کسی بھی معاشرے کی تعمیر وترقی اس معاشرے کے لوگوں کے رویوں ،ماحول اور وہاں کے قانون کی پاسداری سے ہی تشکیل پاتی ہے۔ اگر افراد اچھا رویہ اختیار کریں اور لوگوں کا آپس میں پیار محبت اور اچھے تعلقات ہوں تو وہ معاشرہ ترقی کے منازل بآسانی طے کر تے ہوئے ترقی کی چوٹی پر نظر آتا ہے، اور اگر معاشرے کے لوگوں کا رویہ برا ہوگا اور وہاں پر معاشرتی اقدار اور قانون کی پاسداری نہیں ہو گی تو وہ معاشرہ لوگوں کے لئے اور ملک کے لئے تکلیف دہ ہو جائے گا جہاں پر سانس لینا بھی دوبھر ہو گا۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا راز اس علاقے کے لاء اینڈ آرڈر پر ہوتا ہے کیونکہ ہر معاشرے کے رسم و رواج کے ساتھ ساتھ کچھ قانون بھی ہوتے ہیں۔ رسم و رواج کی پاسداری تو سب ہی کرتے ہیں چاہے وہ دنیا والوں کے دکھاوے کے لئے ہو لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ قوانین کا احترام معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے ، خواہ فرد کا تعلق حکمران طبقے سے ہو یا وہ عام شہری ہو ۔ عدل و انصاف پر مبنی معاشرے میں کوئی بھی فرد یا گروہ قانون سے بالاتر نہیں ہوتا۔ اگر معاشرے مین قانون کی عملداری نہیں ہو گی تو قانون کا احترام مفقود ہو گا، ایسا معاشرہ کبھی بھی انسانی قدروں کا حامل نہیں بن سکتا معاشرہ ہمیشہ فرد سے بنتا ہے اور فرد کی تربیت کا انحصار والدین اور اساتذہ کی تربیت پر ہوتا ہے اگر معاشرے کے اساتذہ کا رویہ درست نہیں ہو گا تو معاشرہ کیسے تشکیل پا سکتا ہے؟ آپ کو سن کر افسوس ہو گا کہ جن اساتذہ کرام کو معاشرے میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جو نئی نسل کی کامیابی اور شخصیت بنانے کے ضامن ہوتے ہیں ان کی نظر میں بھی قانون کی پاسداری کی کوئی اہمیت نہیں۔ گزشتہ دنوں ایک ٹیچر سے بات ہوئی تو ان کے خیالات سن کر افسوس ہوا کہ اگر استاد جو اپنے طلباء و طالبات کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں وہ بھی قانون کی پاسداری کے بارے میں منفی خیالات رکھتے ہیں تو ان کی تربیت یافتہ نئی نسل کیسی ہو گی؟ جہاں پر لاقانونیت کے نتجیے میں انارکی ، تشدد ، کمزوروں کا استحصال اور ظلم و بربریت معاشرے کا حصہ بن جاتی ہے اور وہ معاشرہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے ،یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ جب کوئی قانون بنتا ہے تو ہمارے معاشرے کا ہر فرد چاہے وہ سٹوڈنٹ ہو ، ٹیچر ہو، حکمران یا افسر ۔وہ قانون شکنی پر فخر محسوس کرتے ہیں جیسے یہ قانون ان کے لئے بنا ہی نہیں اور اس بات پر ان کو پچھتاوا اور شرمندگی بھی نہیں ہوتی اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کے اسباب کیا ہیں اس بارے میں نوائے وقت کے سنیئر جرنلسٹ سعید آسی سے گفتگو ہوئی جس میں مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا،انہوں نے اس مسئلہ کے اسباب اور اس کے حل کے بارے میں کچھ تجاویز بھی دیں سعید آسی کا کہنا ہے کہ ان مسائل کی وجہ لوگوں کی قانون سے لا علمی ،غربت ، حصول معاش کا نہ ہونا اور فرسٹریشن ہے۔ زیادہ تر لوگ اس طرح حکومت کے خلاف احتجاج کی صورت میں اپنا غصہ نکالتے ہیں ۔
ہفتہ, اگست 8, 2026
تازہ خبریں:
- ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر ۔۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- عمران خان کی قید : حالات بہتر نہیں ہوں گے ۔سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کراچی میں سوا سال کی بچی زیادتی کے نتیجے میں دم توڑ گئی
- آزاد کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد ’دو ہندسوں‘ میں، ایکشن کمیٹی کو ’انڈیا کی حمایت‘ حاصل ہے: رانا ثنا اللہ
- ہوئی نجات سفر میں فریب صحرا سے : وجاہت مسعود کا کالم
- کیا ریفرنڈم نئے صوبوں کی راہ ہموار کر دے گا : نصرت جاوید کا کالم
- میں، روزنامہ ’کالک‘ اور ’عدم جونئیر‘ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- سوات : تھانے کے باہر خودکش دھماکا۔۔ امن مظاہرے میں شریک 14 افراد ہلاک ۔۔ 15 سے زیادہ زخمی
- انکل انکل اگلی لاٹھی کب مارو گے؟ وسعت اللہ خان کا کالم
- محسن نقوی ریٹائر ہوں گے یا صدر بنیں گے؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ

