ریاض : سعودی عرب کے دارالحکومت میں میزائل کا ملبہ گرنے سے بچوں کی نرسری اور میڈیکل کمپلیکس کو نقصان پہنچا ہے۔
سعودی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ ملک کے دارالحکومت ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کی کارروائی کے نتیجے میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک بچوں کی نرسری اور ایک میڈیکل کمپلیکس کو نقصان پہنچا ہے۔
اس سے قبل یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے تین بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں۔
ترکی المالکی کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے خمیس مشیط کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل مار گرایا ہے جبکہ ریاض کی جانب داغے گئے دو مزید بیلسٹک میزائل بھی فضا ہی میں تباہ کر دیے گئے۔
ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو میزائل سے نشانہ بنائے جانے کے حوثی دعوے کے بعد متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے سعودی دار الحکومت کے لیے اپنی پروازیں معطل یا منسوخ کر دی ہیں جبکہ شہر میں سکیورٹی خدشات کے باعث سفارت کاروں اور تعلیمی اداروں نے بھی حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایئرانڈیا اور لفتھانسا گروپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ ریاض کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کر رہے ہیں۔
لفتھانسا گروپ کے ترجمان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے باعث گروپ کی فضائی کمپنیاں 16 اکتوبر تک ریاض کے لیے پروازیں معطل رکھیں گی۔ دوسری جانب ائیر انڈیا نے کہا ہے کہ اس نے 10 اکتوبر تک سعودی دار الحکومت کے لیے تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
روئٹرز کے مطابق جمعرات کی صبح ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ایک طیارے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ خبر رساں ادارے نے یہ بات ایک عینی شاہد اور معاملے سے آگاہ تین افراد کے حوالے سے بتائی ہے۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ریاض کے کنگ خالد انڑنیشنل ائیرپورٹ کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی دار الحکومت میں تعینات سفارت کاروں اور مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ جمعرات کو شہر میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جس کے بعد سفارتی عملے کو اپنی عمارتوں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی۔
یہ دھماکے اس وقت سنے گئے جب چند گھنٹے قبل یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر اپنے تازہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے دار الحکومت کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
اب تک سعودی حکام کی جانب سے واقعے پر کوئی با ضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی عوام کو موبائل پیغامات کے ذریعے کوئی انتباہ دیا گیا، جیسا کہ ماضی میں کیا جاتا رہا ہے۔
کئی رہائشیوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ بین الاقوامی سکولوں نے بھی حفاظتی اقدامات کیے۔ کم از کم ایک سکول میں بچوں کو احتیاطاً تہہ خانے میں منتقل کیا گیا۔
اس سے قبل سعودی سول ڈیفنس نے آگاہ کیا تھا کہ ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کی کارروائی کے نتیجے میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک بچوں کی نرسری اور ایک میڈیکل کمپلیکس کو نقصان پہنچا ہے۔
جبکہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے تین بیلسٹک میزائل مار گرائے ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی )
جمعہ, اکتوبر 9, 2026
تازہ خبریں:
- انٹرنیشنل مگر مچھ ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس : مگرمچھوں نے کیسے آنسو بہائے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- ریاض ایئر پورٹ پر میزائل حملہ : کئی ہوائی کمپنیوں نے پروازیں منسوخ کر دیں
- نام ور بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
- ارجنٹائن کے میسی کا الوداعی میچ اور 10 نمبر شرٹ کا اعزاز : مہتاب حیدر تھہیم کا کالم
- لانگ مارچ درہ آدم خیل پہنچ گیا، عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال منتقل کیا جائے : سہیل آفریدی
- ڈی آئی خان میں فائرنگ کے دو واقعات میں ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید
- سابق کور کمانڈر جنرل احسان الحق کو گورنر خیبر پختونخوا بنائے جانے کا امکان
- دُکی سے اغوا ہونے والے 12 مزدوروں میں سے رحیم یار خان کا ایک مزدور قتل
- پی ٹی آئی لانگ مارچ کی ’گورنر راج ‘کی طرف پیش قدمی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ہر صوبے کے لیے ایمرجنسی یا گورنر راج کا جواز : نصرت جاوید کا کالم

