پشاور :کراچی اور راولپنڈی میں بطور مزدور کرنے والے چار بھائی معاذ، ایاز، ریاض اور ساجد عید منانے کے لیے اپنے آبائی علاقے باجوڑ پہنچے تھے لیکن انھیں نہیں معلوم تھا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جنگ کا شکار ہو جائیں گے۔
یہ چاروں بھائی اتوار کو مبینہ طور پر ضلع باجوڑ کے علاقے لیٹئی میں افغانستان کی طرف سے فائر کیے گئے مارٹر گولے کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کے چچا ظاہر حنیف نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا کہ ’کچھ دن پہلے چاروں بھائی مجھ سے ملنے آئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ عید پر دعوت پر سب کو اکٹھا کریں لیکن کسی کو کیا معلوم تھا کہ عید پر وہ خود ہی ہمارے درمیان موجود نہیں ہوں گے۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ اتوار کو چاروں بھائی اپنے گھر کی مرمت کے لیے گڑھا کھود کر مٹی نکال رہے تھے اور اس دوران وہاں اچانک دھماکہ ہو گیا، جس کے باعث معاذ، ایاز، ریاض اور ساجد چاروں جان کی بازی ہار گئے۔
ظاہر حنیف بتاتے ہیں کہ ساجد اور ریاض کی ایک سال قبل ہی شادی ہوئی تھی اور دونوں کا ایک، ایک بچہ ہے۔
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی ان چار شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور اپنے ایک بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت پاکستان میں عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ باجوڑ میں ہونے والے حملے میں ’چار معصوم شہری شہید اور ایک پانچ سالہ بچہ زخمی ہوا ہے۔‘
خیال رہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع کی شروعات گذشتہ مہینے ہوئی تھی اور اس کے بعد سے فریقین ایک دوسرے کا بھاری نقصانات کرنے کے دعوے کرتے آئے ہیں۔
باجوڑ کے ڈی پی او محمد خالد نے بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لٹئی چونکہ بارڈر کے قریب واقعہ ہے، گذشتہ روز گولہ باری کے نتیجے یہاں چار بھائی ہلاک ہوئے ہیں۔
جب ڈی پی او سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت اس گاؤں کو خالی کروانے کا ارادہ رکھتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ’یہ گاؤں زیادہ رش والا علاقہ نہیں ہے اور گھر یہاں کافی فاصلے پر ہیں اس لیے اس کی نوبت نہیں آئی، البتہ شہریوں کو حفاظتی اقدام اٹھانے کا کہا ہے۔‘
( بشکریہ : بی بی سی )
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

