ملتان / گوجرانوالا ۔۔ڈائریکٹر جنرل پروونشیل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے ) پنجاب نے کہا ہے کہ پنجاب کے تین دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے، اگلے 12 گھنٹے میں دوسرا ریلہ ہیڈ محمد والا پہنچ جائے گا، مون سون کے اگلے اسپیل میں بارشوں سے سیلاب زدگان کی بحالی کا آپریشن متاثر ہوگا، اب تک سیلاب کے باعث 51 اموات ہو چکی ہیں۔
گوجرانوالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ یہ پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے، پنجاب کے تین دریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار ہے، دریائےستلج میں اس وقت 3لاکھ سےزائد کیوسک پانی کا بہاؤ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دریائے چناب نے سب سے زیادہ نقصان کیا، بروقت شگاف ڈال کرآبادیوں کو بچا یا گیا۔ مون سون کادسواں اسپیل6 سے 9 ستمبر تک جاری رہےگا، جس کے تحت ہونے والی بارشوں سے سیلاب زدگان کی بحالی کا آپریشن متاثر ہوگا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ اگلے 12گھنٹےمیں دوسرا ریلہ ہیڈ محمد والا پہنچ جائے گا، بھارت میں دریائے راوی پر بنائےگئے مادھوپور ڈیم کے 4 پشتے ٹوٹنے سے پنجاب میں پانی داخل ہوتا رہے گا۔
دوسری جانب بھارت نے دریائے ستلج میں ایک اور سیلابی ریلا چھوڑنے سے متعلق پاکستان کو آگاہ کر دیا۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر انتہائی اونچے اور ہیڈ سلیمان کی پر اونچے، راوی میں ہیڈ سدھنائی اور بلوکی پر بہت اونچے اور دریائے چناب میں چنیوٹ کے مقام پر بھی بہت اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ہیڈ پنجند پر لیاقت پور کے علاقے میں پانی کی سطح میں اضافے سے کئی علاقے زیر آب آگئے
سیلاب سے اب تک پنجاب کے 3900 دیہات ڈوب چکے ہیں، گنڈا سنگھ والا کے مقام پر فصلیں پانی میں ڈوب گئيں، گھروں کو نقصان پہنچا، متاثرین مویشیوں کے ساتھ سڑک پر آگئے۔بلوکی کے مقام پر بھی سیلاب میں گھرے لوگ پریشان ہیں، مزید دیہات زیر آب آنے کا خدشہ ہے، پنجاب میں سیلاب سے اب تک 39 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں، 18 ہزار کو محفوط مقامات پر منتقل کیا گیا، 4 ہزار دیہات ڈوب چکے، کم و بیش 50 افراد جاں بحق ہوئے۔
ڈیرہ غازی خان اور تونسہ میں کچے کے علاقے میں سیلاب کے ساتھ کٹاؤ کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا جس سے متاثرین کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔انتظامیہ کے مطابق تونسہ کے مقام پر دریائے سندھ میں 2 لاکھ 40 ہزار کیوسک جبکہ غازی گھاٹ کے مقام پر ڈھائی لاکھ کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔
تونسہ کے کچے کے علاقے مور جھنگی اور بیٹ لدھا میں کٹاؤ دوبارہ شروع ہوگیا ہے جس سے زرعی اراضی دریا برد ہونا شروع ہوا ہے تونسہ کے متاثرہ علاقے بیٹ اشرف، یونین کونسل ڈونہ میں سیلابی پانی کھڑا ہے آمدورفت کے لیے کشتیوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔
ڈی جی خان کے علاقے دراہمہ اور تحصیل کوٹ چھٹہ کے کچے میں بھی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
بھارت نے پھر پانی چھوڑ دیا : اگلے 12 گھنٹوں میں ہیڈ محمد والا سے دوسرا ریلا گزرے گا
ایڈیٹر20 Views

