پی ٹی آئی نے جہاں کئی ایک انقلابی اقدامات کئے ہیں وہیں ایک انقلابی قدم ایسا بھی لیا گیا کہ جس کی مثال ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ یہ انقلابی قدم تاحال پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں کی نظروں سے بھی اوجھل ہے، یہ انقلاب اس وقت دیکھنے میں آیا کہ جب آنے والے انتخابات کی ٹکٹیں تقسیم ہوئیں اور ہم نے دیکھا کہ ایثار اور قربانی کی وہ مثال قائم ہوئی جو پاکستان تو کیا ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے دنیا کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ، کہ جب قومی اسمبلی کی 173 ٹکٹوں میں سے باقی جماعتوں سے آنے والے مہاجرین کے لئے 148 ٹکٹیں اور پی ٹی آئی کے انصار کے لئے صرف 25 ٹکٹیں مختص کی گئیں ۔ پی ٹی آئی میں پہلے سے موجود مومنین نےجوق در جوق آنے والوں کے لئے جگہ چھوڑ کر اس نئے پاکستان کی عملی بنیاد رکھ دی جس کا تذ کرہ قائد تبدیلی بارہا کر چکے ہیں۔ جناب معاملہ یہاں رکا نہیں بلکہ قربانی اور ایثار کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے موجودہ قائدین (شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین) نئے آنے والوں کے لیے جگہ بناتے بناتے آپس میں بھی الجھ بیٹھے اور اسی الجھاؤ میں نئے آنے والوں کے لیے اتنی جگہ بنی کہ اس میں شاہ محمود کا وہ بیٹا بھی فٹ ہوگیا کہ جس کو اپنے حلقے کے کل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد بھی ٹھیک سے معلوم نہیں ۔ انصارانِ تحریک انصاف( جن میں انصاری برادری کے لوگ قابل ذکر ہیں ) پیچھے ہٹتے ہٹتے یہاں تک پہنچے کہ علی محمد خان جیسے صف اول کے مجاہد نے ٹکٹ لینے سے یہ سوچ کر انکار کردیا کہ شاید کوئی بھوکا پیاسا بے حال مجاہد ابھی راستے میں ہو اور کسی بھی وقت تیل کی دھار یا امپائر کی انگلی دیکھ کر نئے پاکستان کی ٹرین کے پلیٹ فارم تک پہنچ جائے اور ایسا نہ ہو کہ نئے پاکستان کے تمام ٹکٹس ختم ہو چکے ہوں۔۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے مشرکانہ اقدامات سے تنگ آئے ہوئے تمام مجاہدین اب ان شیطانی قوتوں کے چنگل سے نکل کر قائد تبدیلی کے جھنڈے تلے جمع ہو چکے ہیں لہذا اب نئے پاکستان کی بنیاد اس ریاست کی طرز پر رکھی جائے گی جس کا وعدہ عمران خان کئی بار قوم سے کر چکے ہیں۔ اسلامی فلاحی ریاست جہاں کوئی کتا بھی پیاسا نہ رہے گا کہ کالا باغ ڈیم جو بن جائے گا ۔
منگل, اکتوبر 27, 2026
تازہ خبریں:
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم

