اس کے دونوں پاؤں پر سفید پٹی بندھی تھی جس کے نیچے چھوٹے زخم،خراشیں اور آبلے تھے۔۔۔دونوں پاؤ ں کی سوزش کو ختم اور کم کرنے کی کوشش میں ان کو تکیوں کے سہارے اونچا کر کے رکھا ہوا تھا۔۔۔اس کے جسم پر جگہ جگہ سوئيوں کو چبھونے نشان ظاہر تھے جن پر نیلگوں اور جامنی اور اودے رنگ کے دھبے نظر آرہے تھے۔۔۔ بڑھے ہوۓ اور بکھرے ہوۓ بال ۔۔۔منہ سے نظر آتے پیلے دانت اور جگہ جگہ سے کالے مسوڑھے ۔۔۔۔کنپٹیوں اور رخساروں کے اندر کی طرف دھنسے ہونے سے وزن میں کمی کے آثار۔۔۔۔اس کی حالت ایسی تھی کہ بہن بھائی اور دوست احباب نہ جانے کب کا ساتھ چھوڑ کر جا چکے تھے۔۔
لیکن سفید چادر سر پر لیے درمیانی عمر کی متناسب جسامت اور چہرے پر ڈھیروں پریشانی اور ندامت لیے وہ ایک عورت اس کا سر کبھی گود میں رکھتی کبھی ٹھنڈے پانی کی پٹیاں اس کے سر پر۔۔۔وہ ٹوٹتے ہوۓ نشے اور بخار میں جلتے ہوۓ جسم کے اضطراب کو کم کرنے کی خاطر کبھی اس کی ٹانگيں دبانے لگتی اور کبھی کسی ڈاکٹر کو بلا لاتی۔۔۔۔بستر پر پڑا یہ بے بس اور بیمار آدمی اس حالت میں بھی وقتاً فوقتاً اس سے لڑ رہا تھا لیکن بظاہر کمزور جسم والی یہ عورت جس کے پاس اتنی جسمانی قوت تو ضرور تھی کہ اسے چھوڑ کر چلی جاۓ جیسے بارہا بار سرکاری ہسپتالوں میں اولاد والدین کو اور احباب ناکارہ بیمار رشتے دار کو لاوارث چھوڑ جاتے ہیں لیکن یہ عورت وفا اور محبت کی ڈور میں خود کو پابند کیے اپنا اور اپنے سے جسمانی طور پر کہیں بھاری بوجھ اپنے دل اور اپنے کاندھوں پر اٹھاۓ جیے جارہی ہے ۔۔۔خدمت کیے جارہی ہے۔۔۔صبح کے راونڈ میں شور کرنے سے منع کیا تو کہنے لگا مجھے باہر بھیجیں اور ٹھنڈا پانی پینے دیں میں چپ کر جاؤں گا۔۔میں نے اسے تسلی دی راونڈ کے بعد باہر بھیجوں گی لیکن بالکل چپ رہنا ہے اور اس بے چاری تمام رات تھکاوٹ کی ماری سے بھی نہیں لڑنا۔۔کہنے لگا میں بہت سمجھدار ہوں ڈرائيور جو رہا ہوں۔۔۔میں چپ رہوں گا۔۔۔راؤ نڈ کے بعد میں نے اسے جہاں جہاں ٹیسٹ کے لیے بھیجنا تھا بھیج دیا۔۔۔اس احساس کے ساتھ کہ اگر اس نے اتنی ہی سمجھداری سے اپنی زندگی کی گاڑی چلائی ہوتی تو اس عورت کی آنکھوں میں بھی زندگی کی جھلک ہوتی۔خوشی کی کوئی۔رمک ہوتی۔۔۔۔
Previous Articleمریم نواز کے بیٹے جنید اور اہلیہ عائشہ کے درمیان طلاق ہوگئی
Next Article عطا ء الحق قاسمی کا کالم:علاج کے لئے تشریف لائیں

