زمانہ ہمیں گُزار رہا ہے یا ہم زمانے کو۔ دُنیا مملکت چلانے کے جن اصولوں کو دہائیاں پہلے طے کر چکی ہم آج بھی اُنھیں طے…
Browsing: ّعاصمہ شیرازی
ہم بحرانوں کے عادی ہیں یا بحران ہمارے تعاقب میں۔ بحران طوفان میں بدل رہے ہیں اور ہم آدھے ادھورے خوابوں کی تلاش میں مارے مارے…
منظر پر نظر آنے والے دھوئیں کے پیچھے آگ کہاں لگی، یہ کسی کو نظر نہیں آ رہا۔ آگ کیسے جلی اس پر غور کرنے کو…
آوازیں، شور، افراتفری۔۔۔ ایک ہنگامہ برپا ہے۔ کانوں پر ہاتھ ہیں اور آنکھوں پر پٹیاں، ہونٹ مضطرب، ہلتے ہیں مگر بغیر آواز کے، زندگی ایک مشق…
پُرانے وقتوں کی کہانیوں میں تھا کہ صبح صادق شہر میں داخل ہونے والے پہلے شخص کے ہاتھ مملکت کی باگ دوڑ تھما دی جائے گی۔…
پتہ ہی نہیں چلا کہ کب چُپ چاپ جمہوریت نے سمجھوتہ کر لیا۔ ہاتھوں سے ایسی گرہیں لگا دی گئی ہیں جو اب دانتوں سے بھی…
بات تجزیوں، تبصروں سے آگے کی ہے۔ تجزیے مشکوک حالات میں غیر واضح لکیروں کو تصویر کی شکل دیتے ہیں، جہاں سب واضح ہو مگر پھر…
زمانے کی اپنی چال ہے اور چال کی چاپ وہی سُنائی دیتی ہے جن پیروں میں جان ہو اور جان بھی ایسی کہ نشان باقی رہیں۔…
خیال، احساس اور الفاظ ذہن کی کال کوٹھڑی میں بند ہیں۔ لفظ جو زنجیروں میں جکڑ چکے، لہجے جو آواز کھو چکے اور حرف تمنا کا…
بیروت اس لیے یاد آیا کہ مزاحمت کا استعارہ شہر جسے کوئی نہ جیت سکا مگر تقسیم اور معاشی ناہمواری، سیاسی عدم استحکام حاوی ہوا تو…
