کرکٹ اور جوئے کا چولی دامن کا ساتھ ہے. آئی سی سی سمیت رکن ممالک کے سخت اقدامات کے باوجود جوا جاری ہے. اس مرتبہ تو لائیو اسٹریمنگ پر پی سی بی پارٹنر نے آفیشل جوا کرادیا ہے. یہ الگ بات ہے کہ پی سی بی اس سے اپنے تعلق سے انکاری ہے لیکن وضاحتی بیان میں ایسے عمل کے ہونے کا انکشاف موجود ہے.
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایسی رپورٹ کی مکمل تردید کی ہے کہ پی سی بی نے ایک برطانوی کمپنی کو بیٹنگ رائٹس فروخت کیے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اس الزام کو مکمل طور پر رد اور مسترد کرتے ہوئے واضح کرنا چاہتا ہے کہ اس نے بیٹنگ رائٹس سے متعلق نہ کسی سے کوئی رابطہ یا معاہدہ کیا اور نہ ہی اس کے کسی بھی کمرشل پارٹنر کو کسی بھی صورتحال میں بیٹنگ رائٹس سے متعلق کسی بھی کمپنی سے کوئی معاہدہ یا رابطہ کرنے کی اجازت ہے۔
حقائق یہ ہیں کہ پی ایس ایل کے تین ایڈیشنز (2019 تا 2021) کی پاکستان سے باہر لائیو اسٹریمنگ کے حقوق ایک بین الاقومی کمپنی کے پاس ہیں۔ اس میڈیا پارٹنر نے منظوری کے لیے ایک مقررہ عمل سے گزرے بغیر ایک بیٹنگ کمپنی کو پی ایس ایل کی لائیو اسٹریمنگ کے حقوق فراہم کردئیے۔ جیسے ہی معاملہ پی سی بی کے نوٹس میں آیا ویسے ہی پی سی بی نے میڈیا پارٹنر سے رابطہ قائم کیا اور اس حوالے سے تبادلہ خیال جاری ہے۔
جمعہ, ستمبر 11, 2026
تازہ خبریں:
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘

