کراچی: کمرشل امپوٹرز نے زرمبادلہ نہ ملنے کے مسائل کی وجہ سے 25 جون کے بعد کھانے پینے والی تمام مصنوعات کی امپورٹ بند کرنے کا اعلان کیا ہے.
کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری فرحت صدیق نے اپنے ممبران کے نام اعلان میں بتایا ہے کہ تمام بینک امپورٹرز کو ڈالر دینے سے انکاری ہیں اس لئے ایسوسی ایشن کی ایک اہم میٹنگ میں تمام امپورٹرز اور انڈینٹر نے شرکت کی.
میٹنگ میں تفصیلی بحث و مباحثے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام امپورٹر اپنے انڈینٹر کو بتادیں کہ 25 جون کے بعد کوئی شپمنٹ روانہ نہ کی جائے، اس وقت جو مال پورٹ پر پہنچ چکا ہے یا راستے میں ہے امپورٹرز اس کی کلیئرنس کے ذمہ دار ہیں،25 جون کے بعد اگر کوئی بھی شپمنٹ کرائی گئی تو اس کی کلیئرنس کی ذمہ داری امپورٹرز پر نہیں ہوگی.
امپورٹرز کا کہنا ہے کہ اس وقت زر مبادلہ کے مسائل کی وجہ سے ہزاروں کنیٹنرز پورٹس پر پھنسے ہیں ان پر جرمانہ اور چارجز پڑ رہے ہیں. اسٹیٹ بینک ان کیلئے زر مبادلہ فراہم نہیں کر رہا، اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں کھانے پینے کی اشیاء کا بحران پیدا ہو جائے گا، اسٹیٹ بینک کی پالیسی سے کاروبار، معیشت اور ملک کو بے تحاشا نقصان ہورہا ہے۔
( بشکریہ : جنگ نیوز )
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

