چوک گھنٹہ گھر ملتان میں اچانک ایک خوبصورت دراز قد کلین شیو نوجوان نمودار ہوا، قلیل تعداد میں جمع سیاسی کارکنوں کے درمیان آکر مارشل لاء اور جنرل ضیاء الحق کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے اور خود کو گرفتاری کے لئے پیش کر دیا۔پولیس اسے قریبی تھانے پرانی کوتوالی لے گئی اور حوالات میں بند کردیا۔
حوالات تھانے کے مرکزی دروازے کے بالکل سامنے تھی کوٹلہ تولے خان کی گلی سے ایک سفید کار نکلی جو ڈریم لینڈ سینما کے سامنے سے ہوتی ہوئی عین تھانے کے دروازے پر آکر رکی۔
اس کار کی پچھلی نشست پربیٹھی ایک نوجوان لڑکی نے اپنی سیاہ چادر کا نقاب نیچے کیا اور حوالات میں مقید نوجوان کی طرف منہ کر کے دونوں ہاتھوں کو اپنے لبوں پر لا کر ایک فلائنگ کس کی، دوسری طرف حوالاتی نے اس عمل کو دہراتے ہوئے کار میں بیٹھی لڑکی کو فلائنگ کس کی ، اس کے بعد وہ کار منظر سے غائب ہو گئی اور دروازے پر تعینات سپاہی نے مرکزی دروازہ بند کر دیا، معلوم ہوا کہ نوجوان اسی کار میں لڑکی کے ساتھ چوک میں گرفتاری کے لئے پہنچا تھا۔
ایسی رومانوی اور افسانوی گرفتاری کا منظر شاید ہی کسی نے دیکھا ہو۔
گرفتاری دینے والا نوجوان معروف ،دانشور اور خطے کی باغ و بہار شخصیت حسن رضا گردیزی کا بیٹا حیدر عباس گردیزی تھا اور اس کو گرفتاری کے لئے رخصت کر نے آنے والی لڑکی اس کی اہلیہ اور پاکستان کے نامور ترقی پسند سیاستدان قسور گردیزی مرحوم کی بیٹی تھی۔
80 کی دہائی میں مارشل لاء کے خلاف شروع ہونے والی بحالی جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی میں مرکزی قیادت کی طرف سے سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں پیش کر نے کا فیصلہ ہوا تو ملتان سے ایم اے گوہیر، صفدر عباس کھاکھی ، سجاد حیدر زیدی ایڈووکیٹ، صفدر سمیجہ، غلام غوث تلمبوی اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے چوک گھنٹہ گھر میں خود کو گرفتاری کے لئے پیش کیا۔ تحریک میں تسلسل قائم رکھنے کے لیے حیدر عباس گردیزی جو اس وقت کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہ تھے نے رضاکارانہ طور پر جمہوریت پسند ہونے کی وجہ سے گرفتاری پیش کرنے کا اعلان کیا۔
حیدر عباس گردیزی بعد ازاں پیپلزپارٹی سے منسلک ہوئے ، انہیں نہ صرف محترمہ بینظیر بھٹو کی میزبانی کا شرف حاصل رہا بلکہ جہانگیر بدر تو ایک لمبا عرصہ جب بھی ملتان آتے انہی کے مہمان ہوتے۔
مجھے یاد ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے جنوبی پنجاب کے مسائل پر سیمینار سے خطاب کے بعد ملتان کے دانشوروں سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تو ڈاکٹر انوار احمد، مبارک مجوکہ ، صلاح الدین حیدر اور دیگر دانشوروں اور ماہرین تعلیم کی حیدر گردیزی کے گھر ہی ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔اس نشست میں جدید عالمی نظام تعلیم اور پاکستانی نظام تعلیم پر بڑی اہم گفتگو ہوئی۔ اس نشست کے بعد کچھ دانشوروں کو محترمہ کی علمی فہم و فراست، وسیع مطالعہ اور ویژن کا اندازہ بھی ہوا جو ان کو سطحی قسم کی سیاسی لیڈر سمجھتے تھے۔حیدر گردیزی اس ملاقات پر انتہائی خوش تھے کہ اس کی لیڈر نے خطے کے دانشوروں کو اپنی سیاسی بصیرت سے متاثر کیا۔
