( گزشتہ سے پیوستہ )
ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی کے چھوٹے بھائی محمد اسحاق مشہدی نے اس کے لڑکپن کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ سکول کے دنوں میں سکول کے ایک کمرے کی اچانک چھت گر گئی اتفاق سے اس کمرے میں فاروق اکیلا ہی موجود تھا لیکن حیران کن طور پر وہ محفوظ رہا لیکن شاید اسے کوئی ایسی چوٹ لگی جس کے اثرات اگرچہ بہت دیر سے ظاہر ہوئے لیکن دیر پا ثابت ہوئے اس کو کمر اور ایک ٹانگ کے درد کی تکلیف اسے دور طالب علمی میں بھی رہتی تھی بعد میں پتہ چلا کہ اسے ریڑھ کی ہڈی کے ایک دو مہرے دب گئے تھے وہ ایک عرصے تک نامور نیرو سرجن ڈاکٹر افتخار راجہ مرحوم کے زیر علاج رہا اور اسے ایک آپریشن سے بھی گزرنا پڑا اللہ کے کرم سے یہ آپریشن کامیاب ہوا اور اسے اس اذیت سے نجات ملی۔ انگلینڈ میں رضوانہ بھابھی نے نہ صرف اس کا بہت خیال رکھا بلکہ خود جاب بھی کرتی رہیں تاکہ مالی مسائل نہ ہوں ۔
ایجوکیشن کے مضمون میں پی ایچ ڈی کر کے فاروق 1986 میں واپس آیا اسی برس بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے نو تشکیل شدہ شعبہءتعلیم میں بطور لیکچرر اس کا انتخاب ہوا اور وہ دسمبر کے مہینے میں ملتان آگیا اس نے نواں شہر میں رہائش کیلئے کرائے کا مکان لے لیا اور ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ پھر بحال ہوگیا ان میاں بیوی نے نہ جانے کیوں کوئی برطانوی شہری پیدا کرنے سے احتراز کیا تھا لیکن وطن واپسی پر بچے کی فکر سب سے اہم تھی کیونکہ اب فریقین کی ماؤں کی دعائیں اور تقاضے ہر وقت نذرانہءگوش نصیحت نیوش تھے ایک روز فاروق نے "امید کی نوید” سنائی خوشی اس کے لہجے سے عیاں تھی اس نے دھیمے سے ہنستے ہوئے کہا "اب بیٹے یا بیٹی کی بحثیں اور دعائیں شروع ہوگئی ہیں میں کہتا ہوں جو اللہ دے۔۔۔”
"۔۔۔ یار شاہ جی بیٹا تو چاہے ہم جیسا بھی ہو تو چل ہی جاتا ہے اللہ بیٹی دے تو خوب صورت اور خوب سیرت دے ۔۔۔” میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔ فاروق کو بھی یہ بات بہت اچھی لگی اور اس نے نہایت جلدی اور خلوص سے آمین کہا بیٹی زنیرہ پیدا ہوئی تو فاروق بے حد خوش تھا وہ بار بار مجھ سے کہتا "شاہ جی اللہ کا شکر ہے آپ کی دعا قبول ہوئی اللہ نے مجھے اتنی پیاری بیٹی عطا کی یہ بات وہ بڑھتی عمر کے ساتھ زنیرہ بیٹی کی ہر اچھائی اور کامیابی کے سامنے آنے پر دہراتا اور میں اسے چھیڑنے کیلئے کہتا "تم سید تو ہو لیکن ہو پکے وہابی میری اس دعا کی قبولیت پر راستے پر آجاو اور مجھے پیر مان لو! ”
"آپ تو پیر و مرشد ہو ہی میرے ماننے نہ ماننے سے کیا فرق پڑتا ہے پیرجی! ” وہ ہنس کر کہتا
"چلو شکر ہے بھابی رضوانہ وہابی نہیں ہے وہ تو پیروں کو مانتی ہے ۔۔۔ بھائی ہم اپنی بیٹی کو وہابی نہیں بننے دیں گے انشاءاللہ ”
اس طرح کا ہلکا پھلکا مذاق چلتا رہتا وہ مجھے بھی شادی کرلینے کے پرزور مشورے دیتا رہتا ۔۔۔ بیٹا "حسن”پیدا ہوا تو تو میں نے کہا "مبارک ہو قبلہ ایک اور وہابی سید پیدا ہو گیا آپ کی فیملی مکمل ہوئی۔۔۔ یہ جیسا بھی ہے بیٹا ہے ۔۔۔ اگرچہ تم پر گیا ہے لیکن بیٹا ہے ، چل جائے گا !”
میرے اس "تبصرے” پر فاروق بہت ہنسا لیکن کہنے لگا "یار اچھا خاصا ہے اب یہ بھی نہ کہو ۔۔۔”
"ہاں ابھی بچہ ہے شکل واضح نہیں ہوئی بڑا ہو کر ماں پر چلا گیا تو واقعی اچھا خاصا ہو جائے گا” میں نے ہنستے ہوئے کہا حسن واقعی ایک وجیہہ نوجوان نکلا ۔۔۔ وہ اپنے دور طالب علمی میں تھوڑا لاپروا تھا جس پر فاروق کبھی کبھی اپنی پریشانی کا اظہار کیا کرتا تو میں اسے کہتا "قبلہ شاہ جی یہ بھی اس فقیر کی دعا ہی کا اثر ہے۔۔۔ بیٹا ماں پر چلا گیا ہے۔۔۔ ٹھیک ہو جائے گا اب ہر کوئی تمہاری طرح جوانی ہی میں بزرگی تو نہیں اختیار کرسکتا!”
"نہیں بخاری صاحب اس کی ماں تو بہت کیئرنگ اور ذمہ دار ہے ۔۔۔ اسے میں لاکھ سمجھاتا ہوں پر۔۔۔! ” اس کی رگ زن مریدی ایسے موقعوں پر پھڑک اٹھتی تھی میں نے اس کی بات کاٹ کر کہا
” ہاں مجھے پتہ ہے اس کی عمر میں بھابھی جتنی بقراط تھی پڑھائی میں۔۔۔ تم جیسے کڑوس سے مدد لینے پر مجبور ہو گئی ۔۔۔ اور تم اس بھولی بھالی لڑکی کے پیچھے ہی پڑ گئے۔۔۔”
"۔۔۔ بھولی بھالی ۔۔۔! ” وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا اور پھر خوب ہنسا ۔۔۔ ایسے موقعوں پر اس کی ہنسی بچوں جیسی ہوتی تھی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے ۔۔۔ حسن پر اس کاغصہ ہوا ہو گیا اور وہ تھوڑی ہی دیر میں اس کی اچھائیوں کا ذکر لے بیٹھا۔۔۔ بالآخر حسن نے اس کو مایوس نہیں کیا اور سول انجینئرنگ کی ڈگری لے کر ایک معقول نوکری پر لگ گیا۔۔ فاروق نے اپنی زندگی ہی میں اچھے خاندانوں میں سپنے دونوں بچوں کی شادیاں بھی کر دیں اللہ انہیں سلامت اور خوش رکھے۔
فاروق ایک بہت محبت کرنے والا باپ تھا وہ نہ صرف اپنی اولاد کی زندگی کے ہر مرحلے ان کی بھلائی اور آسودگی کی راہیں تلاش کرنے کی فکر میں رہتا تھا بلکہ اسے اپنے عزیزوں اور دوستوں کے بچوں کی بھی بہت فکر رہتی تھی ۔۔۔ وہ میری زندگی کی ہر خوشی اور غم میں بہت اپنائیت کے ساتھ شریک رہا میری شادی پر وہ سب سے زیادہ خوش ہونے والوں میں سے تھا میرے بچوں کے بارے میں بھی وہ ہمیشہ خود اپنے بچوں کی طرح ہی سوچتا رہتا تھا ۔۔۔ علی اور حدیقہ (میرے بچے) کی ہر کامیابی پر اس نے مجھے خاص طور پر مبارک باد دی اور خود ان کی بھی حوصلہ افزائی کی ۔۔۔ وہ میرے بچوں کے بچپن کی یادوں کا ایک لازمی حصہ ہے کیونکہ سرگودھا یونیورسٹی میں میرے قیام(2003/2007) کے دوران میں وہ بارہا کسی زبانی امتحان کسی انٹرویو یا ورکشاپس میں شرکت کے لئے آیا اکثر وہ میرے ہی گھر میں ٹھہرتا اور میرے بچوں کے ساتھ خوب گپ لگاتا جو ان دنوں سکول کی ابتدائی کلاسوں میں پڑھتے تھے ۔۔۔ ایک بار اس نے کوک زیادہ پیتے دیکھ کر میری ننھی بیٹی حدیقہ سے کہا "بیٹی کوک زیادہ پینا بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔۔۔ دیکھو اگر کوک کی بوتل میں ہڈی ڈال کر رکھ دو تو وہ کچھ ہی دیر میں گلنے لگ جاتی ہے۔۔۔”
حدی(حدیقہ) اپنے پسندیدہ مشروب کے بارے میں یہ ہولناک بات سن کر بہت اپ سیٹ اور دل ہی دل میں اپنے انکل سے ناراض بھی ہوئی ۔۔۔ بعد میں وہ خود تو محتاط ہوئی ہی کسی اور کو خاص طور پر علی کو کوک پیتے دیکھ کر اپنی باریک آواز میں چلاتی ” نہیں۔۔۔ بھیا۔۔۔ نہیں ہڈیاں گل چاتی ہیں۔۔۔ انکل مشہدی نے نہیں کہا تھا بھول گئے؟”
یہ مذاق اب تک ہمارے گھر میں چلتا ہے اور انکل مشہدی کو بڑی محبت سے یاد کیا جاتا ہے اسی طرح کی اور کتنی باتیں اور یادیں ہیں جو احمد فاروق مشہدی کو ہماری یادوں اور باتوں میں زندہ اور باقی رکھے ہوئے ہیں۔
یہ درویش بھی (جنوری 1989) یونیورسٹی کے شعبہ اردو کا حصہ بنا تو ڈاکٹر فاروق مشہدی سے ملاقاتیں بڑھ گئیں لیکن ایک عجب بےقاعدگی سے، کیونکہ یونیورسٹی اس معاملے میں عجیب بے برکت جگہ ہوتی ہے ہر کوئی اپنے ہی شعبے کی محدود فضا کا قیدی بن کر رہ جاتا ایک مخصوص نظام اوقات، اپنے ہی شعبے کی لائبریری، قریبی کینٹین اور ٹک شاپ ، شعبے ہی کے طالبان علم اور دیگر محدود سی شعبہ جاتی سرگرمیوں۔۔۔ کنوئیں کے مینڈک اسی محدود سے ماحول کو کل کائنات سمجھ کر ریٹائرمنٹ تک اس میں مگن رہتے ہیں۔۔۔ سرکاری یونیورسٹیاں ایک طویل عرصے سے سیاست گردی کے گڑھ بنی رہی ہیں جس سے ان کے علمی و تحقیقی میعار اور وقار میں بہت کمی آئی ہے لیکن یہاں سیاست اور سیاسی گروہ بندی کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سے اساتذہ کرام اپنے اپنے شعبوں کے باہر بھی رابطے بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ درویش بھی شعبہ اردو میں موجود اپنے ایک استاد محترم کے فطری "شوق سیاست گری” کے زیر اثر چندے اس جولاں گاہ کا حصہ بننے کے شوق میں مبتلا ہوا اگرچہ کچھ ہی عرصے میں اس کی شاطرانہ چالوں کو اپنے مزاج کے نا موافق پاکر اس سے کنارہ کش ہوا (جس کا اسے کافی نقصان ہوا کیونکہ مخالف گروپ نے پھر بھی مجھے کبھی غیرجانبدار نہیں سمجھا وہ ہمیشہ مجھے بائیں بازو کا نظریاتی شخص سمجھتے رہے اور جس گروپ سے وابستگی رہی تھی وہ اس درویش کی” سیاسی بے عملی” کے باعث اس کے کسی مسئلے میں کھل کر اس کا ساتھ دینے سے محترز رہتے) اکرچہ فاروق ، جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے اپنے دور طالب علمی میں نظریاتی طور پر جماعت اسلامی سے متفق تھا لیکن ہمارے یہاں نظریے اور عمل میں بہت فرق بلکہ تضاد ہوتا ہے یونیورسٹیوں کے بہت پڑھے لکھے اساتذہ کرام بھی اس دوعملی سے بچ نہیں پاتے فاروق کے بارے میں میرا مشاہدہ یہ رہا کہ قول و فعل یا نظریہ و عمل میں تضاد کے مظاہر اس کو بہت بے چین کردیتے تھے وہ خود اگرچہ کوئی "عملی آدمی” نہیں تھا اور خاص طور پر سیاسی معاملات سے یکسر گریزاں ہی رہتا لیکن اسے کچھ ہی عرصے میں پتہ چل گیا کہ ان یونیورسٹیوں میں اس کوچہءملامت سے مفر ممکن نہیں ۔۔۔ہوا یہ کہ اس کے شعبے کے ایک طالب علم جو یونیورسٹی کی اسلامی جمیعت طلبا کے بہت طاقتور ناظم تھے (ان دنوں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان پر بھی پنجاب یونیورسٹی کی طرح عملی طور پر اسلامی جمعیت طلباء کا قبضہ تھا اور مذکورہ ناظم صاحب کی سرکردگی میں طلبا برادری کو فاسد عناصر سے پاک کرنے کی پرقوت مہم کامیابی سے جاری تھی اساتذہ میں ایک گروہ البتہ اس سفر راست میں رکاوٹ بنا رہتا تھا جس کے الگ حکمت عملی تھی اور مذکورہ ناظم صاحب اس پر عمل پیرا تھے) ان کی خواہش اور کوشش تھی کہ وہ اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرلیں تاکہ وہ یونیورسٹی میں بطور استاد آ کر اپنے مقدس مشن کو آگے بڑھا سکیں ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی کے ذاتی اور خاندانی پس منظر کے باعث انہیں توقع تھی کہ وہ اس معاملے میں ان کی مدد کرینگے لیکن استاد محترم ( فاروق) کی خود اپنی عزت نفس کی دخل اندازی سے ایسا نہ ہو سکا ہوا یہ کہ بیرونی ممتحن نے ناظم صاحب کے پرچے میں بہت کم نمبر دیئے ( ان دنوں امتحان کا سالانہنظام رائج تھا اور پرچے جانچ کے لئے بیرونی ممتحنوں کو بھجوائے جاتے تھے سوالیہ پرچے بھی وہی بناتے۔۔۔ اندرونی ممتحن یونیورسٹی کا وہ استاد ہوتا جو دراصل کلاس کو وہ پرچہ پڑھاتا تھا۔۔۔ اندرونی ممتحن اگر بیرونی ممتحن سے متفق نہ ہوتا تو وہ زیادہ سے زیادہ پانچ تک نمبروں کی کمی بیشی کر سکتا تھا یا زیادہ اختلاف کی صورت میں پرچہ تیسرے ممتحن کو ازسر نو جانچ کیلئے بھیج دیتا جس کا فیصلہ حتمی ہوتا)۔ فاروق پر مختلف طرح کے شدید دباؤ آنے لگے کہ موصوف کا پرچہ ازسرنو جانچ کے لئے تسرے( بیرونی) ممتحن کو بھیجا جائے تاکہ "ناروا مارکنگ کی تصحیح ” ہو سکے لیکن اندرونی ممتحن (فاروق مشہدی) کا موقف یہ تھا کہ مارکنگ پہلے ہے کافی نرم کی گئی ہے اسلئے نمبروں میں اضافہ کے لئے وہ ایسی کوئی سفارش نہیں کرینگے معاملہ وائس چانسلر تک پہنچا لیکن شاہ جی نے کسی کی بات نہ مانی شعبہ علم التعلیم کے اس وقت کے صدرنشین پروفیسر ڈاکٹر مشتاق گورایا بھی بہت مذہبی اور با اصول انسان تھے انہوں نے نہ صرف یہ کہ ڈاکٹر فاروق مشہدی کا ساتھ دیا بلکہ بعد میں طالب علم مذکور کے کمزور تحقیقی مقالے پر اس کے استحقاق سے زیادہ نمبر دینے کے دباؤ کو قبول نہیں کیا اور یوں ان صاحب کی ( اور ان کی تنظیم کی)شعبہ میں بطور لیکچرر آنے کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔ کچھ اس واقعے کا اور کچھ فاروق کے بیرون ملک رہنے اور وسیع تر مطالعے کا اثر تھا کہ وہ بعد ازاں کسی بھی انتہا پسندانہ اور بنیاد پرستانہ سوچ سے دور ہی رہا اور ہمیشہ وہ کیا جس کی خود اس کی اپنی آزادانہ سوچ نے اجازت دی۔
ڈاکٹر فاروق مشہدی اگرچہ اپنی فکری آزادی کی بنا پر یونیورسٹی کی سیاست سے الگ تھلگ ہی رہتا تھا لیکن اس نے ہمیشہ اساتذہ کے قدرے ترقی پسند گروپ کا ساتھ دیا اگرچہ اس گروپ سے اسے شاید ہی کوئی فائدہ ملا ہو حتی کہ جب بطور پروفیسر اس نے (اپنے مزاج کے برعکس نجانے کیوں) یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کی ممبرشپ کا الیکشن لڑنے کی خواہش کا باقاعدہ اظہار کیا تو اس گروپ نے اس کی سینئریٹی اور اصول پرستی کے باوجود اس کو اپنا امیدوار نامزد نہیں کیا جس کا اسے گلہ رہا میں نے اسے یہی کہا کہ شاہ جی، گروپ کو دراصل آپ کی اسی بات سے خوف ہے جس کی بظاہر تعریف کی جاتی ہے یعنی آپ کی اصول پسندی سے!
