سوانح عمری لکھنا بظاہر اپنی زندگی کے واقعات قلم بند کرنے کا نام ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک نہایت مشکل، نازک اور ذمہ دارانہ فن ہے۔ اس کے لیے محض یادداشتوں کا ذخیرہ کافی نہیں، بلکہ صداقتِ اظہار، خود احتسابی، جرأتِ اعتراف اور زندگی کے تجربات کو اس انداز میں پیش کرنے کا سلیقہ بھی درکار ہوتا ہے کہ ذاتی واقعات اجتماعی شعور کا حصہ بن سکیں۔ سوانح عمری بھی درحقیقت زندگی کا ایک سفرنامہ ہے؛ فرق صرف اتنا ہے کہ سفرنامہ انسان کو مختلف علاقوں، تہذیبوں اور معاشروں کی سیر کراتا ہے، جب کہ سوانح عمری اسے ایک انسان کی زندگی کے نشیب و فراز، تجربات، مشاہدات اور فکری ارتقا کی مسافت سے آشنا کرتی ہے۔
جس طرح بعض سفرنامے محض رنگینیوں، دل چسپ مناظر اور خوش گوار تجربات کے بیان تک محدود رہتے ہیں اور زندگی کی سنجیدگیوں، تلخیوں اور زمینی حقائق کو نظرانداز کر دیتے ہیں، اسی طرح بعض سوانح عمریاں بھی خود ستائی، ذاتی تشہیر اور نمود و نمائش کا وسیلہ بن کر رہ جاتی ہیں۔ ایسی تحریریں، جن میں مصنف کی ذات سے آگے بڑھ کر کوئی قابلِ ذکر تجربہ، کارنامہ، فکری بصیرت یا اجتماعی افادیت سامنے نہ آئے، قاری کے لیے محض کاغذوں کا ایک انبار ثابت ہوتی ہیں۔ سوانح نگاری کا اصل کمال یہ ہے کہ مصنف اپنی زندگی کے حقائق بیان کرنے کے ساتھ ان گوشوں کو بھی عیاں کرے جو پڑھنے والوں کے لیے معلومات، بصیرت اور فکری رہنمائی کا سبب بنیں۔ اسے اپنی ذات کے روشن پہلوؤں کے ساتھ زندگی کے ان حقائق سے بھی آنکھیں نہیں چرانا چاہیے جو خود احتسابی، حقیقت پسندی اور جرأتِ اظہار کا تقاضا کرتے ہیں۔
اردو ادب کی تاریخ متعدد اہم سوانح عمریوں کی گواہ ہے۔ اس صنف نے ہمیں ایسی شخصیات کی زندگیوں سے روشناس کرایا ہے جن کے تجربات، جدوجہد، فکری رویّوں اور مشاہدات نے اپنے عہد کو سمجھنے میں ہماری مدد کی۔ تاہم ایسی تصانیف کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے جو ذاتی زندگی کے بیان سے آگے بڑھ کر اپنے زمانے، معاشرے اور قومی زندگی کے بنیادی سوالات کو بھی موضوع بنائیں۔ انجینئر ممتاز احمد خان کی کتاب ’’ممتاز نامہ‘‘ اسی تناظر میں جدید سوانح عمری کی روایت میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت سے قابلِ توجہ ہے۔ یہ محض ایک فرد کی زندگی کا احوال نہیں، بلکہ واقعات، تجربات، مشاہدات اور نظریات کے ذریعے صداقت، سچائی، انصاف اور سماجی ذمہ داری کا ایسا فکری بیانیہ تشکیل دیتی ہے جو قاری کو اپنے عہد کے اہم مسائل پر غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔
سوانح سے اجتماعی شعور تک کا فکری سفر ملاحظہ کیجیے۔۔۔۔۔
’’ممتاز نامہ‘‘ کی فکری اساس ایک ایسے اخلاقی تصور پر قائم ہے جس میں انسان کی قدر و منزلت کا تعین اس کی دولت، اختیار، مرتبے یا ذاتی کامیابیوں سے نہیں، بلکہ اس کے کردار اور اجتماعی زندگی میں اس کی افادیت سے ہوتا ہے۔ انجینئر ممتاز احمد خان نے اپنی اس آب بیتی کو ان انسانوں کے نام منسوب کیا ہے جو اپنی تمام تر صلاحیتوں، اختیارات اور وسائل کو معاشرے میں انصاف کے فروغ اور ظلم کے خاتمے کے لیے بھرپور انداز میں استعمال کرتے ہیں۔
اس کے برعکس وہ ان لوگوں کے طرزِ زندگی پر بھی سوال اٹھاتے ہیں جو اپنی دولت، اختیارات اور وسائل کو معاشرے کی فلاح و بہبود کے بجائے محض اپنی عیش و عشرت اور ذاتی آسائشوں تک محدود رکھتے ہیں۔ مصنف کا یہ زاویۂ نظر ایک بنیادی اخلاقی سوال کو جنم دیتا ہے: کیا انسان کی زندگی کا مقصد صرف اپنی ذات کی آسودگی ہے، یا اس پر اپنے معاشرے اور اپنے ہم عصر انسانوں کے حوالے سے بھی کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟
یہی سوال ’’ممتاز نامہ‘‘ کو ایک عام سوانح عمری سے ممتاز کرتا ہے۔ یہاں زندگی کے واقعات محض ماضی کی یادوں کے طور پر سامنے نہیں آتے، بلکہ ان سے اخذ ہونے والے تجربات اور نتائج اجتماعی زندگی کی معنویت میں اضافہ کرتے ہیں۔ مصنف اپنی زندگی کے مشاہدات کو ایسے موضوعات سے مربوط کرتے ہیں جن کا تعلق ایک فرد سے بڑھ کر پوری قوم اور معاشرے سے ہے۔ یوں یہ کتاب قاری کو صرف مصنف کی زندگی جاننے کی دعوت نہیں دیتی، بلکہ اسے اپنے رویّوں، ترجیحات اور سماجی ذمہ داریوں پر بھی نظرِ ثانی کرنے کی طرف مائل کرتی ہے۔
اٹھانوے عنوانات کے تحت موضوعات کا تنوع اور فکری وسعت ،اس سوانح حیات کا طرہ امتیاز ہے
’’ممتاز نامہ‘‘ کے اٹھانوے عنوانات اس کے موضوعاتی تنوع اور مصنف کی فکری دل چسپیوں کی وسعت کو نمایاں کرتے ہیں۔ اپنی سوانح لکھنے کی ضرورت اور جواز سے آغاز کرتے ہوئے مصنف ذاتی زندگی، تجربات، حقیقی قیادت، قومی مسائل، عوامی احتساب، اقوامِ عالم میں پاکستان کے مقام، معیشت، نظریات اور علامہ اقبال سے اپنی عقیدت جیسے موضوعات پر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
یہ موضوعاتی وسعت اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ انجینئر ممتاز احمد خان کے نزدیک سوانح عمری محض واقعات کی ترتیب وار روداد نہیں، بلکہ زندگی سے حاصل ہونے والے تجربات کو فکر و نظر کی روشنی میں سمجھنے اور دوسروں تک منتقل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ان کے ہاں ذاتی زندگی اور اجتماعی زندگی کے درمیان ایک ربط دکھائی دیتا ہے۔ وہ اپنی ذات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بھی ان معاملات کی طرف توجہ دلاتے ہیں جو قومی زندگی کی تشکیل، معاشرتی اصلاح اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے اہم ہیں۔
کتاب میں حقیقی قیادت اور عوامی احتساب جیسے موضوعات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں قیادت کا منصب محض اختیار یا مرتبے کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ جواب دہی، دیانت اور اجتماعی مفاد کی پاس داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ اسی طرح عوامی احتساب کا تصور اس اصول کو تقویت دیتا ہے کہ اختیار رکھنے والے افراد اور اداروں کو اپنے فیصلوں اور اقدامات کے حوالے سے جواب دہ ہونا چاہیے۔ ان موضوعات کی معنویت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب انہیں انصاف، سچائی اور سماجی ذمہ داری کے بنیادی تصورات کے ساتھ مربوط کرکے دیکھا جائے۔
پاکستان کے آبی وسائل اور قومی مستقبل کا سوال۔۔۔۔۔ایک طاقت ور لہر کی طرح پڑھنے والے کے ذہن میں ابھرتا ہے ۔۔۔۔
’’ممتاز نامہ‘‘ کا ایک اہم اور قابلِ توجہ پہلو پاکستان کے آبی وسائل، آبی بحران، آبی نظام اور ان سے وابستہ قومی مسائل پر مصنف کی گہری توجہ ہے۔ انجینئر ممتاز احمد خان کی فنی و پیشہ ورانہ شناخت کے تناظر میں یہ موضوعات خصوصی معنویت اختیار کرتے ہیں۔ پانی کسی بھی ملک کی زرعی ترقی، غذائی تحفظ، معاشی خوش حالی اور ماحولیاتی توازن کی بنیادی ضرورت ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک میں آبی وسائل کی منصوبہ بندی، ان کا منصفانہ استعمال، موجودہ نظام کی اصلاح اور مستقبل کی ضروریات کو پیشِ نظر رکھنا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
