اسلام آباد : جمعرات کے روز اسلام آباد کے شہری علاقوں میں پولنگ شروع ہونے کے پہلے تین گھنٹوں کے دوران لوگوں کی بہت کم لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلی اور ووٹر ٹرن آوٹ پانچ فیصد سے زیادہ نہیں تھا۔
یہ بات بی بی سی کو ڈسٹرکٹ ریٹنرنگ افسں میں تعینات ایک اہلکار نے بتائی جس کی ڈیوٹی ووٹر ٹرن آوٹ کا جائزہ لینا ہے۔جب ان سے اسلام آباد کے دیہی علاقوں کے ووٹر ٹرن آؤٹ کا پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ان کے پاس معلومات نہیں ہیں۔
ایف ایٹ مرکز میں موجود اسلام آباد کے سب سے بڑے پولنگ سٹیشن پر مردوں کے پولنگ سٹیشن پر تعینات اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک اس پولنگ سٹیشن پر ایک سو سے بھی کم ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے آئے ہیں۔
شہر کے علاقوں جن میں ووٹرز کی تھوڑی بہت گھما گہمی دیکھنے کو ملی ان میں اسلام آباد کے چار سیکٹرز : جی-سیون، جی-ایٹ، جی-نائن اور جی-ٹین، شامل ہیں۔
اسلام آباد کے شہری علاقوں میں پولنگ شروع ہونے کے پہلے تین گھنٹوں کے دوران لوگوں کی بہت کم لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے نکلی تاہم، یہاں بھی کچھ امیدواروں کے پولنگ کیمپس ویران پڑے تھے جبکہ کچھ کیمپس کو ٹینٹ لگا کر بند کردیا گیا تھا۔ ان علاقوں میں صرف پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیداوروں کے پولنگ کیمپس میں ووٹرز کا رش نظر آیا۔
مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار اپنے ووٹرز کو پولنگ سٹیشن تک لانے کے لیے انھیں ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، وہ امیدوار جو آزاد حثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں وہ اس امید پر بیٹھے ہیں کہ ووٹر خود اپنا انتظام کر کے پولنگ سٹیشن پر پہنچ جائیں گے۔
شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ رواں دواں ہے۔ اسلام آباد سے راولپنڈی چلنے والی میٹرو بس کے علاوہ مختلف روٹس پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی چل رہی ہے۔
اسلام آباد کے شہری علاقوں میں پولیس اہلکار پولنگ سٹیشنز کے ارد گرد پیٹرولنگ کرتے ہوئے نظر آئے لیکن شہری علاقوں میں رینجرز اہلکار پیٹرولنگ کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیے۔
( بشکریہ :بی بی سی اردو )
Previous Articleکمال نامہ” کمال کی کتاب“ : ڈاکٹر انوار احمد کا تبصرہ
Next Article ملتان میں پولنگ پرامن طورپرجاری

