Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
ہفتہ, ستمبر 26, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ڈیرہ اسماعیل خان ’’ امن میلہ ‘‘ میں خود کش دھماکہ : 12افراد ہلاک ، 35 زخمی
  • آج بابائے جمہوریت کی 23 ویں برسی ہے
  • سید مجاہد علی کا تجزیہ : پی ٹی آئی لانگ مارچ کا التوا ، عطا تارڑ اور سہیل آفریدی کی تکرار
  • پیٹرول میں اضافہ مسلسل جاری : آج 391 روپے 30 پیسے لیٹر ملے گا
  • پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ
  • پیٹرول ، ڈیزل پر جگا ٹیکس اور جماعتِ اسلامی کی ’’ نظریاتی سیاست ‘‘ : نصرت جاوید کا کالم
  • پی ٹی آئی لانگ مارچ سے پہلے اسلام آباد کے راستے بند، اہم شاہراہوں پر کنٹینرز
  • فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
  • محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم
  • مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » عرفان صدیقی کا کالم:وزیر اعظم کا ”امر بالمعروف“ اور مولانا کا ”نہی عن المنکر“ جلسہ
لکھاری

عرفان صدیقی کا کالم:وزیر اعظم کا ”امر بالمعروف“ اور مولانا کا ”نہی عن المنکر“ جلسہ

ایڈیٹرمارچ 23, 20224 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
irfan siddiqi
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