کتاب میں پاکستان کے آبی وسائل کی ترقی، آبی بحران اور ضروری اقدامات جیسے موضوعات اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ قومی وسائل کے بارے میں ہماری ترجیحات کیا ہونی چاہییں اور آنے والی نسلوں کے لیے ہم کیا محفوظ کر رہے ہیں۔ پانی کے مسئلے کو محض تکنیکی یا انتظامی معاملہ سمجھنا کافی نہیں؛ اس کا تعلق قومی معیشت، زرعی پیداوار، بین الصوبائی ہم آہنگی، ماحولیاتی تحفظ اور طویل المدتی منصوبہ بندی سے بھی ہے۔
مصنف کی توجہ اس پہلو پر بھی مرکوز دکھائی دیتی ہے کہ قومی وسائل کے استعمال میں بے حسی، غیر مؤثر منصوبہ بندی اور ضروری اقدامات میں تاخیر کس طرح مستقبل کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ ایسے مباحث کی اہمیت صرف موجودہ صورتِ حال تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ قاری کو آنے والے وقت کے تقاضوں پر بھی غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
سقوطِ ڈھاکہ، مابعد نوآبادیات کے مسائل ، فرد کی شناخت ،وجودیت و انفرادیت کے سوال اور قومی بے حسی
کتاب میں شامل ’’سقوطِ ڈھاکہ اگر نہ ہوتا‘‘ اور ’’ہندوستان کی آبی جارحیت اور ہماری بے حسی‘‘ جیسے عنوانات تاریخ، قومی سلامتی، آبی وسائل اور اجتماعی غفلت کے مختلف پہلوؤں کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں۔ یہ موضوعات اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم قومی تاریخ کے اہم واقعات اور اپنے اجتماعی فیصلوں کو محض جذباتی ردِعمل کے بجائے سنجیدہ مطالعے، تاریخی شواہد اور تنقیدی شعور کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔
سقوطِ ڈھاکہ ہماری تاریخ کا ایک نہایت اہم اور کثیرالجہتی باب ہے۔ اس سانحے کے مطالعے میں سیاسی، سماجی، معاشی اور تاریخی عوامل کو سمجھنا ضروری ہے، تاکہ ماضی کے تجربات سے مستقبل کے لیے سبق اخذ کیا جا سکے۔ اسی طرح مابعد نوآبادیاتی مسائل پر غور کرنا بھی اہم ہے، کیونکہ نوآبادیاتی دور کے اثرات محض سیاسی آزادی کے حصول کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتے؛ ان کے اثرات ادارہ جاتی رویّوں، فکری ترجیحات، معاشی ڈھانچوں اور اجتماعی نفسیات میں بھی باقی رہ سکتے ہیں۔
بھارت کے ساتھ آبی معاملات اور پاکستان کے آبی مفادات سے متعلق مباحث بھی قومی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے تاریخی تناظر، آبی معاہدوں، دستیاب شواہد، بین الاقوامی قوانین اور مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھنا ناگزیر ہے۔ ’’ممتاز نامہ‘‘ میں ان موضوعات کی موجودگی اس بات کو نمایاں کرتی ہے کہ مصنف سوانح نگاری کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے ان معاملات تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں جن کا تعلق ملک کی بقا، ترقی اور مستقبل سے ہے۔
ان عنوانات کی اصل افادیت اس دعوتِ فکر میں ہے جو قاری کو ماضی کے واقعات، حال کی ترجیحات اور مستقبل کے امکانات کے درمیان ربط تلاش کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ قومی تاریخ کا بامعنی مطالعہ وہی ہے جو ہمیں صرف گزرے ہوئے زمانے کے بارے میں معلومات نہ دے، بلکہ حال کو سمجھنے اور مستقبل کے لیے بہتر فیصلے کرنے میں بھی مدد فراہم کرے۔
علامہ اقبال سے عقیدت اور حقیقی قیادت کا تصور ،مصنف کے شعوری عہد کا ترجمان بن جاتا ہے
’’ممتاز نامہ‘‘ میں علامہ اقبال سے مصنف کی عقیدت اور حقیقی قیادت سے متعلق مباحث بھی اس کے فکری مزاج کو واضح کرتے ہیں۔ اقبال کا تصورِ خودی، عمل، خود آگہی اور اجتماعی تعمیر ہمیں اس سوال کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ قومیں محض خواب دیکھنے سے آگے بڑھ کر انہیں حقیقت میں بدلنے کے لیے کس قسم کے کردار، عزم اور قیادت کی محتاج ہوتی ہیں۔
