اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو 27 جون کو سنایا جائیگا۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس کے جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں سزا معطلی اورمرکزی ایپلوں پرسماعت کی جس سلسلے میں خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے دلائل دیے۔
زاہد آصف نے سزا معطلی کی درخواست کی مخالفت کر تے ہوئے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ اپیل کنندگان کا کیس سزا معطلی کا ہے یا نہیں، اپیل کنندہ کے وکلا نے خاور مانیکا کیلئےجھوٹا شخص کے الفاظ استعمال کیے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ مفتی سعید، خاورمانیکا، عمران خان اور بشری بی بی میں سے جھوٹا کون ہے؟
وکیل نے کہا کہ جو انٹرویو چلایا گیا ہے اس کے حقائق توڑ موڑ کر پیش کیے گئے، خاور مانیکا کے بیٹے نے اسی انٹرویو میں کہا بانی پی ٹی آئی کا نکاح بشریٰ بی بی سے نہیں ہوا،یہ جھوٹا الزام ہے۔
دوران سماعت جج افضل مجوکا نے خاور مانیکا کے وکیل سے کہا کہ اپیل کنندگان کہتے ہیں چلہ کروایا گیا جس کے بعد شکایت دائر ہوئی اس پر بتائیں، بدنیتی کا تعلق حالات و واقعات سے ہوتا ہے، کیا گرفتاری کے بعد ایسے حالات نہیں تھے؟ اس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی نہیں ایسے حالات نہیں تھے ایک تحقیقاتی ادارے کی جانب سے تفتیش کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔
جج نے سوال کیا جب شکایت واپس لی گئی تو کیس بریت کا بنتا ہے جج صاحب نے کیا لکھا؟ کیا جو پہلے والی شکایت واپس لی گئی تو چارج فریم ہوا تھا کہ نہیں، اور اس کیس میں فراڈ کیا ہوا یہ بتائیں؟ کیا کوئی پریشر یا دھمکی تھی کہ خاور مانیکا اگر شکایت درج کریں گے تو نتائج ہوں گے؟
اس پر وکیل زاہد آصف نے کہا کہ میں نے وہ فیصلہ نہیں پڑھا مگر اس کی ضرورت نہیں تھی، دھرنا اور بانی پی ٹی آئی کے وزیراعظم بننے کے حالات سامنے ہیں، کیا ایک عام آدمی جو ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہو وہ وزیراعظم سے ٹکر لے سکتا ہے؟بعد ازاں جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو 27 جون کو دن 3 بجے سنایا جائے گا۔
(بشکریہ روزنامہ ایکسپریس)
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار

