Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, ستمبر 9, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
  • ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
  • مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
  • سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
  • پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
  • صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی
  • پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
  • پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » کیا ایف سولہ کورونا کو مار سکتا ہے ؟۔۔ علی نقوی
تجزیے

کیا ایف سولہ کورونا کو مار سکتا ہے ؟۔۔ علی نقوی

ایڈیٹراپریل 11, 20209 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
f-16_fighting_falcon
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email
آج صبح سے پاکستانی میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ کنٹرول لائن پر بھارتی فوج اشتعال انگیزی کر رہی ہے اور پاکستانی آبادیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، انڈین میڈیا پر اس سے متعلق کوئی خبر میں تلاش کے باوجود نہیں ڈھونڈ سکا، ان دنوں جبکہ دنیا کے تقریباً ایک سو نوے ملک کرونا وائرس کی وجہ سے جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن ہیں اُس وقت ہم دو ملک اپنے بارڈرز پر یا اشتعال انگیزی میں مصروف ہیں یا منہ توڑ اور دندان شکن جواب دینے میں، یہ سب دیکھ اور سن کر دل کرتا ہے کہ انسان یہی دعا کرے کہ اس ذہنیت کے لوگ اگر کروناسے نہیں تو کسی بھی طرح نیست و نابود ضرور ہو جائیں..
آئیے کچھ اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہیں، پاکستان کا ڈیفینس بجٹ پاکستان کے GDP کا سولہ 16 فی صد ہے یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو آپکو گوگل کرنے پر حاصل ہوتے ہیں اور اگر آپ اسی گوگل سے پاکستان کا ہیلتھ بجٹ معلوم کرنے کی کوشش کریں تو وہ آپکو بتاتا ہے کہ پاکستان کا ہیلتھ بجٹ پاکستان کے GDP کا 2.6 فیصد ہے، جبکہ انڈیا کا ڈیفینس بجٹ انکے کل GDP کا 15.5 فیصد اور ہیلتھ بجٹ 3.89 فیصد ہے، میں چونکہ خود اکنامکس سے نا بلد ہوں اس لیے سامنے کی بات کرو ں گا کہ عام آدمی تک بات پہنچ جائے… میں یہ کہہ رہا ہوں کہ فرض کریں کہ اگر پاکستان کے پاس پورے سال میں خرچ کرنے کو سو روپے ہوں تو پاکستان ان سو روپوں میں سے سولہ روپے فوج پر اور جنگی ساز و سامان کی خریداری پر خرچ کرتا ہے جبکہ تقریباً اڑھائی روپے ہسپتالوں اور دیگر صحت سے متعلق معاملات پر خرچ کرتا ہے اسی طرح انڈیا سو روپے میں سے ساڑھے پندرہ روپے دفاع پر اور تقریباً چار روپے سے کچھ کم صحت پر خرچ کرتا ہے..
اگر ہم امریکہ بہادر کی بات کریں تو انکا ڈیفینس بجٹ 54 فیصد اور ہیلتھ کا بجٹ 18 فیصد ہے اگر سعودی عرب کی بات کریں تو وہ اپنے ہیلتھ کئیر پر 14.98 جبکہ ڈیفینس پر 33.57 فیصد پیسے سالانہ خرچ کرتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق 2017 میں دنیا کے دس بڑے طاقتور ملکوں نے 3615 بلین ڈالرز ڈیفینس جبکہ صرف 879 بلین ڈالرز صحت کے شعبے پر خرچ کیے..
آئیے اب یہ ساری بڑی بڑی باتیں ایک طرف رکھ کر ہم ایک عام گھر کی بات کرتے ہیں، اگر آپ کے گھر میں ایک بوڑھی والدہ ہوں، ایک بیمار بہن ہو اور چند چھوٹے چھوٹے بچے ہوں تو آپکو سب سے زیادہ فکر کس بات کی ہونی چاہیے انکی خوراک اور رہائش کی، انکی صحت و تعلیم کی یا انکی سیکورٹی کی؟ ان تمام میں سے ایک بھی چیز ایسی نہیں کہ جس کو نظر انداز کیا جا سکے لیکن اگر معاشی حالات برُے ہوں، وسائل محدود ہوں تو سب سے اہم مسئلہ افراد خانہ کو رہائش اور خوراک کی فراہمی اور اسکے بعد انکی دوا دارو ہوتا ہے، سیکورٹی تو شاید غریب کا مسئلہ ہوتی ہی نہیں ہے، ظاہر ہے گداگر کی جھونپڑی میں کس نے ڈاکہ ڈالنا ہے.. اگر میں آپکو ایک ایسے گھر کے سربراہ کا قصہ سناؤں کہ جس کے گھر کے بجلی اور گیس کے میٹر عدم ادائیگیوں کی وجہ سے اتر چکے ہوں، ماں دوا نہ ہونے کی وجہ سے درد سے بلبلا رہی ہو، قرض واپس مانگنے والوں نے دروازے بجا بجا کر توڑ دئیے ہوں، وہ جہاں جاتا ہو تو لوگ اس سے یہ سوچ کر کتراتے ہوں کہ کہیں پیسے نہ مانگ لے، ہمسائے اور دوست اسکی اسی شہرت کے باعث اس کے فون نہ اٹھاتے ہوں، بچوں کے نام سکول سے فیس نہ دینے کی وجہ سے کٹ چکے ہوں، گھر کا ہر فرد خوراک کی کمی کے باعث پژمردگی کا شکار ہو اور اس گھر کا سربراہ گھر میں موجود انتہائی محدود پیسوں سے کلاشنکوف اور مشین گن خرید لائے کیونکہ بچوں کی سیکورٹی اہم ہے تو جو آپکی رائے اس سربراہ گھرانہ کے بارے میں ہوگی وہی رائے میری ان تمام حکمرانوں اور فوجی سربراہان کے بارے میں ہے جو اس وقت ہماری گردن پر مسلط ہیں…
مشہور زمانہ جنگی طیارے F16 کی قیمت (12 بارہ) ملین ڈالرز سے شروع ہوتی ہے اور (35 پینتیس) ملین ڈالرز تک جاتی ہے اس وقت پاکستان کے پاس (32 بتیس) F16 جہاز ہیں اگر ہم ایک اوسطاً قیمت 18 ملین ڈالر بھی مان لیں (جو کہ بہت کم ہے) تو بھی یہ رقم کم و بیش سو ارب روپے کے قریب جا بنتی ہے…. اس وقت اگر آپ گوگل پر وینٹی لیٹر کی قیمت معلوم کرنے کی کوشش کریں تو اس وقت ایک وینٹی لیٹر تقریباً تیرہ ہزار ڈالر کا مل رہا ہے اور یہ قیمت اس وقت دنیا میں وینٹی لیٹر کی بے پناہ ڈیمانڈ کی وجہ تقریباً دو سے تین ہزار ڈالر تک بڑھی ہوئی ہے… ہم نے اپنے ہینڈ سم ترین وزیراعظم سے کئی بار سنا ہے کہ ایک شوکت خانم جیسا ہسپتال پانچ سے سات ارب روپے میں بن جاتا ہے یعنی کل ملا کر بات یہ ہے کہ ہم نے آج تک جو پیسے ایک صرف ایک جنگی ہتھیار F 16 خریدنے پر خرچ کیے اگر اتنے ہی پیسے ہیلتھ سیکٹر پر بھی خرچ کیے ہوتے تو آج ملک میں شوکت خانم ہسپتال جیسے اگر بیس نہیں تو چودہ ہسپتال یقیناً ہوتے اور ابھی یہ صرف ایک ہتھیار کی ایک محتاط ترین قیمت آپ کے سامنے رکھی گئی ہے اس میں ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ (71 اکہتر) F16 وہ ہیں کہ جن کا ہم نے بہت پرانا آرڈر دے رکھا ہے اور امریکہ ہمیں وہ F16 بوجوہ نہیں دے رہا اور یہ پاکستان اور امریکہ کے مابین 90s سے ایک متنازعہ معاملہ ہے کہ جس پر ہم اندر ہی اندر ناراض بھی رہتے ہیں…اب جا کر معلوم ہوا کہ ایف سولہ تو کورونا کو مار ہی نہیں سکتا ۔
