حالیہ پاک بھارت جنگ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور سرحدی تنازعات کے بعد ایک کھلی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ اس جنگ کے دوران ہونے…
Browsing: daud tahir
ملتان ۔۔سینیئر فوٹو گرافر اور روزنامہ حیرت کے اٰیڈیٹر شیخ محمد امین دو مئی جمعہ کے روز طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ۔ شیخ…
اسلام آباد:وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہےکہ منگل کی رات جس خطرے کا اظہار کیا تھا وہ اب بھی برقرارہے مگر ہماری مسلح افواج مکمل…
(گزشتہ سے پیوستہ) اوسلو میں گزرے ہوئے میرے دوسال بہت یادگارتھے لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ بھی حل کیا پاکستان سے ڈائریکٹ اوسلو کی فلائٹ…
ملتان پریس کلب میں کوئی ایک تو ایسا ہوتا تھا جس کےنظریاتی ہونے کا ہمیں آنکھیں بند کر کے یقین تھا ۔ جیسے ہمیں خود پر…
محمد داود طاہر کی آپ بیتی 1000 صفحات پر مشتمل ہے یہ ان کی 11 ویں کتاب ہے بے شک وہ اس وقت 80 برس کے…
( گزشتہ سے پیوستہ ) سلیم اختر دوران گفتگو کھلکھلا کر ہنستے اور اچھے لگتے ۔ کالج یا تقریبات میں جاتے وقت گرمیوں میں پینٹ بوشرٹ…
گزشتہ سے پیوستہ بعض اوقات کوئی واقعہ میں پہلے کہیں بیان کر چکا ہوتا ہوں مگر اسے ’میری کہانی‘ میں بیان کرنا بھی ضروری ہوتا ہے…
اب چلتے چلتے ایک واقعہ اقبال ساجد کا بھی سن لیں۔ انتہائی غریب مگر شعر کے معاملے میں پورا بدلحاظ۔ وہ اپنی غربت کی وجہ سے کہ اس نے ساری عمر کوئی کام نہیں کیا تھا چنانچہ جس سے اسے کچھ توقع ہوتی تھی تو جی بھر کر اس کی خوشامد کرتا۔ مگر اس کے کسی برے شعر کی تعریف نہیں کرتا تھا۔ اس سے قطع نظر اس نے ایک دفعہ ایک غزل کہی جس کا مطلع تھا:
فراق و فیض و ندیم وفراز کچھ بھی نہیں
نئے زمانے میں ان کا جواز کچھ بھی نہیں
میں نے کہا یار فراز اے کلاس شاعر ہیں مگر تم نے ان کو برے جوڑوں کےساتھ کھڑا کر دیا۔ سن کر بولا مجھے بھی پتہ ہے مگر فراز یہاں قافیے کی مجبوری سے آیا ہے
میں نے صرف اتنا پوچھا ’احسان صاحب کیا حال ہے‘ اس پر انہوں نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔ میں پریشان ہو گیا اور کچھ دیر بعد دوبارہ ان سے پوچھا احسان صاحب کیا حال ہے وہ ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
