Browsing: کالم

یہ صرف آج کی بات نہیں پانچ سو سال بعد بھی ان لاجواب ہستیوں کے گانے سنے جائیں گے۔ لافانی ہونا اسے کہتے ہیں۔ آج کی سب یادیں مٹ جائیں گی، تاریخ کے اوراق مدہم پڑ جائیں گے۔ یہ گائیک اور ان کے گانے زندہ رہیں گے۔ سہگل کی مے پرستی کا ضمناً ذکر ہو جائے گا لیکن زیادہ دھیان اُن کی آواز اور گانوں پر ہوگا۔

یہ وقت انصاف کے نئے معیارات بنانے کا ہے، تاکہ ہم اپنے بچوں کے لیے ایک ایسا معاشرہ چھوڑ سکیں جہاں غریب بھی طاقتور کے برابر ہو اورعدلیہ طاقتور حلقوں کے دباؤ سے آزاد ہو۔یہ تبدیلی صرف عوامی جدوجہد اور شعور کے ذریعے ممکن ہے۔ اگر ہم نے ابھی بھی اس ناانصافی کے خلاف قدم نہیں اٹھایا تو ہماری آنے والی نسلیں اسی نظام کا حصہ بن کر رہ جائیں گی۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں اور اس استحصالی نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر ایک بہتر معاشرہ قائم کریں۔

پی ٹی آئی وہ جماعت کہ جس میں ایوب خان کا پوتا عمر ایوب اپوزیشن لیڈر ہے، ضیاء الحق کے بیٹے اعجاز الحق کی مسلم لیگ ضم ہوئی وہ پی ٹی آئی کہ جس کی آدھی کابینہ پرویز مشرف کی تھی آج بھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہے….
اور آج کی تازہ خبر یہ ہے کہ عمران خان نے چیئرمین تحریک انصاف گوہر خان کی موجودہ آرمی چیف سے خفیہ ملاقات کو خوش آئند قرار دیا ہے اور بیرسٹر گوہر خان اس ملاقات کی تردید کر رہے ہیں…..

ْمجھے سردی صرف اچھی ہی نہیں لگتی بلکہ سردی سے باقاعدہ محبت ہے۔ اگر سردی میں جنگل میسر ہو تو اس سے بڑھ کر آئیڈیل صورتحال بھلا کیا ہو سکتی ہے۔ مگر اب جنگل کا راستہ دھندلا پڑتا جا رہا ہے جو جنگلوں میں میرے ساتھ تھے آہستہ آہستہ ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں۔
ایک نیک بخت تھی جو خود بھی جنگلوں کی شوقین تھی، وہ گئی تو گویا جنگلوں کے راستے پر دھند سی پڑ گئی۔ دوستوں کا ایک گروپ تھا جن کے ساتھ شکار اور کیمپنگ کی جاتی تھی۔ اسے ایسی نظر لگی کہ جن کا سردیوں میں اوڑھنا بچھونا ہی شکار یا کیمپنگ تھا، سرے سے ہی بھول گئے۔ لے دے کر ایک چولستان کی جیپ ریلی رہ گئی تھی جو ماہِ فروری میں چار چھ دن کیلئے ویرانوں میں لے جانے کا سبب بن جاتی تھی لیکن شومیٔ قسمت کہ گزشتہ سال بھی پاکستان میں نہیں تھا اور اس سال بھی کہیں دور بیٹھا اس سالانہ ایونٹ میں شرکت نہ کرنے کی حسرت لیے سرد آہیں بھر رہا ہوں گا۔ یہ المیہ ہے کہ حاصل کی خوشی سے زیادہ لاحاصل کا ملال ہوتا ہے۔