واشنگٹن : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے عالمی برادری بالخصوص امریکا سے اپیل کی ہے کہ وہ جمہوریت، انسانی حقوق، علاقائی استحکام اور انصاف کی فراہمی کے لیے مدد کرے۔
ٹائم میگزین میں اپنے نام سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں جیل میں قید سابق وزیر اعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی ’سیاسی واپسی‘ پر مبارک باد دی اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکا پاکستان کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے، استحکام کو فروغ دینے، تنازعات اور انتہا پسندی کا باعث بننے والے حالات کی روک تھام کے لیے کام کرے گا۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ مضمون واقعی عمران خان نے لکھا تھا، اور یہ میگزین کو کیسے پہنچایا گیا تھا۔
عمران خان نے پاکستان میں ’سیاسی افراتفری‘ اور جمہوریت کے لیے اپنی جاری لڑائی پر روشنی ڈالی، انہوں نے ملک میں جمہوریت کے مبینہ زوال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ دور کو ملکی تاریخ کا سب سے مشکل دور قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قید اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات جمہوری اصولوں کے لیے ان کی وکالت کو دبانے کی سیاسی محرکات پر مبنی کوششیں ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جدوجہد ذاتی نہیں بلکہ انہوں نے جمہوریت کے وسیع تر مسئلے کو حل کیا، جس کے نا صرف ملک بلکہ علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے بھی دور رس نتائج مرتب ہوئے۔پاکستان کی تذویراتی اہمیت کے پیش نظر عمران خان نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو اس بحران سے نمٹنے کی فوری ضرورت کو تسلیم کرنا چاہیے۔
طویل آرٹیکل میں عمران خان نے پی ٹی آئی کیخلاف کریک ڈاؤن، عہدیداروں اور کارکنوں کی گرفتاریوں سمیت کئی امور پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی ہے۔
انسداد دہشت گردی کی کوششیں
دہشت گردی کے معاملے پر عمران خان نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے خلاف سیاسی انتقام کے لیے انسداد دہشتگردی کی اہم کوششوں سے وسائل کا رخ موڑ رہی ہے۔خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے علاقے، جہاں دہشتگردی کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، کو ’سیاسی مخالفین کے خلاف فوجی مہمات‘ کے حق میں نظر انداز کیا گیا۔عمران خان نے الزام لگایا کہ عدلیہ کو سیاسی ظلم و ستم کا آلہ بنا دیا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جیسے جیسے ہم آگے بڑھ رہے ہیں، پاکستان کے بارے میں اپنے وژن پر قائم ہوں، جو انصاف، مواقع اور مساوات پر مبنی ہے، آگے کا راستہ مشکل ہو گا لیکن مجھے کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے عوام اپنے عزم میں متحد ہو کر ان چیلنجز پر قابو پا لیں گے۔
دوہرے معیار کی مذمت
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین عرفان صدیقی نے ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے بارے میں پیش گوئی کرنا ناممکن ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نے کہا کہ پارٹی اتحاد کی تجویز دے رہی ہے، جب کہ اس کے ساتھ ساتھ سول نافرمانی کا مطالبہ کر رہی ہے، خطوط بھیج رہی ہے اور ٹائم میگزین میں ’دھماکا خیز‘ مضامین شائع کرا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ مذاکرات کے دوران آپشنز پیش کرنا ناممکن ہے، کیوں کہ انہوں نے کسی بھی فورم پر ان کا جائزہ نہیں لیا بلکہ ان کے فیصلے براہ راست عمران خان کی طرف سے آئے ہیں۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