عزت ماب جناب وزیر اعظم عمران خان کی آتش بیانی جاری ہے لیکن ”لاوا فشانی“ میں کمی آ رہی ہے۔ آسمان سے ہم کلام شعلوں کی لپک جھپک قدرے مدھم پڑنے لگی ہے۔ آتش فشاں کے سینے میں لاوے میں ڈھلتے کیمیائی اجزائے ترکیبی کی حدت اور شدت تو موجود ہے لیکن جوش و خروش مدھم پڑ گیا ہے جو آتشیں لاوے کو دہانے تک لاتا اور فوارے کی صورت اگلتا ہے۔ خان صاحب کی بدن بولی میں بھی آہوئے تاتاری جیسی طراری اور طرحداری نہیں رہی جو مدتوں جوانان قوم کا لہو گرماتی اور حسینان وطن کے دل گدگداتی رہی۔ تاریخ پر نظر رکھنے والے لوگ پیچھے پلٹ کر دیکھتے ہیں تو کتنے ہی وزرائے اعظم خزاں رسیدہ پتوں کی طرح بے مہر ہواؤں کا رزق ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو خان اعظم کی طرح یوں صحرائی بگولوں کی زد میں آئے، ورق بوسیدہ کی طرح یوں پارہ پارہ ہو رہا ہو۔ شکستگی کی ایسی قابل رحم جان کنی کسی نے نہیں دیکھی۔
برس ہا برس اپنے حریفوں کی دستاریں اچھالنے، ان کے گریبان نوچنے، ان کے لباس پر سیاہی تھوپنے، ان کی پیشانیاں نوع بہ نوع الزامات سے داغنے، انہیں آخری درجے کی تحقیر اور تذلیل میں لتھڑے القابات دینے، انہیں جیلوں میں ڈالنے، ان کی بہو بیٹیوں کو خوئے انتقام کا نشانہ بنانے، ان کے گھر نیلام کرنے، ہر قومی ادارے کو ان کے تعاقب میں لگا دینے اور اپنے زیر اثر میڈیا کو ان کی کردار کشی کے لئے وقف کر دینے کے طویل سلسلے کو اب خان صاحب نے قرآنی حکم ”امر بالمعروف“ کا تقاضا قرار دے دیا ہے۔ ہم بھی کیا کم فہم لوگ ہیں جو خان صاحب کے اس ”جہاد“ کو عدم رواداری کا بزدلانہ رویہ، غیرجمہوری سوچ کا آمرانہ طرز عمل اور طفلان کوچہ و بازار کا کھلنڈرا پن قرار دیتے رہے۔ اب کھلا کے خان صاحب کے نزدیک یہ سب قرآنی حکم ”امر بالمعروف“ کا تقاضا تھا جس کی تلقین اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے۔
سو بجا طور پر خان صاحب خود کو نیکی، پارسائی، خیر، حق، سچائی اور صراط مستقیم کی ارفع علامت خیال کرتے اور جذبہ ایمانی کی حدوں کو چھوتا یقین کامل رکھتے ہیں جو خان صاحب کے اس مرتبہ و مقام کے منکر ہیں۔ ان کی حیثیت کم و بیش وہی ہے جو پیغمبروں پر ایمان نہ لانے والوں کی ہوتی ہے۔ کم از کم میرے علم میں نہیں کہ کسی پیغمبر نے بھی اپنے منکرین کی آنے والی نسلوں کو بددعا دی ہو اور کہا ہو کہ تمہارے بچے سکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کر سکیں گے۔ تمہارے بچوں سے کوئی شادی نہیں کرے گا۔ تم کسی تقریب میں جا نہیں سکو گے۔ تم اچھوت بن کر رہ جاؤ گے۔ خان صاحب صدق دل سے سمجھتے ہیں کہ جو سیاستدان حلقہ بگوش تحریک انصاف ہوئے، وہ در اصل حلقہ کفر و شرک سے نکل کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔ اب اگر کوئی تحریک انصاف سے مایوس ہو کر اس سے رشتہ توڑتا ہے تو وہ ”ارتداد“ کا ارتکاب کرتا اور ”مرتد“ ہو جاتا ہے۔
یہ سوال بے معنی ہے کہ خان صاحب نے یہ کیسے جان لیا کہ بائیس کروڑ انسانوں کے انبوہ بے کراں میں صرف وہی نیکی، حق، سچائی اور پارسائی کا مجسمہ ہیں اور جو ان کے دست مبارک پر بیعت نہیں کرتا یا بیعت کر کے اسے فسخ کر دیتا ہے وہ گردن زدنی ہے۔ ایسے شرانگیز سوالات حجت بازی اور فتنہ سازی کے زمرے میں آتے ہیں۔ معلوم ہونا چاہیے کہ جب خان صاحب خود ایسا سمجھتے اور ببانگ دہل ایک ”برانڈ“ ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں تو پھر کسی اور دلیل کی کیا حاجت رہ جاتی ہے۔ ایسے بدگمان، خان صاحب کے اقوال اور دعووں کی مین میخ نکالنے کے بجائے، ان کی زندگی کے نشیب و فراز پر ہی ایک چھچھلتی ہوئی نظر ڈال لیں تو انہیں بخوبی اندازہ ہو جائے گا اگر خان صاحب خود کو مجسمہ خیر اور دوسروں کو ”شیطان مجسم“ خیال کرتے ہیں تو اس میں بڑی حد تک حق بجانب ہیں۔
خان صاحب کے دل و دماغ میں یہ بات بھی رچ بس چکی ہے کہ 2018 کے انتخابات میں پوری قوم وارفتگی کے عالم میں اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور ان کا دامن ووٹوں سے مالا مال کر دیا تھا اس لئے صرف وہی پاکستانی عوام کی نمائندگی کا استحقاق رکھتے ہیں۔ اگرچہ اعداد و شمار کی تصویر کچھ اور کہتی ہے۔ 2018 میں ساڑھے دس کروڑ کے لگ بھگ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے پانچ کروڑ اکتیس لاکھ تئیس ہزار سات سو تینتیس ( 53123733 ) نے ووٹ کا حق استعمال کیا تھا۔ عین گنتی کے وقت ناگہانی طور پر آر۔ ٹی۔ ایس کی حرکت قلب بند ہو جانے اور خان صاحب کی امنگوں کو مادر مشفق کی طرح لوریاں دیتی ہواؤں کے باوجود تحریک انصاف ایک کروڑ انہتر لاکھ تین ہزار سات سو دو ( 16903702 ) ووٹ لے سکی جو پول شدہ ووٹوں کا 31.82 فی صد تھے۔ باقی 68.18 فیصد ووٹ، جو پاکستانی عوام ہی کے تھے، تحریک انصاف کے خلاف کھڑی جماعتوں یا امیدواروں کو ملے۔ ”چوروں“ کی جماعت مسلم لیگ (ن) نے چہار سمت سے اٹھتی آندھیوں کے باوجود ایک کروڑ انتیس لاکھ چونتیس ہزار پانچ سو نواسی ( 12934589 ) ووٹ لئے۔ ”ڈاکوؤں“ کی جماعت پیپلز پارٹی نے انہتر لاکھ چوبیس ہزار تین سو چھپن ( 6924356 ) ووٹ لئے۔ صرف چوروں اور ڈاکوؤں کے ووٹ جمع کر لئے جائیں تو وہ خان صاحب کے ووٹوں پر بھاری ہیں۔ گویا ناسازگار موسموں کے باوجود عوام نے خان صاحب کی نسبت چوروں اور ڈاکوؤں کو زیادہ لائق اعتماد جانا۔ خان صاحب کے 31.82 فیصد کے مقابلے میں ان دونوں کے ووٹ 37.38 فیصد بنتے ہیں۔ لیکن ”امر بالمعروف“ کے پرچم بردار سربکف سپاہ کے نزدیک اس طرح کے اعداد و شمار بے معنی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے آپ مانے، اپنے ترازو، اپنے اوزان، اپنے عقیدے، اپنے نظریے، اپنا استدلال، اپنا فلسفہ، اپنا اسلوب، اپنا لہجہ، اپنی زبان اور اپنا بیانیہ رکھتے ہیں۔ ان کی عدالت میں کسی وکیل، کسی، اپیل، کسی دلیل کا گزر نہیں۔