انسانی زندگی میں فکر اور عمل کا تعلق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ نظریات اسی وقت اپنی حقیقی معنویت حاصل کرتے ہیں جب وہ کردار اور طرزِ عمل میں بھی منعکس ہوں۔ اسی طرح قیادت کا اصل امتحان محض بڑے دعووں یا بلند بانگ نعروں میں نہیں، بلکہ فیصلوں کی دیانت، عوامی مفاد کی پاس داری اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے عملی کوششوں میں ہوتا ہے۔
مصنف کے ہاں انصاف، سچائی اور سماجی ذمہ داری کے تصورات کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک باشعور انسان اپنے تجربات کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ انہیں دوسروں کے لیے رہنمائی اور اجتماعی فلاح کا وسیلہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ فکری رویہ ہے جو ایک سوانح عمری کو محض یادداشتوں کی کتاب کے بجائے اپنے عہد کی معنوی دستاویز میں تبدیل کر سکتا ہے۔
ایک انجینئر، ادیب، محقق اور موسیقی کے شائق کی فکری دنیا کے مناظر دل کش و دل چسپ ہیں ۔۔۔۔۔
انجینئر ممتاز احمد خان کی شخصیت کا ایک دل چسپ پہلو یہ ہے کہ ان کی شناخت صرف ایک پیشہ ور انجینئر تک محدود نہیں، بلکہ وہ ادب، تحقیق اور موسیقی سے بھی دل چسپی رکھتے ہیں۔ مختلف شعبوں سے وابستہ تجربات اور مشاہدات انسان کے زاویۂ نظر میں وسعت پیدا کرتے ہیں۔ فنی علم اسے مسائل کی ساخت اور عملی تقاضوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، جب کہ ادب انسانی تجربے، احساس اور معاشرتی رویّوں کے فہم کو گہرا کرتا ہے۔ تحقیق سوال اٹھانے، شواہد کو پرکھنے اور نتائج تک پہنچنے کا سلیقہ عطا کرتی ہے، جب کہ موسیقی ذوقِ جمال اور احساس کی دنیا سے تعلق استوار کرتی ہے۔
ان مختلف دل چسپیوں کے امتزاج سے ’’ممتاز نامہ‘‘ کو ایک ایسے صاحبِ تجربہ انسان کی تحریر کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے جو زندگی کو صرف ایک پیشے یا ایک زاویے سے نہیں دیکھتا، بلکہ اپنے مشاہدات کو مختلف فکری اور عملی حوالوں سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ کتاب ان قارئین کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے جو سوانح عمری کے مطالعے کے ذریعے کسی شخصیت کے تجربات سے آگاہ ہونے کے ساتھ اس کے عہد کے مسائل، قومی تاریخ، سماجی ترجیحات اور فکری رویّوں کو بھی سمجھنا چاہتے ہیں۔ سوانح عمری کے شائقین، ادب سے دل چسپی رکھنے والوں، انجینئروں، محققین اور قومی مسائل پر سنجیدہ مطالعے کا ذوق رکھنے والے قارئین کے لیے اس کتاب میں غوروفکر کا خاصا مواد موجود ہے۔
صداقت اور سچائی کو مدنظر رکھتے ہوئے کتاب کی بنیادی روح کو محسوس کیا جاسکتا ہے
میرے نزدیک ’’ممتاز نامہ‘‘ کی اصل اہمیت اس کے موضوعات کے تنوع کے ساتھ اس بنیادی قدر میں پوشیدہ ہے جو ان تمام مباحث کو ایک لڑی میں پروتی ہے، اور وہ ہے صداقت اور سچائی۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں ذاتی مفادات اکثر اجتماعی ذمہ داریوں پر غالب آ جاتے ہیں، سچائی کو زندگی، فکر اور عمل کی بنیاد بنانا ایک اہم اخلاقی تقاضا ہے۔
سوانح نگاری میں صداقت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ مصنف اپنی زندگی کے واقعات کے ذریعے نہ صرف اپنا تعارف پیش کرتا ہے، بلکہ اپنے عہد اور اپنے گردوپیش کی دنیا کی ایک تصویر بھی مرتب کرتا ہے۔ اس تصویر کی معنویت اسی وقت بڑھتی ہے جب اس میں حقیقت پسندی، خود احتسابی اور تجربات سے حاصل ہونے والی بصیرت شامل ہو۔
