میم تو ازل سے ہی مقدس و مطہر ہے۔ مصفٰی و مسجٰی ہے۔ مومن، مہیمن، متکبر، مصور، مُعِز، مُذِل، مقیت، مجیب، مجید، متین، مُحصی، ممیت، ماجد، مقتدر، مقدم، مؤخر، متعالی، منتقم، مالک الملک، مقسط، مغنی، مانع، اور مالک یومِ الدین ذاتِ باری تعالٰی کے ناموں میں سے ہیں۔ یہ اتنے سارے نام بھی تو میم سے شروع ہوتے ہیں۔ پھر اس کے پیارے حبیب کا ذاتی نام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صفاتی نام، محمود، مشہود، ماحٍ، منجٍ، مجتبٰی، مرتضٰی، مصطفٰی، مزمل، مدثر، متین، مصدق، منصور، مصباح، مجیب، مقتصد، مامون، معلوم، مبین، مطیع، منیر، محرم، مکرم، مبشر، مذکر، مطہر، مدعو، مومن، مُضری اور دیگر نام بلا وجہ تو میم سے شروع نہیں ہوتے۔ مہر و ماہ میم سے، مکہ مدینہ میم سے، ملک ملائک میم سے، معلم و مدرس میم سے، مشہور و معروف میم سے، محقق مؤرخ میم سے، محب محبوب میم سے، مشفق مؤدب میم سے، مؤذن و مقتدی میم سے، مظہر و موجود میم سے، معبد معبود میم سے، معجم معرب میم سے، مقصد و مقصود میم سے، مہمان و میزبان میم سے، مشرق و مغرب میم سے، مذکر مؤنث میم سے، ملن ملاپ میم سے، معانقہ معاشرہ میم سے، مذاکرہ مکالمہ میم سے، مدخل مخرج میم سے، میرا تو سارا سفر ہی میاں چنوں سے شروع ہو کر ملتان پر ختم ہو جاتا ھے۔ دونوں شہروں کے نام میم سے شروع ہوتے ہیں۔ ملتان تو مدینۃ الاولیاء بھی ھے۔ میرے نام محمد امجد رامے کے پہلے لفظ محمد کا پہلا حرف میم دوسرے لفظ امجد کا دوسرا حرف میم اور تیسرے لفظ رامے کا تیسرا حرف میم ھے۔ محمود ظفر اقبال ہاشمی کے نام کی ابتدا بھی میم سے، ماہ جبیں میم سے، "ماؤں سے بھری دنیا” ناول میم سے، میری ماں میم سے، میرا مقدر میم سے، میں تو منسوب بھی ایک مقدس میم سے یعنی محمد رسول اللہ سے۔ میم سے شروع میم پر ختم کیوں کہ ہم ہیں مسلم، میرا خاتمہ بھی میم سے یعنی موت، محشر میم سے اور میرا مقبرہ بھی میم سے۔ میم کا تو دونوں جہانوں میں مرکزی اور کلیدی کردار مُسَلمہ ہے۔
بدھ, اکتوبر 28, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

