اس وقت ملک میں ایک بحث ہے پی ٹی آئی گورنمنٹ کہتی ہے کہ آئندہ انتخابات EVM الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے تحت کرائے جائیں جبکہ اپوزیشن اس کو دھاندلی کا ایک نیا حربہ سمجھتے ہوئے مسترد کر چکی ہے۔۔ اس وقت اگر ہم دنیا پر نظر ڈالیں تو ہمیں چار طرح کی جمہوریت یا طرز حکمرانی واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔
پہلی حقیقی معنوں میں جمہوریت ہے جو کہ اب سکینڈینیوین( Scandinavian) ممالک ڈنمارک، ناروے، سوئیڈن وغیرہ کے علاوہ کینیڈا سمیت ایک آدھے اور ملک کے سوا کہیں موجود نہیں ہے اس کے بعد ہے Fraud Democracy یا shame democracy یہ طرز جمہوریت آپ کو کئی ملکوں بشمول انڈیا، امریکہ، جرمنی، اٹلی، فرانس ہر جگہ آسانی سے دیکھنے کو ملے گی کہ جس میں بظاہر الیکشن ہوتے ہونگے لوگ سیاسی پارٹیوں میں متحرک ہونگے گہما گہمی ہوگی لیکن پاپولس سلوگنز والے سیاسی لوگ اور سیاسی پارٹیاں زیادہ نمایاں نظر آتی ہونگی ان معاشروں میں زیادہ بات حقیقتی مسائل کے بجائے ان باتوں پر ہوتی ہے کہ جو پاپولس (مقبولِ عام) ہیں مثلاً کہنے کو تو انڈیا اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے لیکن وہاں پر پاکستان مخالف بیانیہ ووٹ حاصل کرنے کا ایک آسان اور گھسا پٹا فارمولہ ہے کیونکہ یہ ایک پالولس بات ہے، ٹرمپ کی انتخابی مہم ہو، مودی کی دو سرکاریں ہوں، بورس جانسن، طیب اردگان یہ تمام fruad democracies کی روشن مثالیں ہیں….
Fruad democracy کے بعد ہے Hybrid system یہ وہ سسٹم ہے کہ جو اس وقت پاکستان میں نافذ ہے کہ جس میں فوج اور دیگر طاقتور ادارے کسی ایک پارٹی کو تمام جمہوری، اخلاقی، قانونی حدود پھلانگنے کی نہ صرف اجازت دیتے ہیں بلکہ انکی معاونت بھی کرتے ہیں اس طرح کی حکومتوں کے نہ تو کوئی اختیارات ہوتے ہیں نہ انکے پاس کوئی پلان ہوتا ہے نہ ہی وہ ملکی معاملات سے کوئی دلچسپی رکھتے ہیں جو انکو لاتے ہیں وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے بعد انکو نشانِ عبرت بنا کر تا عمر رسوا ہونے کے لیے بے یار و مدد گار چھوڑ دیتے ہیں اگر پاکستان سے مثال دوں تو سب سے مقبول hybrid leader الطاف بھائی تھے کہ جن کی ایک حکومت اندر حکومت کراچی میں بنوائی گئی وفاق چاہے بینظیر بھٹو کے پاس ہو، میاں نواز شریف اقتدار میں ہوں یا پرویز مشرف کراچی الطاف بھائی کے قبضے میں رہا اور جلتا رہا جب تک الطاف بھائی اور ایم کیو ایم کے پیچھے ریاستی ادارے کھڑے تھے تو انکے حکم کے بغیر کراچی میں پتا بھی نہیں ہل سکتا تھا لیکن جیسے ہی طاقتوروں کا کام پورا ہوا الطاف بھائی راتوں رات غدار بھی ہو گئے اور چشمِ زدن میں ایم کیو ایم میں سے پی ایس پی بھی نکل آئی اور ایم کیو ایم پاکستان بھی اور آج الطاف بھائی کا نام بھی گالی ہے۔ ایک سسٹم اس سے آگے کا بھی ہے اور وہ ہے ون پارٹی رُول یا بادشاہت جو کہ چائنہ، سعودی عرب، ایران اور مڈل ایسٹ کے بیشتر ممالک میں رائج ہے کہ ایک شخص یا ایک پارٹی کل کی مالک و مختار ہوتی ہے انکا کہا پتھر پر لکیر ہوتا ہے جیسے شی پنگ چائنہ کے تا حیات صدر ہیں، اسی طرح محمد بن سلمان کے حکم کے آگے سعودی عرب میں پرندہ پر نہیں مار سکتا، اسی طرح ایران میں کہنے کو تو ایک الیکٹڈ گورنمنٹ ہے لیکن رہبر انقلاب سید علی خامنائی کی بات ہی حتمی بات ہے یہ مختصر سا ایک تعارف ہے اس وقت کے دنیا میں رائج طرز حکمرانی کا لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ EVM’s دنیا کے تقریباً ہر نظام میں ایک مسترد شدہ آئیڈیا ہے میرے خیال سے اگر میں پاکستانی ووٹنگ سسٹم کو دیکھوں تو مجھے تو وہ انسپائر کرتا ہے کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ امریکہ میں ووٹنگ کس طرح ہوتی ہے اور اس کا کلُ دورانیہ کیا ہے؟؟ انڈیا میں ووٹنگ کیسے ہوتی ہے اور اس پورے انتخابی عمل کا دورانیہ کیا ہے؟؟ تو مجھے اس حساب سے پاکستان بہتر لگتا ہے کہ ایک ہی دن پورے ملک میں الیکشنز ہوتے ہیں اور بغیر کسی بڑی تاخیر کے نتائج کا اعلان کر دیا جاتا ہے…
