لاہو ر اور ملک بھر میں متعدد شاہرائیں عابد مجید کے نام سے منسوب ہیں لیکن عابد مجید کے کارنامے کسی نصاب کا حصہ نہیں۔ اعزازی تلوار پانے والے عابد مجید کا المیہ یہ تھا کہ وہ جنگ کی افراتفری میں زندہ رہ کر اس منصب تک نہیں پہنچ سکا جہاں کمانڈر کے سینوں پر تمغوں کے لیے جگہ باقی نہیں بچتی اور اسے میدان جنگ سے دور کسی روشن کمرے میں ریا کار صحافیوں کے سامنے کم عمر سپاہیوں کی موت کے اعداد و شمار بیان کرنا ہوتے ہیں۔
Browsing: وجاہت مسعود
کسی ملک میں تخلیقی سرگرمی کا معیار ناگزیر طور پر اجتماعی بندوبست کی توانائی سے بندھا ہے۔ ہم نے جو اجتماعی ذہن مرتب کیا ہے وہ تخلیقی صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں امریکا اور سوویت یونین میں فلم کے میدان میں کڑا مقابلہ رہا اور بازی امریکا کے ہاتھ رہی۔ وجہ یہ کہ سوویت یونین میں تخلیقی سرگرمی پر نظریاتی قبا اوڑھے ہوئے کم سواد ، خوشامدی اور جعل ساز اہلکاروں کا اجارہ تھا۔
زندہ قومیں اپنی تاریخ میں سنہ 71ء یاد رکھتی ہیں اور جنہیں زندگی سے تعلق نہ ہو وہ اپنا سنہ 71ء فراموش کر دیتے ہیں۔
ے شک خارجہ امور میں ہمیں قابل تعریف کامیابیاں ملی ہیں لیکن سمجھنا چاہیے کہ مطلق العنان ریاستیں خرابیوں سے توجہ بٹانے کے لیے خارجہ محاذ پر کامیابیوں کا ڈھول پیٹا کرتی ہیں۔
صاحبان ذی وقار کہتے ہیں کہ 2010 میں طے پانے والا قومی مالیاتی ایوارڈ نظرثانی کا محتاج ہے۔ یہ مالیاتی ایوارڈ اٹھارہویں آئینی ترمیم سے بندھا ہے جس میں ریاست نے 1973 میں کیا گیا صوبائی خود مختاری کا وعدہ 37 برس کی تاخیر سے پورا کیا تھا۔ ساتویں قومی فنانس ایوارڈ میں وفاق کا حصہ 43 فیصد اور صوبوں کا حصہ 57 فیصد کر دیا گیا۔
پاکستان میں آئندہ کئی نسلوں تک اسی طبقے کی ذریات حکومت کریں گی جس نے ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر ایسے وسائل جمع کر لیے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم دلا سکتے ہیں۔ ان بچوں کی بڑی تعداد پاکستان واپس نہیں آئے گی۔ جو تھوڑے بہت یہاں لوٹیں گے انہیں محمد شعیب، معین قریشی، شوکت عزیز اور باقر رضا جیسے موسمی پرندوں میں شمار کیجیے۔
پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آبادی دنیا میں پانچویں اور معیشت 40 ویں نمبر پر ہے۔ انسانی ترقی میں پاکستان 193 ملکوں میں 168 ویں نمبر پر ہے۔ 1574 ڈالر فی کس آمدنی کے ساتھ پاکستان 145 ممالک میں 121 ویں نمبر پر ہے۔
عبداللہ حسین نے ٹھیک کہا تھا، کہانیوں میں وہ باتیں بھی ہوتی ہیں جو بیان ہو سکتی ہیں اور ایسا بہت کچھ بھی ہوتا ہے، جو کہا نہیں جا سکتا۔
اے دہقان تیرے بوئے ایک دانے سے زمین سو دانے پیدا کرتی ہے
لیکن تیرے اگائے ہوئے سو دانوں میں سے تجھے صرف ایک دانہ نصیب ہوتا ہے۔
میانوالی کا ’یوسف ثانی‘ تو خطہ پوٹھوہار کا دست کاشتہ پودا ہے۔ عمران خان اور اس کے حامیوں کا بیانیہ تو کسی بوناپارٹ کی شجاعت، کسی ظہیر الاسلام اور فیض حمید کی انگلیوں سے بندھے دھاگوں کا ناٹک ہے۔
