انہیں شبہ ہے کہ پاکستان دورمارمیزائلوں کے جدید ترین ورژن تیار کرنا چاہ رہا ہے ۔ جو متعددحساس معاملات پر ہمیں امریکہ کو انکار کے قابل بناسکیں۔
امریکہ کے جاسوسی کارندوں کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام پر شکوک وشبہات کا برسرعام اظہار عین ان دنوں دہرایا گیا ہے جب اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکہ ایران ہی نہیں اس کے قدرتی وسائل سے مالا مال تمام خلیجی ہمسایوں کو کامل ابتری وانتشار کے سپرد کرنے میں مصروف ہے ۔
Browsing: کالم
2012 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی صحت کے لئے خوشی کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے باقاعدہ خوشی کا عالمی دن 20 مارچ 2013 کو منانے کا عندیہ دیا۔ یوں تب سے اب تک یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی خوش ہیں؟
یہ ایسی سہہ طرفہ جنگ ہے جو خدا کے نام پر خدا کی مخلوق سے لڑی جا رہی ہے۔ خدا جانے کیا نتیجہ نکلے گا۔
جب لوگ یہ کہتے ہیں خدا دیکھ رہا ہے
میں دیکھنے لگتا ہوں کہ کیا دیکھ رہا ہے
(سید مبارک شاہ)
جدید تحقیق کی بدولت کسی فرد کی مخصوص جسمانی حرارت ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔ ڈرون طیاروں یا دور مار میزائل میں نصب بارودی مواد فضا میں اچھالے جانے کے بعد اس حرارت کو تلاش کرتا ہے۔ گزرے جمعہ کو گویا علی لاریجانی کی جسمانی حرارت ریکارڈ کرلی گئی تھی۔ کیوں اور کیسے؟ اس سوال کا جواب فراہم کرنا میرے بس میں نہیں۔ ’’جسمانی حرارت‘‘ مگر ریکارڈ ہوسکتی ہے جو دشمن کے ہاتھوں کسی فرد کا دور مارہتھیاروں سے قتل ممکن بناسکتی ہے۔مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں
زیادہ پرانی بات نہیں، بارہ تیرہ برس پہلے تک ہر سال پی ٹی وی ایوارڈ کی تقریب ہوا کرتی تھی، میں یہ تو نہیں کہتا کہ…
پنجاب ٹیکسٹ بورڈ نے’ نظریہ پاکستان اور نصابی کتب ‘کے عنوان سے ایک تین روزہ سیمینار منعقد کیا جس میں پاکستان بھر سے اسلام پسند دانشور مدعو کیے گئے۔ اس مذاکرے میں صرف جسٹس حمود الرحمن، پروفیسر حمید احمد خان اور انتظار حسین کو سچ بولنے کی توفیق ہو سکی۔ پروفیسر وارث میر کی تقریر تو مذہبی منافرت کا شاہکار تھی۔
اگر ہم آج تک کے حالات کا تجزیہ کریں تو تعطل یا بند گلی والی صورتحال ہے۔ جوہری طاقت بننے کے بعد اسرائیل کو مٹانا ممکن نہیں۔ دو ریاستی حل فریقین یعنی اسرائیل اور حماس جیسی فلسطینی تنظیموں کو قبول نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جنگ سے ایرانی رجیم کو ہٹانا بھی تقریبا ناممکن ہے۔ اس جنگ نے پوری دنیا کو معاشی بحران میں مبتلا کیا ہے۔ لیکن اس سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔
ملتان میں ایک علی گڑھ اسکول تھا جہاں عرش صدیقی،اے بی اشرف،مبارک مجوکہ اورابنِ حنیف اردو اکادمی کے اجلاس کرتے تھے ان کے ساتھ سلطان صدیقی ایڈووکیٹ بھی تھے جو علیگ تھے جن کی کتاب عرفانِ غالب تھی،یہاں فیضان احمد انصاری،ان کی بیگم نشاط(جن کے سرپرستوں میں مخدوم سجاد حسین قریشی تھے )،بھتیجی نوشابہ نرگس تھیں مولوی سلطان عالم بھی تھے جن کی وفات کے بعد اس تعلیمی ادارے کو ضلعی انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا،کچھ علیگیوں کو اکٹھا کرکے اس کی انتظامی کمیٹی بحال کرائی جائے۔
جدوں جہاز تو لتھا تے شیروانی میرے ڈھڈ تے لش لش کردی پئی سی، میں ایمرجنسی لئی بریف کیس وچ دھوتی وی رکھی ہوئی سی۔ خیر میرے ایتھاں اپڑن دا ایہ مقصد وی سی جے قومی ترقی وچ دیگاں دی اہمیت تے چانن پاواں۔۔۔۔
مینوں دیگاں نال نکے ہوندیاں تو بڑا پریم سی، دیگاں گلی دی نکر تے پیاں ہوندیاں سی تے میں اُنہاں نوں ہلا ہلا کے سائنسی تجربے کردا رہندا سی۔
ایران اپنے جزیرے کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے آبنائے ہرمز کھولنے کو رضامند ہوسکتا تھا۔ ممکنہ رضامندی مگر دنیا کو اس کے جھک جانے کا پیغام دیتی نظر آئی تو وہ ہمسایہ ملکوں کو میزائلوں کی برسات کی زد میں لے کر ‘‘ہم توڈوبے ہیں…’’ والا ہولناک جواب بھی دے سکتا ہے ۔