اب آتے ہیں EVM کی جانب، پاکستانی حلقہ بندیوں کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشین میں 0.7 فیصد کی نا محسوس ہونے والی گڑبڑ بھی کی جائے کہ جس کو پکڑنا بھی مشکل ہے تو اس سے تیس سے چالیس سیٹیں ادِھر کی ادُھر ہو جائیں گی جو کہ کسی بھی بڑی پارٹی کی حکومت بنوانے کے لیے کافی ہیں اپوزیشن کا موقف یہ ہے کہ اس سے پی ٹی آئی منظم دھاندلی کا ایک سسٹم لانا چاہتی ہے کہ کسی طرح دو تہائی اکثریت حاصل کی جائے تاکہ ملک کےآئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جا سکے عمران خان پہلے دن سے کبھی رجب طیب اردگان سے متاثر ہوتے ہیں تو کبھی اپنی بیوروکریسی کو محمد بن سلمان کی مثالیں دے کر کہتے ہیں کہ سعودی عرب میں کوئی سلمان کے حکم کے آگے چوں نہیں کرتا کبھی ہمارے وزیراعظم کو چائنہ کا ون پارٹی سسٹم بھانے لگتا ہے لیکن کبھی انکو نیوزی لینڈ کی جسنڈا ارڈن ایک حکمران کے طور پر پسند نہیں آ پاتی کبھی انہوں نے جسٹن ٹروڈو کی تعریف نہیں کی کبھی انہیں ڈنمارک، ناروے، سوئیڈن کا نام بھی لیتے نہیں سنا گیا کبھی وہ اس ملک میں اقلیتوں کے حقوق کے کسی قانون کو سیدھا کرتے نہیں پائے گئے ہاں انہیں بُری لگتی یے تو اٹھارہویں ترمیم لگتی ہے انہیں تکلیف ہوتی ہے تو اس پارلیمانی نظام سے ہوتی ہے کہ جو وزیراعظم کو با اختیار بناتا ہے، انہیں صوبائی خود مختاری چبھتی ہے اسی لیے نہ انہیں آزادی رائے کی فکر ہے نہ ملک میں خواتین کے خلاف بڑھتی ہوئے جنسی جرائم کا دکھ ہے اور نہ ہی مہنگائی سے مرتی ہوئی عوام کا، ہاں دکھ ہے تو اس بات کا کہ دنیا کیوں طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کر رہی، ہائبرڈ سسٹم کا ایک اور وصف جھوٹ ہے کہ ایک تو جھوٹ بولو، با جماعت بولو اور مسلسل بولو کہ ایک دن ایسا بھی آئے کہ تم خود اس جھوٹ کو سچ سمجھنے لگو…
ہم بھی مانتے ہیں کہ اس ملک کے نظام کو مشین کی ضرورت ہے لیکن کون سی مشین کی جی ایک ایسی مشین کی کہ جو اس ملک کے اداروں کو پابند کرے کہ وہ اپنی حددو میں رہ کر کام کرنا سیکھیں، ایک ایسی مشین کہ جو کبھی پھر اس ملک میں مارشل لاء نہ لگنے دے، ایک ایسی مشین کہ جو کسی آئی ایس آئی چیف کو آئی جے آئی نہ بنانے دے، ایک ایسی مشین کہ جو اس ملک کے لوگوں کے دماغوں میں جمہوریت کی محبت بھر دے، ایک ایسی مشین کہ جو ایماندار ججوں اور اعلیٰ افسران کے فون ٹَیپ نہ کرنے دے، ایسی مشین کہ جو حکمرانوں کے دماغ سے تا حیات حکمرانی کا واہیات خناس نکال سکے، ایسی مشین کہ جو نا معلوم کی شناخت کر دے، ایک ایسی مشین کہ جو گمشدہ کی گمشدگی کی نشاندہی کر دے، ایک ایسی مشین کہ جو حکمران کو اسکے مفاد سے اوپر اٹھ کر سوچنا سکھا دے، ایسی مشین کہ جو عوام کو آئین کا وفادار بنائے نہ کہ طاقتور اداروں کا لیکن کیا کریں مشین بنانے کے لیے سرمایہ درکار ہے اور سرمایہ سرمایہ کار کے پاس ہے کہ جس کو صرف گنتی آتی ہے اس لیے وہ بیچارہ زیادہ سے زیادہ EVM’s ہی بنا پاتا ہے….
Previous Articleگوادر میں قائد اعظم کا مجسمہ دھماکے سے اڑا دیا گیا
Next Article ڈاکٹر علی شاذف کا کالم : قوم پرستی، ایک بند گلی

