بیٹے کے ہاتھوں بہو کے قتل کے کیس میں تفتیش کے لیے زیر حراست سینئر صحافی ایاز امیر نے اپنا مقدمہ خود لڑنے کا اعلان کیا ہے۔
ایاز امیر کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر ایاز امیر کا کہنا تھا میں خود ہی اپنا کیس لڑوں گا، واقعے کے وقت چکوال میں تھا اور واقعہ کی اطلاع خود اسلام آباد پولیس کو دی۔
ملزم ایاز امیر نے کہا کہ آئی جی موجود نہیں تھے تو ایس پی کو اطلاع دی گئی، مجھے خدشہ تھا کہ واقعے میں کوئی اور زخمی نہ ہو جائے۔
سینئر صحافی کا مزید کہنا تھا میرے اوپر الزام لگایا تو کچھ تو ثبوت دیں، میرے خلاف کچھ بھی نہیں ہے، معاشرے میں ایسی وارداتیں ہوتی ہیں تو کرائم سین کو تبدیل کر دیا جاتا ہے، پولیس نے مقدمہ درج کیا اور میں نے پوری تفتیش میں اپنا موقف دیا۔
پولیس کی جانب سے سارہ انعام قتل کیس کی تفتیش کے لیے ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جس پر عدالت نے ایاز امیر کا مزید ایک روز اور ان کے بیٹے شاہنواز کا مزید 3 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
یاد رہے کہ ایڈیشنل سیشن عدالت اسلام آباد نے گزشتہ روز بیٹے شاہنوار کی جانب سے قتل کے الزام میں گرفتار کیے گئے سینئر صحافی ایاز امیر کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔
(بشکریہ: جیو نیوز)
جمعہ, ستمبر 11, 2026
تازہ خبریں:
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘

