کراچی : وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کو کوک اسٹوڈیو کے لئے مومنہ مستحسن اور احد رضا میر کی آواز میں گایا ہوا ’کو کو کورینا۔۔‘ کا’ ری میک‘ورژن پسند نہیں آیا۔شیریں مزاری نے ٹوئیٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے :
’خوفناک! ایک عظیم کلاسک کو تباہ کر دیا گیا- کوک اسٹودیو نے اس کلاسک گانے کے اس طرح سے قتل عام کی اجازت آخر کیوں دی؟‘
تاہم مومنہ مستحسن نے جوابی ٹویٹ میں قدرے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شیریں مزاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب آپ ایک عوامی منصب پر فائز ہوں تو یہ محض سیاسی یا ذاتی بات نہیں رہتی بلکہ یہ مجموعی طور پر تمام ملک کیلئے ہوتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شیریں مزاری اب ملک کے تمام لوگوں کی نمائیندگی کر رہی ہیں نا کہ صرف اپنی یا پھر پاکستان تحریک انصاف کی۔ یہ وقت ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر اس قسم کی دھونس یا نفرت انگیز بات کے خلاف آواز اُٹھائیں۔ مومنہ نے اپنی ٹویٹ میں شیریں مزاری کو مشورہ دیا کہ وہ ایسا کرنے سے باز رہیں۔
مومنہ کی اس ٹویٹ کے بعد ٹویٹر پر ایک طویل بحث کا آغاز ہو گیا ہے اور اس کے حق میں اور مخالفت میں ٹویٹس کا سلسلہ جاری ہے۔
ان دنوں کوک اسٹوڈیو کا ’ سیزن 11 ‘ مختلف ٹی وی چینلز پر پیش کیا جارہا ہے ۔ اس سیزن میں احد رضامیر نے کو کو کورینا ۔۔‘ کے ساتھ ڈیبیو کیا ہے ۔’کوکو کورینا‘ گزشتہ جمعہ کو ریلیز کیا گیا تھا لیکن گانا شہرت نہ پاسکا اور سوشل میڈیا پر اسے تنقید کا نشانہ بنایاجارہا ہے۔ گانے کے ساتھ ساتھ احد رضامیر، مومنہ مستحسن، سیزن گیارہ کے پروڈیوسر زوہیب قاضی اور علی حمزہ کو ناظرین کی طرف سے ’کھری کھوٹی‘ سنائی جارہی ہے ۔
مومنہ مستحسن کوک اسٹوڈیو کے لئے اس سے قبل کئی شہرت یافتہ گانے گاچکی ہیں جن میں سے ایک ’آفریں، آفریں۔۔‘ ، نے ریکارڈ قائم کیا لیکن کئی اچھے گانے اپنے کریڈیٹ پر رکھنے والی مومنہ کے بارے میں سوشل میڈیا یوزرز کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ بہتر تھا وہ ’کوکو کورینا۔۔‘ گانے پر زیادہ اور اپنے اسٹائل پر کم توجہ دیتیں۔ ’
اس تنقید کی شاید ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوئی کہ یہ گانا پاکستان فلم انڈسٹری کے عروج کا بے مثال کارنامہ خیال کیا جاتا ہے جسے وحیدمراد جیسے شہرت یافتہ ایکٹر پر پکچرائز کیا گیا تھا جبکہ لیجنڈری سنگر تھے احمد رشدی۔بیشتر ٹوئیٹر صارفین کا کہنا ہے کہ ماضی کے شہرت یافتہ گانوں کا اس وقت تک ری میک ورژن تیار نہ کیا جائے جب تک اصل سے بہتر کوئی چیز نہ ہو۔ ‘
اتوار, نومبر 1, 2026
تازہ خبریں:
- فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گوجرانوالہ: ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم

