ایک نوجوان خاتون نے ایک دفعہ اسے کسی شاعرہ کی کتاب تحفۃً دی تھی۔ کتاب تو اسے اب یاد نہیں رہی، لیکن کتاب میں بسی خوشبو اسے اب بھی اچھی طرح یاد ہے۔
سنا ہے کہ خوشبوؤں کے حوالے سے انسانی یادداشت سب سے دیرپا ہوتی ہے۔ اس نے اچھی خوشبوئیں ہمیشہ یاد رکھی تھیں۔ وہ ہر اُس خوشبو سے جڑے واقعات بھی یاد رکھتا ہے جس سے وہ کبھی گزرا ہو۔
Browsing: کالم
اپریل 2022 کے بعد آنے والی تبدیلیاں عمران خان کے سیاسی حیطہ خیال سے ماورا ہیں۔ عمران خان تو آج بھی مقتدرہ کے دریوزہ گر ہیں لیکن ان کے حامی نوجوانوں کی اکثریت اس تاریخی پس منظر سے واقف ہے اور نہ اس کے فکری پہلو سمجھتی ہے۔ ان کی نظر میں عمران خان کو مسیحا نہ سمجھنے والا ہر پاکستانی لبرل اور گردن زدنی ہے۔
ایک موقع پر جب عوامی اجتماع میں بلاول بھٹو زرداری سے علی وزیر کی رہائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس معاملے کے لیے “ان لوگوں کے پاس جائیں جن کے پاس انہیں رہا کرنے کی طاقت ہے۔” یہ مختصر سا جملہ دراصل پاکستان کی سیاست کی ایک گہری حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس قسط کی دنیا میں انسان ایک عجیب مشین کا پرزہ بن چکا ہے۔ لوگ دن بھر بند کمروں میں سائیکل چلاتے ہیں اور اس کے بدلے ڈیجیٹل سکے کماتے ہیں جنہیں “میرٹس” کہا جاتا ہے۔ یہی سکے ان کی خوراک، تفریح اور زندگی کی دوسری ضرورتوں کا ذریعہ ہیں۔ چاروں طرف اسکرینیں ہیں، اشتہارات ہیں اور ایک ایسا نظام ہے جو انسان کے وقت، محنت اور جذبات سب کو بازار کی اشیا میں تبدیل کر دیتا ہے۔
کچھ باتیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں، جیسے کہ رمضان کے احترام کے نام پر روا رکھا جانے والا امتیازی سلوک۔ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ ہم نے خود پر وہ پابندیاں کیوں لگا رکھی ہیں جو خدا اور اُس کے رسول اللہﷺ نے بھی نہیں لگائیں۔ مثلاً مسافر، بیمار اور خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو اپنے مخصوص ایام سے گزر رہی ہوں، روزہ نہ رکھنے کی باقاعدہ رخصت ہے لیکن مجال ہے جو ہمارا معاشرہ اللہ کی دی ہوئی اس چھوٹ کو ہضم کر لے۔ ہم تقویٰ کے زعم میں خدا کے احکامات سے بھی (معاذ اللہ) دو ہاتھ آگے جانا چاہتے ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات ہے، ہم نے خواتین کا عالمی دن بڑے زور و شور سے منایا، اخبارات میں مضامین چھپے، دانشوروں نے بھاشن دیے اور مذہبی طبقے نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام نے عورت کو کتنا بلند مقام دیا ہے لیکن ہماری جامعات اور اُن میں خواتین کے ہاسٹلز کا یہ حال ہے کہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی اُن کی کینٹین، کیفے ٹیریا اور کچن پر غیر اعلانیہ مارشل لاء لگ جاتا ہے۔
بھائی چوڑے بازار کی گلیوں میں ادھر اُدھر گھوم رہے تھے کہ ایک سکھ نے انہیں پہچان لیا اور کہا کہ آپ کی ایک امانت ہمارے گھر میں محفوظ ہے۔ اندر گیا اور جزدان میں لپٹا ہوا کلام مقدس کا نسخہ اٹھا لایا اور عقیدت سے چوم کر بھائی کے ہاتھوں پر رکھ دیا۔
رضی الدین رضی ایک ممتاز اردو شاعر ادیب اور صحافی ہیں جن کی شاعری میں مزاحمت، جذباتی گہرائی اور سماجی شعور کی پختگی نمایاں ہے اور…
ایران کیخلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو مذہبی رنگ کون دے رہا ہے؟ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو جنگ کا اصل مقصد ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا قرار دیا تھا لیکن اوول آفس میں مسیحی پادریوں اور مذہبی لیڈروں کے ہمراہ جنگ میں کامیابی کیلئے خصوصی دعا کا اہتمام کس نے کیا؟ عالمی میڈیا نے اس خصوصی دعا کی ایک تصویر نشر کی ہے جس میں پادری گریگ لاری سمیت کئی مذہبی لیڈر ٹرمپ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ایران کیخلاف جنگ میں کامیابی کی نوید دے رہے ہیں- یہ سب لوگ سال ہا سال سے امریکیوں کو ظہورِ دجال سے پہلے ایک بڑی جنگ کیلئےتیار کر رہے تھے جسے Armageddon (ہر مجدون) کہا جاتا ہے ۔ برطانوی اخبار ’’دی گارڈین “سمیت کئی مغربی اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج میں مذہبی آزادی کے تحفظ کیلئے کام کرنے والے ادارے (ایم آر ایف ایف) کو اب تک دو سو سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کے کمانڈرز اپنے ماتحتوں کو بتا رہے ہیں کہ ٹرمپ کو حضرت عیسٰی علیہ السلام نے ایران پر حملے کا اشارہ دیا ہے کیونکہ وہ زمین پر واپس آنیوالے ہیں اور یہ وہی ہرمجدون ہے جس کا ذکر بائبل میں بھی آچکا ہے ۔
راولپنڈی کی عدالتوں کے ریکارڈ کے مطابق ایک سال کے دوران دس ہزار سے زیادہ خاندانی تنازعات اور طلاق کے مقدمات درج ہوئے۔ اسی طرح لاہور میں ہزاروں خواتین نے خلع کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا۔ یہ اعداد و شمار صرف قانونی فائلوں تک محدود نہیں بلکہ بدلتے ہوئے معاشرتی رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ گویا ہمارے معاشرے میں رشتوں کی مضبوطی کو نظر نہ آنے والی دراڑ لگ چکی ہے۔
’’ زبان محض الفاظ کا تبادلہ نہیں ہوتی بلکہ ایک پوری تہذیب کی منتقلی ہے۔ رائے کے جملوں میں جو مزاح طنز اور داخلی تضاد ہے، اسے اردو میں منتقل کرنا کبھی کبھی کٹھن مرحلہ بن جاتا۔ مثال کے طور پر جب وہ اپنی ماں کی سخت مزاجی کو طنز آمیز لہجے میں بیان کرتی ہیں تو اردو میں اس کا ترجمہ محض شکایت بہنے کا خطرہ رکھتا تھا۔ مجھے بار بار یہ دیکھنا پڑا کہ کہاں پر لفظوں کو سیدھا رکھوں اور کہاں پر ان میں چھپی ہوئی معنوی لہر کو کھول دوں ۔ ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مترجم خود بھی مصنف کے ساتھ شریک تخلیق بن جاتا ہے ۔