فاروق کی اصول پسندی کا ذکر ان کے بھائیوں خالد جاوید مشہدی اسحاق مشہدی اور طارق مشہدی بھی کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کبھی اسی وجہ سے انہیں شعبے کے چیئرمین کے طور پر وہ کبھی ان سے کوئی سفارش کرنے کی ہمت ہی نہیں کرتے تھے لیکن میرا تجربہ ہے کہ وہ بے لچک آدمی ہرگز نہیں تھا اس کے برعکس وہ بے حد ہمدرد اور شفیق انسان تھا۔۔۔ یونیورسٹی کے ایک استاد اور چیرمین کے پاس اختیارات ہی کیا ہوتے ہیں؟ وہ اپنے شاگردوں اور رفقائے کار کے مسائل کے حل میں ہمیشہ ایک ہمدرد مددگار ثابت ہوتا اس لئے میں نے کبھی کسی کو اس سے آزردہ نہیں پایا۔۔۔ یہ درویش بارہا اس کے پاس اس کے کسی شاگرد یا ساتھی کا کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ لے کر گیا اس نے بات ہمیشہ توجہ اور ہمدردی سے سنی اور اس مسئلے کے حل کی کوئی سبیل پیدا کی۔
( جاری ہے )
ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی کے چھوٹے بھائی محمد اسحاق مشہدی نے اس کے لڑکپن کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ سکول کے دنوں میں سکول کے ایک کمرے کی اچانک چھت گر گئی اتفاق سے اس کمرے میں فاروق اکیلا ہی موجود تھا لیکن حیران کن طور پر وہ محفوظ رہا لیکن شاید اسے کوئی ایسی چوٹ لگی جس کے اثرات اگرچہ بہت دیر سے ظاہر ہوئے لیکن دیر پا ثابت ہوئے اس کو کمر اور ایک ٹانگ کے درد کی تکلیف اسے دور طالب علمی میں بھی رہتی تھی بعد میں پتہ چلا کہ اسے ریڑھ کی ہڈی کے ایک دو مہرے دب گئے تھے وہ ایک عرصے تک نامور نیرو سرجن ڈاکٹر افتخار راجہ مرحوم کے زیر علاج رہا اور اسے ایک آپریشن سے بھی گزرنا پڑا اللہ کے کرم سے یہ آپریشن کامیاب ہوا اور اسے اس اذیت سے نجات ملی۔ انگلینڈ میں رضوانہ بھابھی نے نہ صرف اس کا بہت خیال رکھا بلکہ خود جاب بھی کرتی رہیں تاکہ مالی مسائل نہ ہوں ۔
ایجوکیشن کے مضمون میں پی ایچ ڈی کر کے فاروق 1986 میں واپس آیا اسی برس بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے نو تشکیل شدہ شعبہءتعلیم میں بطور لیکچرر اس کا انتخاب ہوا اور وہ دسمبر کے مہینے میں ملتان آگیا اس نے نواں شہر میں رہائش کیلئے کرائے کا مکان لے لیا اور ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ پھر بحال ہوگیا ان میاں بیوی نے نہ جانے کیوں کوئی برطانوی شہری پیدا کرنے سے احتراز کیا تھا لیکن وطن واپسی پر بچے کی فکر سب سے اہم تھی کیونکہ اب فریقین کی ماؤں کی دعائیں اور تقاضے ہر وقت نذرانہءگوش نصیحت نیوش تھے ایک روز فاروق نے "امید کی نوید” سنائی خوشی اس کے لہجے سے عیاں تھی اس نے دھیمے سے ہنستے ہوئے کہا "اب بیٹے یا بیٹی کی بحثیں اور دعائیں شروع ہوگئی ہیں میں کہتا ہوں جو اللہ دے۔۔۔”
"۔۔۔ یار شاہ جی بیٹا تو چاہے ہم جیسا بھی ہو تو چل ہی جاتا ہے اللہ بیٹی دے تو خوب صورت اور خوب سیرت دے ۔۔۔” میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔ فاروق کو بھی یہ بات بہت اچھی لگی اور اس نے نہایت جلدی اور خلوص سے آمین کہا بیٹی زنیرہ پیدا ہوئی تو فاروق بے حد خوش تھا وہ بار بار مجھ سے کہتا "شاہ جی اللہ کا شکر ہے آپ کی دعا قبول ہوئی اللہ نے مجھے اتنی پیاری بیٹی عطا کی یہ بات وہ بڑھتی عمر کے ساتھ زنیرہ بیٹی کی ہر اچھائی اور کامیابی کے سامنے آنے پر دہراتا اور میں اسے چھیڑنے کیلئے کہتا "تم سید تو ہو لیکن ہو پکے وہابی میری اس دعا کی قبولیت پر راستے پر آجاو اور مجھے پیر مان لو! ”
"آپ تو پیر و مرشد ہو ہی میرے ماننے نہ ماننے سے کیا فرق پڑتا ہے پیرجی! ” وہ ہنس کر کہتا
"چلو شکر ہے بھابی رضوانہ وہابی نہیں ہے وہ تو پیروں کو مانتی ہے ۔۔۔ بھائی ہم اپنی بیٹی کو وہابی نہیں بننے دیں گے انشاءاللہ ”
اس طرح کا ہلکا پھلکا مذاق چلتا رہتا وہ مجھے بھی شادی کرلینے کے پرزور مشورے دیتا رہتا ۔۔۔ بیٹا "حسن”پیدا ہوا تو تو میں نے کہا "مبارک ہو قبلہ ایک اور وہابی سید پیدا ہو گیا آپ کی فیملی مکمل ہوئی۔۔۔ یہ جیسا بھی ہے بیٹا ہے ۔۔۔ اگرچہ تم پر گیا ہے لیکن بیٹا ہے ، چل جائے گا !”
