دمشق سے باہر نکلے تو ہر سو ویرانی تھی۔ جنگ کی تباہ کاریوں کے آثار تھے۔ شاہراہ پر صرف ہماری کار تھی جس کا رخ گولان…
Browsing: مستنصر حسين تارڑ
گئے زمانوں کے قصے ہیں جب ریل گاڑی دھواں اگلنے والے انجن کے کالے کلوٹے وجود سے بندھی پنڈی کی جانب سے لاہور کی قربت میں…
جب کبھی کوئی کھوئی ہوئی یاد دل کے نہاں خانوں میں سراب کی صورت ‘ ایک دھندلے خواب کی صورت یوں جھلملانے لگتی ہے کہ کبھی…
کسی بھی ایوارڈ کی وقعت اور اہمیت کو پرکھنا ہو تو یہ دیکھئے کہ آپ سے پہلے وہ ایوارڈ کن کن ادیبوں کو مل چکا ہے۔…
سول ایوارڈ کچھ تو عطا ہوتے ہیں اور کچھ عطا کروائے جاتے ہیں یعنی کچھ ملتے ہیں اور کچھ ’’حاصل ‘‘ کئے جاتے ہیں۔ ایوارڈ ’’حاصل‘‘…
یہ غالباً 91ء کا قصہ ہے جب صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی عطا کئے جانے کے بعد اسلام آباد کے ایک انگریزی اخبار کے رپورٹر نے…
انگریز سرکار کے ابتدائی دور میں جہانگیر‘ آصف جاہ اور نورجہاں کے مقابر ایک دوسرے کی قربت میں تھے۔ جہانگیر کشمیر سے واپسی پر راجوڑی یا…
جن زمانوں میں میری حیات کا تسلسل صبح کی نشریات کی میزبانی تھا ان دنوں میرے پروگرام کیلئے خصوصی طور پر تیار کردہ لاہور ٹیلی ویژن…
بعض اوقات کوئی بہت فضول اور عامیانہ سا لطیفہ کسی صورت حال پر یوں منطبق ہوتا ہے کہ مجبوراً اس کا حوالہ دینا ہی پڑتا ہے۔…
میری امّی جان اور میری دو عدد خالائیں اپنی روز مرہ کی گفتگو میں محاورے بے دریغ استعمال کرتی تھیں‘ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو…