پھر سینیٹ کے ایک الیکشن میں جب وہ پارٹی ٹکٹ کے خواہش مند تھے تو میں نے انہیں دل گرفتہ دیکھا کیونکہ تمام مرکزی رہنما ان سے آنکھیں چرا رہے تھے ایک ڈاکٹر انوار احمد تھے جو اپنی دسترس میں موجود لوگوں کو کہہ رہے تھے کہ حیدر کے ٹکٹ کے لئے کوشش کریں وہ ایوان بالا میں محروم طبقات کی آواز بننا چاہتا ہے لیکن پارٹی نے انہیں ٹکٹ سے محروم رکھا شاید اس وقت ملتان کے ایک سابقہ مئیر کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔لیکن اس کے باوجود اپنی باوفا طبیعت کی وجہ سے وہ مرتے دم تک پیپلزپارٹی سے منسلک رہے۔
مجھے حیدر عباس گردیزی کی انسان دوستی، وسیع مطالعہ اور معاشرتی ناہمواری کے خلاف جدوجہد نے ہمیشہ متاثر کیا وہ ایک نفیس اور نرم گو انسان تھے جو اپنے نظریات میں اٹل تھے لیکن نظریاتی بحث میں کسی کی دل آزاری نہ کرتے۔
میں جب بھی ان سے ملتا تو ان کی گرفتاری کے وقت ہونے والی فلائنگ کس کا تذکرہ ضرور کرتا اس وقت ان کے چہرے پر سرخی اور آنکھوں میں ایک مخصوص چمک آ جاتی۔ہر ملاقات میں ایک شاہکار جملہ ضرور کہتے جس کی چس ایک لمبا عرصہ رہتی۔مجھے ہمیشہ شیخ جی کہہ کر مخاطب ہوتے۔۔ اکثر جب ملنے آتے اور میں موجود نہ ہوتا تو اپنے سہ رنگ وزٹنگ کارڈ کی پشت پر درج ذیل شعر لکھ کر چھوڑ جاتے۔
ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے
کسے سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھے
وبائی عفریت کرونا نے جہاں بےشمار دوستوں کو ہم سے جدا کیا وہاں یہ عفریت ایک عظیم دوست اور وسیب کے اہم دانشور اور سیاسی رہنما حیدر عباس گردیزی کو بھی ہم سے چھین کر لے گئی۔سوچتا ہوں کہ اس موذی بیماری کے دوران محفلوں کی رونق یہ دوست کس طرح تن تنہا اس بیماری سے لڑا ہو گا؟ معلوم ہوا کہ حیدر عباس کی اہلیہ بھی ان کے ساتھ کرونا کا شکار ہوئیں وہ بھی اس وقت اسی ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔ہو سکتا ہے ہماری بھابھی نے دور سے اسے ایک ہوائی بوسہ لے کر اسے حوصلہ دیا ہو اور وینٹیلیٹر کی وجہ سے اس دفعہ وہ جواب نہ دے پایا ہو لیکن اس کی دم توڑتی آنکھوں نے تو جواب دیا ہو گا۔پہلے وہ جیل روانگی پر اس کے ہمراہ تھیں اور اب سفر آخرت پر روانگی کے وقت بھی اس کے قریب تھیں اور بے بس تھیں۔۔
میں اس کی تدفین کے مراحل میں تو موجود نہ تھا لیکن جب میں اس کی آخری آرام گاہ پر فاتحہ کے لئے پہنچا تو دور سے ایک ھوائی بوسہ قبر کی کی طرف اچھالا ایک لمحے کے لیے تو ایسا لگا کی جواب آیا اور آواز بھی آئی کہ کتھے رہ گئے سی شیخ جی۔۔۔۔
جمعرات, ستمبر 10, 2026
تازہ خبریں:
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا

