پشاور : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ’عمران خان کا مسئلہ حل کرنے‘ اور عدالتوں سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
پشاور میں عمران خان کی رہائی کے حوالے سے منعقد پی ٹی آئی جلسے سے خطاب کے دوران علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ’ہم عدلیہ کو پیغام دیتے ہیں کہ آئین کے مطابق آپ انصاف فراہم کریں اور آئین کے تحت عمران خان،ان کی اہلیہ، پی ٹی آئی کارکنان اور تمام 25 کروڑ عوام کو انصاف دیں۔‘
علی امین گنڈاپور نے پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے عمران خان کا ’مسئلہ‘ حل کرنے کی درخواست بھی کی۔
’عمران خان کہتا ہے کہ اس ملک میں عاصم لا ہے تو فیلڈ مارشل صاحب آپ پر فرض بنتا ہے کہ اپنا کردار ادا کریں۔ 25 کروڑ عوام کے لیڈر عمران خان کا مسئلہ حل کریں۔ جب عمران خان نے کہا کہ فوج ہماری ہے تو پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی تو آپ عمران خان کا مسئلہ حل کریں پوری عوام آپ کے ساتھ کھڑی ہو گی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور اس ظلم کا جواب دیا جائے جس میں ہمارے کارکنان اور رہنما جیلوں میں ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم اپنے صوبے میں کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔ جنگوں سے نقصان ہوا ہم جنگ نہیں چاہتے۔ انھوں نے کارکنوں سے عہد لیا کہ ’عمران خان کے باہر نکلنے تک آپ سب عمران خان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔‘ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی صورت میں آپریشن نہیں چاہتے بلکہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں تاکہ صوبے میں امن قائم ہو۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی وہ اس حق میں ہیں کہ یہاں آپریشن کیے جائیں۔
انھوں نے کہا کہ ’وفاقی حکومت سے کہتا ہوں افغانستان کے ساتھ مذاکرات کریں۔ عمران خان نے بھی مذاکرات کے ذریعے حالات بہتر کرنے کا کہا تھا۔‘علی امین گنڈاپورکا کہنا تھا کہ ہم ان کارروائیوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ ’جو حقیقی آزادی کی جنگ عمران خان لڑ رہا ہے وہ جنگ اس وقت جاری رہے گی جب تک مدینہ کی ریاست کا خواب پورا نہیں ہو جاتا جس میں لوگوں کو انصاف ملے۔‘
انھوں نے کہا کہ آج اس ملک میں عدلیہ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلے کریں۔ وزیر اعلی نے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ’عمران خان، ان کی اہلیہ جماعت کے کارکنوں اور پاکستان کی عوام کو انصاف فراہم کریں گے۔ اور جب تک آئین کے مطابق سارے ادارے کام نہیں کرتے، اس وقت تک آواز اٹھاتے رہیں گے۔‘
( بششکریہ : بی بی سی ۔۔ اردو )