خیر کا مجسمہ اور پارسائی کا برانڈ ہونے کے باوجود، خان صاحب عبرت کا قابل رحم نمونہ کیوں دکھائی دے رہے ہیں؟ یہ واقعی ایک اہم سوال ہے۔ ابھی کل کی بات ہے 2012 میں پیپلز پارٹی عہد کے وزیراعظم، سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں فارغ کر دیا گیا۔ پی۔ پی۔ پی اپنے پاؤں پر کھڑی رہی۔ کوئی حواس باختہ نہ ہوا۔ بڑے تحمل سے راجہ پرویز اشرف کو وزیراعظم چن لیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے پانچ سال کا عہد حکمرانی مکمل کر لیا۔ 2017 میں وزیراعظم نواز شریف، اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے گناہ کبیرہ کے سبب، عمر بھر کے لئے سیاست بدر کر دیے گئے۔ ہر طرف سے حملہ آور ہوتی منہ زور آندھیوں کے باوجود مسلم لیگ (ن) کا کوئی ایک رکن اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ کسی کا ”دہن“ ”دہانے“ میں نہ بدلا۔ کسی نے کسی کو گالی دی نہ اس کی آنے والی نسلوں کو کوسنے۔ شاہد خاقان عباسی قائد ایوان چن لئے گئے۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنی پانچ سالہ مدت اقتدار مکمل کر لی۔ آج مشکل میں کھڑی تحریک انصاف ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟
اسکے دو بڑے اسباب ہیں۔ پہلا یہ کہ پی ٹی آئی کو ایوان میں سادہ اکثریت حاصل نہیں۔ اس کی بیساکھیوں کو دیمک کھا چکی ہے۔ ان کی اپنی جماعت بند مٹھی میں ریت کی طرح ان کے ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ”منکرین“ یا ”مرتدین“ کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اب اس میں مسلم لیگ نون یا پیپلز پارٹی جیسی سکت نہیں رہی کہ وہ اپنا وزیر اعظم چن سکے۔ دوسری اور سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی یا نواز شریف کے متبادل تلاش کر لینا تو ایسا مشکل کام نہ تھا لیکن خان صاحب کا ”نعم البدل“ کوئی کہاں سے لائے۔ سو لگتا یہ ہے کہ خان صاحب گئے، تو پی ٹی آئی کی حکومت بھی گئی۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ وزیر اعظم عمران خان، ہر روز، صبح و شام طرح طرح کے اجلاس بلا رہے ہیں۔ بنی گالا سے ایک کارواں نکل رہا ہوتا ہے تو دوسرا دروازے پے کھڑا ہوتا ہے۔ لیکن خان صاحب اپنی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس نہیں بلا رہے؟ وجہ؟ صرف یہ کہ وہ ”172“ کی طلسماتی تعداد کہاں سے لائیں؟ ورنہ اپوزیشن کے شور شرابے کا توڑ یہی تھا کہ خان صاحب پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا کر 172 کی تعداد دکھا دیتے۔ نہ دس لاکھ کا مجمع لگانا پڑتا نہ آئین و قانون سے کھیلنے کی ضرورت محسوس ہوتی۔
اور ایک گزارش اپنے دیرینہ کرم فرما مولانا فضل الرحمن سے جن سے میرا برسوں کا رشتہ ارادت مندی ہے۔ میرا ایک فدویانہ اور عاجزانہ سا مشورہ ہے کہ جس طرح عزت ماب عمران خان نے اپنے جلسے کو ”امر بالمعروف“ کا نام دیا ہے اسی طرح حضرت، متحدہ اپوزیشن کے جلسے کو ”نہی عن المنکر“ کا نام دے دیں جو نہایت ہی بر محل اور بامعنی ہو گا۔
”گر قبول افتد زہے عز و شرف“
(بشکریہ: ہم سب)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleنصرت جاویدکا تجزیہ: اپوزیشن کا عجلت میں اٹھایا قدم
Next Article جسٹس فائز کا منحرف ارکان سے متعلق صدارتی ریفرنس کے بینچ پر تحفظات کا اظہار
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ڈیرہ اسماعیل خان ’’ امن میلہ ‘‘ میں خود کش دھماکہ : 12افراد ہلاک ، 35 زخمی

ستمبر 26, 2026

آج بابائے جمہوریت کی 23 ویں برسی ہے

ستمبر 26, 2026

سید مجاہد علی کا تجزیہ : پی ٹی آئی لانگ مارچ کا التوا ، عطا تارڑ اور سہیل آفریدی کی تکرار

ستمبر 26, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ڈیرہ اسماعیل خان ’’ امن میلہ ‘‘ میں خود کش دھماکہ : 12افراد ہلاک ، 35 زخمی ستمبر 26, 2026
  • آج بابائے جمہوریت کی 23 ویں برسی ہے ستمبر 26, 2026
  • سید مجاہد علی کا تجزیہ : پی ٹی آئی لانگ مارچ کا التوا ، عطا تارڑ اور سہیل آفریدی کی تکرار ستمبر 26, 2026
  • پیٹرول میں اضافہ مسلسل جاری : آج 391 روپے 30 پیسے لیٹر ملے گا ستمبر 26, 2026
  • پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ ستمبر 25, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.