میرے اس "تبصرے” پر فاروق بہت ہنسا لیکن کہنے لگا "یار اچھا خاصا ہے اب یہ بھی نہ کہو ۔۔۔”
"ہاں ابھی بچہ ہے شکل واضح نہیں ہوئی بڑا ہو کر ماں پر چلا گیا تو واقعی اچھا خاصا ہو جائے گا” میں نے ہنستے ہوئے کہا حسن واقعی ایک وجیہہ نوجوان نکلا ۔۔۔ وہ اپنے دور طالب علمی میں تھوڑا لاپروا تھا جس پر فاروق کبھی کبھی اپنی پریشانی کا اظہار کیا کرتا تو میں اسے کہتا "قبلہ شاہ جی یہ بھی اس فقیر کی دعا ہی کا اثر ہے۔۔۔ بیٹا ماں پر چلا گیا ہے۔۔۔ ٹھیک ہو جائے گا اب ہر کوئی تمہاری طرح جوانی ہی میں بزرگی تو نہیں اختیار کرسکتا!”
"نہیں بخاری صاحب اس کی ماں تو بہت کیئرنگ اور ذمہ دار ہے ۔۔۔ اسے میں لاکھ سمجھاتا ہوں پر۔۔۔! ” اس کی رگ زن مریدی ایسے موقعوں پر پھڑک اٹھتی تھی میں نے اس کی بات کاٹ کر کہا
” ہاں مجھے پتہ ہے اس کی عمر میں بھابھی جتنی بقراط تھی پڑھائی میں۔۔۔ تم جیسے کڑوس سے مدد لینے پر مجبور ہو گئی ۔۔۔ اور تم اس بھولی بھالی لڑکی کے پیچھے ہی پڑ گئے۔۔۔”
"۔۔۔ بھولی بھالی ۔۔۔! ” وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا اور پھر خوب ہنسا ۔۔۔ ایسے موقعوں پر اس کی ہنسی بچوں جیسی ہوتی تھی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے ۔۔۔ حسن پر اس کاغصہ ہوا ہو گیا اور وہ تھوڑی ہی دیر میں اس کی اچھائیوں کا ذکر لے بیٹھا۔۔۔ بالآخر حسن نے اس کو مایوس نہیں کیا اور سول انجینئرنگ کی ڈگری لے کر ایک معقول نوکری پر لگ گیا۔۔ فاروق نے اپنی زندگی ہی میں اچھے خاندانوں میں سپنے دونوں بچوں کی شادیاں بھی کر دیں اللہ انہیں سلامت اور خوش رکھے۔
فاروق ایک بہت محبت کرنے والا باپ تھا وہ نہ صرف اپنی اولاد کی زندگی کے ہر مرحلے ان کی بھلائی اور آسودگی کی راہیں تلاش کرنے کی فکر میں رہتا تھا بلکہ اسے اپنے عزیزوں اور دوستوں کے بچوں کی بھی بہت فکر رہتی تھی ۔۔۔ وہ میری زندگی کی ہر خوشی اور غم میں بہت اپنائیت کے ساتھ شریک رہا میری شادی پر وہ سب سے زیادہ خوش ہونے والوں میں سے تھا میرے بچوں کے بارے میں بھی وہ ہمیشہ خود اپنے بچوں کی طرح ہی سوچتا رہتا تھا ۔۔۔ علی اور حدیقہ (میرے بچے) کی ہر کامیابی پر اس نے مجھے خاص طور پر مبارک باد دی اور خود ان کی بھی حوصلہ افزائی کی ۔۔۔ وہ میرے بچوں کے بچپن کی یادوں کا ایک لازمی حصہ ہے کیونکہ سرگودھا یونیورسٹی میں میرے قیام(2003/2007) کے دوران میں وہ بارہا کسی زبانی امتحان کسی انٹرویو یا ورکشاپس میں شرکت کے لئے آیا اکثر وہ میرے ہی گھر میں ٹھہرتا اور میرے بچوں کے ساتھ خوب گپ لگاتا جو ان دنوں سکول کی ابتدائی کلاسوں میں پڑھتے تھے ۔۔۔ ایک بار اس نے کوک زیادہ پیتے دیکھ کر میری ننھی بیٹی حدیقہ سے کہا "بیٹی کوک زیادہ پینا بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔۔۔ دیکھو اگر کوک کی بوتل میں ہڈی ڈال کر رکھ دو تو وہ کچھ ہی دیر میں گلنے لگ جاتی ہے۔۔۔”
حدی(حدیقہ) اپنے پسندیدہ مشروب کے بارے میں یہ ہولناک بات سن کر بہت اپ سیٹ اور دل ہی دل میں اپنے انکل سے ناراض بھی ہوئی ۔۔۔ بعد میں وہ خود تو محتاط ہوئی ہی کسی اور کو خاص طور پر علی کو کوک پیتے دیکھ کر اپنی باریک آواز میں چلاتی ” نہیں۔۔۔ بھیا۔۔۔ نہیں ہڈیاں گل چاتی ہیں۔۔۔ انکل مشہدی نے نہیں کہا تھا بھول گئے؟”
