بعض تجزیہ نگار یہ بھی قیاس کررہے ہیں کہ جلد ہی قطر اور مصر بھی اس معاہدے میں شامل ہوجائیں گے۔ اور جب ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ جنگ کی دھول بیٹھ جائے گی تو ایران بھی ایسے معاہدے میں شامل ہوکر علاقائی سلامتی میں کردار ادا کرنا چاہے گا۔
Browsing: تجزیے
تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو قید ہوئے تین سال پورے ہوگئے۔ ان میں گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران انہیں تقریباً قید تنہائی میں رکھا…
’’صوبوں کی حدود‘‘ طے کرنے کے لئے متعلقہ صوبے کی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت کی منظوری درکار ہے۔ سندھ کو تقسیم کرنے کے لئے وہاں کی صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کی حمایت لازمی ہے اور اس کا حصول ناممکن نظر آرہا ہے۔ محض ’’نئے انتظامی یونٹوں‘‘ کے قیام کے لئے عوم سے بذریعہ ریفرنڈم حاصل کردہ ’’ہاں‘‘ اس تناظر میں کام نہیں آئے گی۔
یادش بخیر روزنامہ جنگ کے ایڈیٹر سہیل وڑائچ نے جب موجودہ حکومت کے دن گنے جانے کی پیش گوئی پر مشتمل کالموں کی سیریز لکھی تھی تو اس وقت سہیل وڑائچ سے ذاتی دوستی کے باوجود محسن نقوی نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ اب ’ناکارہ‘ ہوچکے ہیں، اس لیے انہیں ریٹائر ہوجانا چاہئے۔ اس وقت یہ تاثر سامنے آیا تھا کہ محسن نقوی شاید مستقبل کا وزیر اعظم بننے کی خواہش میں موجودہ نظام کی ’حفاظت‘ کے لئے سینہ سپر ہورہے ہیں۔ البتہ اب انہوں نے خود اس نظام کے ’ڈھیر‘ ہونے کی خبر دی ہے۔
احتجاج کے لیے لوگوں کا گھروں سے نکلنا بے چینی، محرومی اور غم و غصہ کا اظہار ضرور ہے۔ کسی حکومت کو اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ دوسرا یہ کہ حکومت عوام کی کثیر تعداد کو طویل عرصہ تک بے یار مددگار کسی علاقے میں محصور رہنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔ اختلاف اتفاق سے قطع نظر یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کرے اور انہیں مناسب دیکھ بھال، خوراک اور سہولتوں تک رسائی دی جائے۔
سب کی طرح امریکہ اور ایران پر بھی واضح ہورہا ہے کہ جس تنازعہ میں انہوں نے سینگ پھنسائے ہیں، اس سے باہر نکلنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی حل کے بغیر کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔ اللہ کا شکر کرنا چاہئے کہ دونوں ملک بہت زیادہ خرابی سے پہلے ہی امن کو موقع دینے کی طرف گامزن ہورہے ہیں۔ اس میں کسی کی جیت اور کسی کی ہار نہیں ہے۔
پاکستان اسی وقت سعودی عرب کی امداد کے لیے جاسکتا ہے اگر کوئی ملک یا گروہ براہ راست اس پر حملہ کرے۔ اگر حوثی سعودی عرب پر حملہ آور نہیں ہوتے اور محض دھمکیاں دیتے ہیں تو کیا پھر بھی پاکستان اس معاہدے کے تحت حوثیوں کی طاقت کچلنے میں آگے بڑھے گا؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک بیٹا اپنے باپ کے جنازے میں لمحہ بھر کے لیے بھی شریک نہ ہو اور نہ ہی اس کا کوئی آڈیو یا ویڈیو سامنے آسکے۔ یہ طے ہونا باقی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے نام پر کون ایران اور دنیا کو دھوکے میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔
ماہرین اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کو اپنی وزارت عظمی کے 12 برس میں پہلی بار حقیقی عوامی احتجاج کا سامنا ہورہا ہے ۔ اس احتجاج میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔
ازراہ تفنن کہا گیا ایک فقرہ اب بھارتی سیاست کی ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جو نریندر مودی کی طاقت ور کرسی کوہلا سکتی ہے۔ لگتا ہے ملک کے سب’ کاکروچ ‘ اب جمع ہورہے ہیں۔
نورین خان کی دلیل یہ ہے کہ پاکستان سے اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے ’جنگ کا ڈرامہ‘ رچایا گیا تھا اور پاکستانی فوج کو ’نام نہاد فتح‘ دلوائی گئی تھی تاکہ پاکستانی فوج کے وقار میں اضافہ ہو اور وہ اس کا فائدہ اٹھا کر اسرائیل کو تسلیم کرلے۔ تو سب سے پہلا سوال تو یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ جنگ کسی دس بیس سالہ منصوبہ کا حصہ تھی؟ کیوں کہ پاکستان نے تو ابھی تک نہ اسرائیل کو تسلیم کیا ہے بلکہ اس کا کوئی اشارہ بھی نہیں دیا۔