یہ ایک ہتھیار ہے ابھی اگر آپ میزائیلوں پر خرچ ہونے والی رقوم، (JF 17) تھنڈر کہ جس کی ٹیکنالوجی ہم نے چائنہ سے حاصل کی کو بھی اس حساب میں شامل کریں تو ہوشربا اعداد ہمارے سامنے آئیں گے کہ جن کو لکھنا شاید بے وقوفی ہوگی…
ایٹم بم کہ جو ہمارا فخر ہے اس کے بارے میں ہم یہ سنتے آئے ہیں کہ جب بھٹو صاحب نے ایٹمی پروگرام شروع کرنے کا ارادہ کیا تو انکا نعرہ تھا کہ
” گھاس کھائیں گے ایٹم بم بنائیں گے”
یہ نعرہ ہی یہ بتا رہا ہے کہ اگر پاکستان جیسے ملک کو ایٹم بم بنانا ہے تو فاقہ کشی لازمی ہے… لیکن جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا ہے کہ یہ صرف ہمارا حال نہیں بلکہ پوری دنیا اسی پاگل پن کا شکار ہے
میں تو اس میں اور چیزوں کو بھی شامل کرتا ہوں مثلاً
Space Sciences
کیا خبط ہے انسان کو کہ وہ خلاؤں کو مسخر کرے، وہ کونسی سے افتاد ہے کہ جو آپ کو زمین پر ٹک کر نہیں بیٹھنے دیتی، آپ نے آج سے پچاس سال پہلے جھوٹا یا سچا چاند کا سفر کیا جس پر اس وقت اربوں کھربوں ڈالر آپ نے خرچ کیے ایسا کیا حاصل کیا کہ جس سے ایک عام انسان کی زندگی بہتر ہوئی؟؟ اگر اس ساری سرمایہ کاری (جو کہ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی پر کی گئی) کا ثمر ایک عام آدمی کے لیے صرف اتنا ہے کہ میں اپنے فون سے یورپ اور امریکہ میں بیٹھے دوستوں کو دیکھ اور سن سکتا ہوں یا آنے والے دنوں کے موسم کا حال معلوم کر سکتا ہوں تو مجھے اس انسانی ترقی پر شدید تحفظات ہیں، میں آج یہاں بیٹھ کر انتہائی سطحی، ناقص اور اسلامی سائنس پڑھ کر بھی یہ جانتا ہوں کہ مریخ رہنے کے قابل نہیں ہے تو کیا خارش ہے انسان کو کہ ٹریلینز آف ڈالرز لگا کر وہاں جائے جبکہ اعلان یہ ہے کہ واپسی نہیں ہوگی جو جائیں گے وہ واپس نہیں آ پائیں گے ارے بھائی یہاں اس زمین پر جہاں آپ معلوم دس ہزار سال سے آباد ہیں وہاں آپکی یہ حالت ہے کہ اس سائنسی دور میں آپ سے ایک بگڑا ہوا فلو نہیں سنبھالا جاتا اور اس نے پوری دنیا بند کر کے گھر بٹھا دی ہے، کیا آپ نے کبھی اجتماعی حیثیت میں یہ سوچا بھی تھا کہ آپ اس دور میں ایک فلو کے سامنے اتنے بے بس دکھائی دیں گے؟دنیا کا بڑے سے بڑا میزائل اس چار یا پانچ سو نینو میڑ کے وائرس کے آگے بے بس ہی نہیں بلکہ کمتر ترین ہے، اگر دنیا کے تمام فوجی لیس ہوکر بھی آ جائیں توبھی ایک کرونا سے متاثرہ شخص انکی نابودی کے لیے کافی ہے…
میری رائے میں انسان ہی اس زمین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اور خطرہ ہے جتنا نقصان اس ایک انسان نامی مخلوق نے اس سیارے کو پہنچایا ہے اگر باقی تمام مخلوقات جمع بھی ہوجائیں تب بھی وہ اس کا ایک فیصد نقصان اس سیارے کو نہیں پہنچا سکتیں، میں اپنی اس بات کی دلیل میں کتنی ہی ایسی باتیں گنوا سکتا ہوں جو شاید ہمارے لیے عام سی ہوں…
کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اس اکیلے انسان نے یہاں بیٹھ کر اوزون کی تہہ کو شگافتہ کر دیا ہے ، اس نے زمین میں ہزاروں فٹ اور سینکڑوں میٹر ڈرل کیے ہیں، اس نے پہاڑوں کو ڈائنامائٹ لگا کر ریزہ ریزہ کیا، اس نے آلودگی میں وہ اضافہ کیا کہ آج بحر الکاہل میں امریکی شہر ٹیکساس کے رقبے جتنی ایک انسانی فضلے کی دبیز تہہ بن چکی جو سمندری مخلوق کے لیے کسی کرونے سے کم نہیں، جس دن سے پلاسٹک نامی چیز اس انسان نے ایجاد کی اس دن سے لیکر آج تک آلودگی چالیس ہزار گنابڑھ چکی اور پلاسٹک سوائے انسان کے کسی اور مخلوق کے کام میں نہیں آتی،
ہر روز بحر اوقیانوس( Atlantic Ocean ) میں چار ہزار میٹرک ٹن فضلہ صرف برازیل ڈالتا ہے جسکی وجہ سے انٹار ٹکا کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، صرف انسانی زبان کا چسکا پورا کرنے کو جس تیزی سے جانوروں کی نسل کشُی کی جا رہی ہے وہ مجرمانہ فعل ہے، صرف فرانس میں ایک دن میں چھ سو نئی کھانے کی ڈشز ایجاد ہوتی ہیں نجانے وہ کون سے بھوک ہے جو ہر روز چھ سو نئی تراکیب کا تقاضا کرتی ہے، یہ بھوک نہیں انسانی زبان کا وہ چسکا اور چٹورا پن ہے جو اسکو ٹک کر نہیں بیٹھنے دیتا یہ سرمایہ دارانہ نظام کا وہ مکروہ چہرہ ہے کہ جس کو پلاسٹک سرجری کے بعد ہمارے سامنے پیش کیا گیا ہے، مرغ (چکن) پوری دنیا کے انسانوں کو مرغوب ہے ناپید ہوجاتا اسی لیے اس نے اس کو لیبارٹری میں بنا لیا لیکن پانڈہ نہیں بنایا، آسٹریلین گائے لیبارٹری میں بنائی وجہ دودھ کا حصول تھا لیکن ایسا کوئی جانور یا پرندہ لیبارٹری میں نہیں بنایا کہ جس سے انسان کو فائدہ نہ ہوتا ہو، کیا آپ میں سے کوئی دوست یہ بتا سکتا ہے کہ انسان کی لگائی ہوئی فیکٹریوں میں ایسا کتنا مال بنایا جاتا ہے جو دوسری مخلوقات کے فائدے کے لیے ہو؟؟
ہم اس سیارے پر استعمار ہیں ہم سے پہلے بھی یہاں جانور آباد تھے سائینس کہتی ہے کہ سیارے کی موجودہ عمر چار ارب سال ہے اور ابھی مزید اتنی ہی دیر یہ زندہ رہے گا لیکن آپ ذرا غور کریں کہ انسان آیا اور اس نے صرف دس ہزار سال میں اس زمین کا وہ حال کیا ہے کہ اب سائنس یہ کہتی ہے کہ سن 3000 انسان نہیں دیکھ پائے گا ٹیسلا کمپنی کے مالک Elon Reeve Musk کے مطابق اگر انسان کے انرجی کے ذخائر کا استعمال دماغ سے نہ کیا اور اسی رفتار سے سیارے کی بربادی جاری رہی، آلودگی اور دوسرے معاملات کا اگر سنجیدگی سے تدارک نہ کیا گیا تو سیارہ تو رہے گا لیکن سن 2779 تک یہاں انسانی زندگی ممکن نہ رہے گی اب اس بات میں کتنی سچائی ہے اس کا جواب Elon Musk ہی دے سکتے ہیں لیکن اگر ہم صرف پچھلے دس بارہ سالوں پر نظر ڈالیں تو بے تکے درجہ حرارت یعنی بے موسمی گرمی و سردی اور انکی نہ سمجھ میں آنے والی شدت اور کمی کے علاوہ سموگ سے لیکر لاہور جیسے میدانی علاقوں کی برف باری اور ڈینگی سے لیکر آج کے کرونے تک کیا سب کچھ ہماری آنکھیں کھولنے کو کافی نہیں ہے؟
انسان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ اس زمین پر شراکت دار ہے نہ کہ اس کا واحد مالک جو اس نے خود کو سمجھ لیا ہے اگر انسان خود کو اشرف المخلوقات سمجھتا ہے تو اس کو اس شرف کی ذمہ داری کا احساس اور باقی ہمسایہ مخلوقات کا احترام بھی کرنا چاہیے کیونکہ جنہوں نے اسکو بتایا کہ وہ مخلوقات میں اشرف ہے تو انہوں نے اسکو پودوں اور جانوروں کے حقوق کی بھی شدید تنبیہ کی ہے، ہر مقدس صحیفہ انسان کو یہی سمجھاتا رہا کہ جانوروں اور پودوں کے بھی حقوق ہیں اس سیارے پر جس پر تم عیاشی سے رہتے ہو اسکے بھی حقوق ہیں لیکن انسان نے یہ تو فوراً مان لیا کہ وہ اشرف المخلوقات ہے لیکن نہ دوسری مخلوقات کے حقوق مانے نہ اپنے فرائض ادا کیے…