یہ مذاق اب تک ہمارے گھر میں چلتا ہے اور انکل مشہدی کو بڑی محبت سے یاد کیا جاتا ہے اسی طرح کی اور کتنی باتیں اور یادیں ہیں جو احمد فاروق مشہدی کو ہماری یادوں اور باتوں میں زندہ اور باقی رکھے ہوئے ہیں۔
یہ درویش بھی (جنوری 1989) یونیورسٹی کے شعبہ اردو کا حصہ بنا تو ڈاکٹر فاروق مشہدی سے ملاقاتیں بڑھ گئیں لیکن ایک عجب بےقاعدگی سے، کیونکہ یونیورسٹی اس معاملے میں عجیب بے برکت جگہ ہوتی ہے ہر کوئی اپنے ہی شعبے کی محدود فضا کا قیدی بن کر رہ جاتا ایک مخصوص نظام اوقات، اپنے ہی شعبے کی لائبریری، قریبی کینٹین اور ٹک شاپ ، شعبے ہی کے طالبان علم اور دیگر محدود سی شعبہ جاتی سرگرمیوں۔۔۔ کنوئیں کے مینڈک اسی محدود سے ماحول کو کل کائنات سمجھ کر ریٹائرمنٹ تک اس میں مگن رہتے ہیں۔۔۔ سرکاری یونیورسٹیاں ایک طویل عرصے سے سیاست گردی کے گڑھ بنی رہی ہیں جس سے ان کے علمی و تحقیقی میعار اور وقار میں بہت کمی آئی ہے لیکن یہاں سیاست اور سیاسی گروہ بندی کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سے اساتذہ کرام اپنے اپنے شعبوں کے باہر بھی رابطے بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ درویش بھی شعبہ اردو میں موجود اپنے ایک استاد محترم کے فطری "شوق سیاست گری” کے زیر اثر چندے اس جولاں گاہ کا حصہ بننے کے شوق میں مبتلا ہوا اگرچہ کچھ ہی عرصے میں اس کی شاطرانہ چالوں کو اپنے مزاج کے نا موافق پاکر اس سے کنارہ کش ہوا (جس کا اسے کافی نقصان ہوا کیونکہ مخالف گروپ نے پھر بھی مجھے کبھی غیرجانبدار نہیں سمجھا وہ ہمیشہ مجھے بائیں بازو کا نظریاتی شخص سمجھتے رہے اور جس گروپ سے وابستگی رہی تھی وہ اس درویش کی” سیاسی بے عملی” کے باعث اس کے کسی مسئلے میں کھل کر اس کا ساتھ دینے سے محترز رہتے) اکرچہ فاروق ، جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے اپنے دور طالب علمی میں نظریاتی طور پر جماعت اسلامی سے متفق تھا لیکن ہمارے یہاں نظریے اور عمل میں بہت فرق بلکہ تضاد ہوتا ہے یونیورسٹیوں کے بہت پڑھے لکھے اساتذہ کرام بھی اس دوعملی سے بچ نہیں پاتے فاروق کے بارے میں میرا مشاہدہ یہ رہا کہ قول و فعل یا نظریہ و عمل میں تضاد کے مظاہر اس کو بہت بے چین کردیتے تھے وہ خود اگرچہ کوئی "عملی آدمی” نہیں تھا اور خاص طور پر سیاسی معاملات سے یکسر گریزاں ہی رہتا لیکن اسے کچھ ہی عرصے میں پتہ چل گیا کہ ان یونیورسٹیوں میں اس کوچہءملامت سے مفر ممکن نہیں ۔۔۔ہوا یہ کہ اس کے شعبے کے ایک طالب علم جو یونیورسٹی کی اسلامی جمیعت طلبا کے بہت طاقتور ناظم تھے (ان دنوں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان پر بھی پنجاب یونیورسٹی کی طرح عملی طور پر اسلامی جمعیت طلباء کا قبضہ تھا اور مذکورہ ناظم صاحب کی سرکردگی میں طلبا برادری کو فاسد عناصر سے پاک کرنے کی پرقوت مہم کامیابی سے جاری تھی اساتذہ میں ایک گروہ البتہ اس سفر راست میں رکاوٹ بنا رہتا تھا جس کے الگ حکمت عملی تھی اور مذکورہ ناظم صاحب اس پر عمل پیرا تھے) ان کی خواہش اور کوشش تھی کہ وہ اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرلیں تاکہ وہ یونیورسٹی میں بطور استاد آ کر اپنے مقدس مشن کو آگے بڑھا سکیں ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی کے ذاتی اور خاندانی پس منظر کے باعث انہیں توقع تھی کہ وہ اس معاملے میں ان کی مدد کرینگے لیکن استاد محترم ( فاروق) کی خود اپنی عزت نفس کی دخل اندازی سے ایسا نہ ہو سکا ہوا یہ کہ بیرونی ممتحن نے ناظم صاحب کے پرچے میں بہت کم نمبر دیئے ( ان دنوں امتحان کا سالانہنظام رائج تھا اور پرچے جانچ کے لئے بیرونی ممتحنوں کو بھجوائے جاتے تھے سوالیہ پرچے بھی وہی بناتے۔۔۔ اندرونی ممتحن یونیورسٹی کا وہ استاد ہوتا جو دراصل کلاس کو وہ پرچہ پڑھاتا تھا۔۔۔ اندرونی ممتحن اگر بیرونی ممتحن سے متفق نہ ہوتا تو وہ زیادہ سے زیادہ پانچ تک نمبروں کی کمی بیشی کر سکتا تھا یا زیادہ اختلاف کی صورت میں پرچہ تیسرے ممتحن کو ازسر نو جانچ کیلئے بھیج دیتا جس کا فیصلہ حتمی ہوتا)۔ فاروق پر مختلف طرح کے شدید دباؤ آنے لگے کہ موصوف کا پرچہ ازسرنو جانچ کے لئے تسرے( بیرونی) ممتحن کو بھیجا جائے تاکہ "ناروا مارکنگ کی تصحیح ” ہو سکے لیکن اندرونی ممتحن (فاروق مشہدی) کا موقف یہ تھا کہ مارکنگ پہلے ہے کافی نرم کی گئی ہے اسلئے نمبروں میں اضافہ کے لئے وہ ایسی کوئی سفارش نہیں کرینگے معاملہ وائس چانسلر تک پہنچا لیکن شاہ جی نے کسی کی بات نہ مانی شعبہ علم التعلیم کے اس وقت کے صدرنشین پروفیسر ڈاکٹر مشتاق گورایا بھی بہت مذہبی اور با اصول انسان تھے انہوں نے نہ صرف یہ کہ ڈاکٹر فاروق مشہدی کا ساتھ دیا بلکہ بعد میں طالب علم مذکور کے کمزور تحقیقی مقالے پر اس کے استحقاق سے زیادہ نمبر دینے کے دباؤ کو قبول نہیں کیا اور یوں ان صاحب کی ( اور ان کی تنظیم کی)شعبہ میں بطور لیکچرر آنے کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔ کچھ اس واقعے کا اور کچھ فاروق کے بیرون ملک رہنے اور وسیع تر مطالعے کا اثر تھا کہ وہ بعد ازاں کسی بھی انتہا پسندانہ اور بنیاد پرستانہ سوچ سے دور ہی رہا اور ہمیشہ وہ کیا جس کی خود اس کی اپنی آزادانہ سوچ نے اجازت دی۔
ڈاکٹر فاروق مشہدی اگرچہ اپنی فکری آزادی کی بنا پر یونیورسٹی کی سیاست سے الگ تھلگ ہی رہتا تھا لیکن اس نے ہمیشہ اساتذہ کے قدرے ترقی پسند گروپ کا ساتھ دیا اگرچہ اس گروپ سے اسے شاید ہی کوئی فائدہ ملا ہو حتی کہ جب بطور پروفیسر اس نے (اپنے مزاج کے برعکس نجانے کیوں) یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کی ممبرشپ کا الیکشن لڑنے کی خواہش کا باقاعدہ اظہار کیا تو اس گروپ نے اس کی سینئریٹی اور اصول پرستی کے باوجود اس کو اپنا امیدوار نامزد نہیں کیا جس کا اسے گلہ رہا میں نے اسے یہی کہا کہ شاہ جی، گروپ کو دراصل آپ کی اسی بات سے خوف ہے جس کی بظاہر تعریف کی جاتی ہے یعنی آپ کی اصول پسندی سے!
فاروق کی اصول پسندی کا ذکر ان کے بھائیوں خالد جاوید مشہدی اسحاق مشہدی اور طارق مشہدی بھی کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کبھی اسی وجہ سے انہیں شعبے کے چیئرمین کے طور پر وہ کبھی ان سے کوئی سفارش کرنے کی ہمت ہی نہیں کرتے تھے لیکن میرا تجربہ ہے کہ وہ بے لچک آدمی ہرگز نہیں تھا اس کے برعکس وہ بے حد ہمدرد اور شفیق انسان تھا۔۔۔ یونیورسٹی کے ایک استاد اور چیرمین کے پاس اختیارات ہی کیا ہوتے ہیں؟ وہ اپنے شاگردوں اور رفقائے کار کے مسائل کے حل میں ہمیشہ ایک ہمدرد مددگار ثابت ہوتا اس لئے میں نے کبھی کسی کو اس سے آزردہ نہیں پایا۔۔۔ یہ درویش بارہا اس کے پاس اس کے کسی شاگرد یا ساتھی کا کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ لے کر گیا اس نے بات ہمیشہ توجہ اور ہمدردی سے سنی اور اس مسئلے کے حل کی کوئی سبیل پیدا کی۔
( جاری ہے )
فیس بک کمینٹ

