھا کہ سب کام مشینوں پر ہورہے ہیں۔ ایک مشین ہے جو بیک وقت آلو دھوتی اور چھلکے اتارتی ہے۔ دوسری مشین منوں آلو،آدھے گھنٹے میں کاٹ دیتی ہے۔ تیسری مشین 4 من چاول پکاتی ہے اور چوتھی مشین منوں آٹا گوندھتی ہے۔ پانچویں مشین میں گُندھے آٹے کے بڑے بڑے پیڑے ڈالے جاتے ہیں جس میں سے چھوٹے چھوٹے پیڑے نکل کر دوسرے اوون میں سینکی ہوئی روٹیاں نکلتی ہیں اور بیک وقت ایک ہزار لوگ ایک نشست میں کھانا کھا سکتے ہیں۔کھانے کی باریاں لگتی رہتی ہیں‘ لوگ صبح سے شام تک آتے اور بیٹھ کر اپنی بھوک مٹاتے رہتے ہیں ویسے تو سیلانی والے اور تین روپے کا کھانا کھلانے والی خاتون بھی سارا دن لنگر لگائے رکھتے ہیں مگر یہ جو بھوک مٹاؤ پروگرام ہے‘ اس کے لئے بھی تو یہی پورا سسٹم کاپی کیا جا سکتا ہے۔ بھئی ہم کپڑے کاپی، کبھی فلم کاپی، کبھی فیشن کاپی کرتے ہیں‘ مشینیں بھی توبنائی جاسکتی ہیں کہ اب تو لوگوں کو نوکریاں ،گھراور تیار کھانے دروازوں پر ملنے لگے ہیں۔ اگر آپ یہی کام مسجدوں کے اماموں اور مدرسوں کے طلبا کے سپرد کردیں تو ان کوبھی مصروفیت مل جائےگی ۔سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے فیکٹریوں والے جتنی ملاوٹ کرتے ہیں تقریباً اتنی ہی خیرات بھی کرتے ہیں۔ اب جو عادت پڑجائے ‘ اس کا چھوٹنا مشکل ہوتا ہے۔ جیسے مجھے ہمارے وزیراعظم کا یہ فقرہ بہت اچھا لگتا ہے کہ’’میں جتنا ویسٹ کو جانتا ہوں، آپ نہیں جانتے۔‘‘مجھے اپنی جوانی کے زمانے میں ان کی ماڈلنگ کرتے ہوئے تصویریں یاد آئیں، جب وہ پاکستانی لباس کے ساتھ کبھی کھسہ پہن کر، کبھی پشاوری چپل پہن کر اور طرح طرح کے لباسوں میں،لندن اور یورپ میں شوکرتے اور کینسر اسپتال کے لئے پیسے اکھٹے کرتے تھے ۔ جس برطانوی خاتون کے ساتھ انہوں نے زندگی کے بارہ سال گزارے وہ خاتو ن لباس اور ہر انداز میں ایک پاکستانی خاتون لگتی تھی۔ وہ ان غریب بستیوں میں جاکر خواتین سے شیڈ وورک کے اتنے سارے کرتے بنواتی تھی اور کارکنوں کو پیسے بھی اچھے دیتی تھی۔ یہ سنی سنائی بات نہیں، میں بھی لاہور سے ملحقہ دیہات میں کام کرتی تھی۔
انسان زندگی میں بہت کچھ سیکھتا ہے ۔ اپنی غلطیوں سے بھی سیکھتا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم بار بار سادگی سےکہتے ہیں،ہم جب حکومت میں آئے تو ہمیں پہلے کچھ پتہ نہیں تھا‘ یہ سن کر سوچ میں پڑگئے، یہ سوال سر اٹھاتا ہے کہ آخر22سال سیاست میں کیا کرتے رہے تھے جبکہ وہ مذہبی پارٹی، جسے آپ کالعدم قرار دے چکے۔ اس نے توچار برسوں میں ہر ضلع میں اپنے پیروکار اس حد تک بنائے کہ ان کے ہاتھ میں پیٹرول اور تیزاب کی بوتلیں تھیں، سب ایک حکم کے منتظر تھے۔ یہی بات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے کرتائوں دھرتائوں سے بھی پوچھ سکتی ہوں کہ آپ کے دفاتر اور آپ کے جلسوں میں کارکن دیگوں اور کیکوں پر حملہ آور ہوتے تو بہت نظر آتے ہیں۔ مگر اپنے گلی محلے کی خبر بھی ہے۔ وہاں کوئی ٹیم تیار کی جاتی ہے، علاقے میں صحت مراکز اسکولوں اور کھیتوں، فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین کی مشکلات پر کبھی نظر کی ؟یہ اس لئے کہہ رہی ہوں کہ این جی او سیکٹر ،25یا30سال تک چلتا رہا۔ کچھ حکومت کے کرم اور کچھ فنڈز دینے والے اداروں پر پابندیوں کے بعد بلڈنگیں جو بنائی گئیں۔ وہ فروخت کی جارہی ہیں۔ مشینیں بیچی جارہی ہیں۔ پوچھو کیا کیا کرتے رہے؟ ایک لاکھ عورتوں کا شعار بلند کیا۔ کیسے؟ تقریروں‘ فلموں اور کھانے کے ذریعے۔ اس طرح کی بہت سی کامیابیاں،ان کی خوبصورت رپورٹوں کو دیکھ کرمحسوس ہوتا ہے کہ بہت کام ہوا۔ واپس جب ان علاقوں کی سمت دیکھو تو کئی گاؤں میں ایک گھر کے کونے میں چھوٹی سی دکان نقلی بوتلوں ، میٹھی بوتلوں اور سستےبسکٹوں سے بھری نظر آئےگی۔ کچن گارڈن والے جو سبزیاں اگاتے ہیں، جو مرغیوں کے انڈے نکلتے ہیں وہ بازار میں بیچ دیتے ہیں۔ بہت کیا تو کسی نے اسکول میں باتھ روم بنوادیا، کسی نے اسکول کی دیوار بنوادی۔ وہ بھی فنڈنگ ایجنسیوں کی مدد سے ۔کتنے لوگوں کو پاکستان بننے کی کہانی سنائی۔ کتنے بچوں کو ان کے علاقے کی تاریخ بتائی کہ یہ کتنا پرانا ہے۔ جب کوئی کہتا ہے ’’ بہت کام کیاتو میں اس کی بیش قیمت گاڑیاں دیکھ کر ہنس پڑتی ہوں ۔ایک عقلمند سیاسی کارکن فرحت اللہ بابر، اپنے پرانے پینٹ کوٹ اورپرانی گاڑی میں جب سربراہ بلائیں‘ چلاجاتا ہے۔ وہ الیکشن لڑے اسے نوٹ اور ووٹ نہیں ملتے۔ نوجوان بلاول اور سیاست کا مزا چکھنےوالی مریم بی بی ہم بڈھوں کی نصیحت پر ناراض نہ ہونا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