آپکے اشرف المخلوقات ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ اس درخت کی شادابی سے کیا جائے گا جو آپکی رہائش کے ارد گرد لگا ہوا ہے، آپکو اشرف ہونے یا نہ ہونے کا سرٹیفکیٹ اس جانور کی صحت دے گی جو آپکے ماحول میں سانس لے رہا ہے نہ کہ وہ انسان جو آپ سے تعلق رکھتا ہو یا فائدہ حاصل کرتا ہو، ایک چینی کہاوت ہے کہ شکاری تب تک جیتتا رہے گا جب تک شیر لکھنا نہیں سیکھ لیتا…
میں کرونا کا شکر گزار ہوں کہ اس نے چند دن کے لیے ہی سہی زمین کو سانس لینے کی مہلت اس اشرف المخلوقات سے دلا دی، اس کا شکریہ کہ اس نے امیروں کو یہ بتایا کہ کسمپرسی اور لاچارگی کا مزہ کیسا ہوتا ہے، کرونا کی مہربانی کہ وہ کہ جو کبھی دس دن میں افغانستان کو کو برباد کرنے کی باتیں کرتے تھے انہیں یہ بتایا کہ پہلے اپنا ملک تو سنبھال لو، دنیا کے تمام لشکریوں کو انکی اوقات دکھائی، اگر کرونا ختم ہوگیا تو یہ ڈاکٹروں کی اور دوا ایجاد کرنے والوں کی جیت ہوگی کاش یہ جیت دنیا پر یہ واضح کردے کہ بشریت کی بقا اہل علم کے ہاتھ میں ہے کیونکہ ڈاکٹر ہو یا فارماسسٹ ہے عالم، کاش دنیا اس المیے سے نکلنے کے بعد اپنی باگ دوڑ اہل علم کے ہاتھوں میں دے نہ کہ اہل لشکر کے، کاش کرونا دنیا کو سکھا جائے کہ آپ جو بھی ہیں جتنے بھی عظیم لشکر کے سپہ سالار ہیں، ایک وائرس آپکی تمام عظمت کو دھڑام سے گرانے کے لیے کافی ہے..
میری رائے میں تو کرونا اس سیارے کے لیے وہ مہربان مہمان ہے کہ جس کی موجودگی میں ماں باپ بچے کی پٹائی نہیں کرتے لیکن اندر ہی اندر بچہ یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہا ہوتا ہے کہ اس مہمان کے جاتے ہی ماں باپ مجھے پھر سے پیٹ ڈالیں گے….
  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

ایف سولہ دفاعی بجٹ کورونا وائرس
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleکورونا زور پکڑ گیا :کراچی میں 11 یونین کونسلز سیل، پنجاب میں 74 نئے متاثرین، کُل تعداد 4975
Next Article سید مجاہد علی کا تجزیہ :کیا اسمبلیاں توڑ کر عمران خان کی ساکھ بحال ہو جائے گی ؟
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

پاکستان میں کورونا پھر اسپیڈ پکڑنے لگا، مثبت کیسز کی شرح 2 فیصد سے تجاوز

نومبر 11, 2025

ایم ایل ون منصوبے میں تاخیر، لاگت دگنی سے بھی زیادہ ہوگئی

جون 14, 2023

ملیکہ بخاری نے بھی تحریک انصاف چھوڑ دی: ذرائع

مئی 25, 2023

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ ستمبر 9, 2026
  • منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم ستمبر 8, 2026
  • ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت ستمبر 8, 2026
  • مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم ستمبر 8, 2026
  • حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘ ستمبر 8, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.