’’ممتاز نامہ‘‘ کا ،انتساب اور بنیادی پیغام بھی اسی اخلاقی تصور سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے کہ علم، تجربہ، اختیار اور وسائل اسی وقت بامعنی بنتے ہیں جب ان کا رشتہ انسانیت کی بھلائی اور انصاف کے قیام سے قائم ہو۔ انسان کی اصل عظمت اس کے پاس موجود دولت یا اختیارات میں نہیں، بلکہ ان کے استعمال کے مقصد میں پوشیدہ ہے۔ اگر صلاحیتیں صرف ذاتی آسائشوں میں صرف ہو جائیں تو ان کی اجتماعی افادیت محدود رہ جاتی ہے، لیکن جب یہی صلاحیتیں معاشرتی اصلاح، انصاف اور انسانی فلاح کے لیے بروئے کار آئیں تو ان کی معنویت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
’’ممتاز نامہ‘‘ کو گردوپیش پبلی کیشنز نے نہایت اہتمام اور شاندار انداز میں شائع کیا ہے۔ مئی 2026ء میں منظرِ عام پر آنے والی یہ کتاب 432 صفحات پر مشتمل ہے، جب کہ اس کی قیمت 2500 روپے ہے۔ کتاب کی ضخامت اس کے موضوعاتی تنوع کی طرف توجہ دلاتی ہے، تاہم اس کی اصل قدر ان فکری مباحث اور سوالات میں ہے جو قاری کے ذہن میں مطالعے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں۔یہی ممتاز خوبیاں ،ممتاز نامے کے مطالعے کی اہمیت بڑھاتی ہیں
انجینئر ممتاز احمد خان صاحب کا تہِ دل سے شکریہ کہ انہوں نے اپنی یہ گراں قدر تصنیف مجھے تحفتاً عنایت کی اور اس پر اظہارِ خیال کی اجازت بھی مرحمت فرمائی۔ کسی مصنف کی محبت اور اعتماد کا بہترین جواب یہی ہے کہ اس کی کتاب کو توجہ سے پڑھا جائے، اس کے بنیادی تصورات کو سمجھا جائے اور اس کے فکری مباحث پر سنجیدگی سے گفتگو کی جائے۔ ان کی اس عنایت کو میں اپنے لیے باعثِ مسرت اور ادبی اعتماد کی ایک خوب صورت صورت سمجھتی ہوں۔
حاصلِ مطالعہ ،امر یہی ہے کہ
’’ممتاز نامہ‘‘ ایک ایسی آب بیتی ہے جس میں ذاتی تجربہ اجتماعی شعور سے، قومی مسائل انسانی ذمہ داری سے اور فکر سچائی کے بنیادی اصول سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے۔ اس کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ یہ انجینئر ممتاز احمد خان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کرتی ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ یہ قاری کو زندگی، معاشرے اور قومی مستقبل سے متعلق متعدد اہم سوالات کے روبرو کھڑا کرتی ہے۔
یہ کتاب یاد دلاتی ہے کہ زندگی کی معنویت محض ذاتی کامیابیوں، آسائشوں اور مرتبے میں نہیں، بلکہ اس شعور میں پوشیدہ ہے جو انسان کو اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کے لیے سوچنے، اجتماعی مسائل کو سمجھنے اور اپنے وسائل کو بامقصد بنانے کی طرف مائل کرتا ہے۔
جب زندگی کا حاصل ذاتی تشہیر کے بجائے صداقت، انصاف اور اجتماعی فلاح بن جائے تو آب بیتی محض ماضی کا بیان نہیں رہتی، بلکہ اپنے عہد کے ضمیر سے مکالمہ اور مستقبل کے لیے ایک فکری دستاویز بن جاتی ہے۔
انجینئر ممتاز احمد خان کی ’’ممتاز نامہ‘‘ کو اسی تناظر میں پڑھنا چاہیے؛ ایک ایسی کتاب کے طور پر جو زندگی کے سفر کو فکر و نظر سے، تجربے کو شعور سے اور سوانح کو اجتماعی ذمہ داری سے مربوط کرتی ہے۔
’’ممتاز نامہ‘‘ کی اصل معنویت اسی پیغام میں ہے کہ انسان کی زندگی کا سب سے معتبر حوالہ وہ سچائی ہے جس پر وہ قائم رہتا ہے، اور وہ بھلائی ہے جو اس کے وجود سے دوسروں تک پہنچتی ہے۔
انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
ایڈیٹر3 Views

