یہ خوش فہم لوگ بھی خوب ہوتے ہیں ۔سمجھتے ہیں کہ ان کے بغیر یہ دنیا ادھوری ہے۔سمجھتے ہیں کہ یہ اگرنہ ہوں گے توجیسے کاروبار دنیا ہی رک جائے گا۔ ہم جیسے لوگ،بالکل ہم جیسے ،کہ جنہیں کوئی اگریہ کہہ دے کہ سنو میں تمہارے آس پاس ہوں ،خوشبو کی طرح تمہارے چارسُو موجودہوں توہم یہ سوچتے ساری عمر گزاردیں کہ ہمارے چارسُومحبت ،عقیدت کاپہرہ ہے۔کوئی نہیں جو توڑسکے اس حصار کو،اورکوئی نہیں جوجھٹک سکے اس خیال کو ۔بس خوش فہمی ہی خوش فہمی بلکہ خوش فہمی کی انتہااورایسی انتہا کہ جب دکھ بھی بھرپوروار کرے اوراپنی انتہاؤ ں پرہوتوایسے میں یہی خوش فہمی یاخیال ایک مضبوط سہارے کی طرح تھامے رکھے ۔خواہ گردش دوراں کی دھوپ میں پھرجسم وجاں ہی کیوں نہ پگھل جائیں یارگ جاں سے خون تک نچوڑاجارہاہوتوایسے میں بس اک خیال اورایک آسراہی توہوتاہے ناخوش فہم لوگوں کو محبت کا۔اوریہ آسرا سب دکھوں پرحاوی ہوتاہے ۔بھلاکوئی بتاسکتاہے کہ اس خوش فہمی میں صرف خوش فہم لوگ ہی قصوروار ہوتے ہیں یاپھر خوش فہمی کااحساس دلانے والوں کابھی کوئی قصور ہوتاہے ؟حقیقت یہ ہے کہ یہ خوش فہمی پیداکرنے والے تو بے قصور ہوتےہیں ۔ یہ تو معمول کی زندگی جی رہے ہوتے ہیں ۔ان کی خوشیوں ،مشاغل اورروزمرہ کے معمولات میں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔انہیں تواس سے کوئی غرض ہی نہیں ہوتی کہ جن کی زندگی انہوں نے اپنی باتوں سے اجیرن کی ،اپنے چند لفظوں سے جن کی نیندیں ،بھوک ،اورلمحہ لمحہ کی خوشی تک چھین لی وہ کس حال میں ہیں ؟ ہاں یہ لوگ خودمزے کی نیند سوئے ،اپنے لمحے لمحے سے خوشیاں کشیدکرکے اپنی زندگی جیئے مگرخوش فہم لوگوں کو توایک پل بھی اپنی زندگی کانہ مل سکا۔اوراچھاہواکہ نہیں ملا۔مل جاتا توخوش فہمی ہی ختم ہوجاتی ۔اداسی اورویرانی ختم ہوجاتی ۔اداسی اورویرانی بھی تو کسی کے مقدرمیں ہونی چاہیے نا ۔۔ اگرہم جیسے خوش فہم اداسی اورویرانی کو گلے نہیں لگائیں گے تو پھر اس کاکون پرسان حال ہوگا؟غالب نے کہاتھا
اُ گ رہاہے درودیوار پہ سبزہ غالب
ہم بیاباں میں ہیں اورگھرمیں بہارآئی ہے
آئی ہوگی مرزاغالب کے گھرمیں بہار اورگئے ہوں گے وہ کسی بیاباں میں ، مگر ہم تو بیاباں میں بھی نہیں جاسکتے اوردرودیوار پرسبزہ بھی موجودنہیں۔ویرانی ایسی کہ اس میں فقط حیرانی ہے موجوں کی نہیں بس اشکوں کی روانی ہے ۔اورجب زندگی ہی نہیں توپھراس میں کسی کی کہانی بھلا کہاں سںے آسکتی ہے ۔ سوخوش فہمی کو سلامت رہنے دیں کہ آنکھوں کے سمندرمیں آشاﺅں کا پانی بھی تو اب ختم ہونے والا ہے ایسے میں بھلاکون لکھے
اک پیارکانغمہ ہے،موجوں کی روانی ہے
زندگی اورکچھ بھی نہیں تیری میری کہانی ہے
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

