کوئٹہ : پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ضلع خاران میں سکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن میں ’’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے 12 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
پاکستان کی فوج کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے، جب بلوچستان کے ضلع خاران میں جمعرات کو مسلح افراد کے حملے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا تھا۔
مسلح افراد کی جانب سے دن دیہاڑے سرکاری اور نجی بینک لوٹنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق خاران شہر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں طویل عرصے سے بدامنی کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ تاہم جمعرات کے روز شہر میں مسلح افراد کی بڑی تعداد کے داخل ہونے اور مختلف علاقوں میں حملے اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔
مسلح افراد کے حملے میں نہ صرف شہر میں سٹی پولیس سٹیشن اور اس میں موجود گاڑیوں کو نقصان پہنچا بلکہ اس حملے کے نتیجے میں وہاں حوالات میں موجود کئی قیدی بھی فرار ہو گئے۔
مسلح افراد نے شہر میں ایک سرکاری بینک سمیت تین نجی بینکوں کو بھی نشانہ بنایا اور وہاں سے سرکاری حکام کے مطابق لاکھوں روپے چھین کر لے گئے۔
متعدد بار کوشش کے باوجود خاران میں پولیس اور انتظامیہ کے دیگر حکام نے اس حوالے سے کوئی مؤقف نہیں دیا۔
لیکن جمعے کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 12 حملہ آور مارے گئے جبکہ سکیورٹی فورسز کے دو افسر زخمی ہوئے۔
بعدازاں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ 15 سے 20 شدت پسندوں نے خاران میں پولیس سٹیشن، نیشنل بینک اور حبیب بینک کی عمارتوں پر حملہ کیا، جس دوران انھوں نے بینکوں سے 34 لاکھ روپے کی ڈکیتی بھی کی۔
بی بی سی نے خاران شہر میں دو عینی شاہدین سے بات کی جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جمعرات کو ساڑھے تین بجے کے قریب شہر کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں مسلح افراد داخل ہوئے۔
ان میں سے بعض گاڑیوں پر تھے جبکہ ان کی بڑی تعداد موٹر سائیکلوں پر بھی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ان میں سے بعض نے شہر کے مختلف علاقوں میں پوزیشنز سنبھال لیں جبکہ بعض پولیس تھانہ اور شہر کے دیگر علاقوں میں گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آورں نے چادروں اور مفلروں سے اپنے چہرے چھپائے ہوئے تھے جبکہ ان میں سے بعض نے ایک مخصوص پرچم بھی اوڑھ رکھا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد مجموعی طور پر تین بینکوں میں داخل ہوئے، جن میں نیشنل بینک، میزان بینک اور بینک الحبیب شامل ہیں۔

