Browsing: daud tahir

اب چلتے چلتے ایک واقعہ اقبال ساجد کا بھی سن لیں۔ انتہائی غریب مگر شعر کے معاملے میں پورا بدلحاظ۔ وہ اپنی غربت کی وجہ سے کہ اس نے ساری عمر کوئی کام نہیں کیا تھا چنانچہ جس سے اسے کچھ توقع ہوتی تھی تو جی بھر کر اس کی خوشامد کرتا۔ مگر اس کے کسی برے شعر کی تعریف نہیں کرتا تھا۔ اس سے قطع نظر اس نے ایک دفعہ ایک غزل کہی جس کا مطلع تھا:
فراق و فیض و ندیم وفراز کچھ بھی نہیں
نئے زمانے میں ان کا جواز کچھ بھی نہیں
میں نے کہا یار فراز اے کلاس شاعر ہیں مگر تم نے ان کو برے جوڑوں کےساتھ کھڑا کر دیا۔ سن کر بولا مجھے بھی پتہ ہے مگر فراز یہاں قافیے کی مجبوری سے آیا ہے

میں نے صرف اتنا پوچھا ’احسان صاحب کیا حال ہے‘ اس پر انہوں نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔ میں پریشان ہو گیا اور کچھ دیر بعد دوبارہ ان سے پوچھا احسان صاحب کیا حال ہے وہ ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