Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, اکتوبر 13, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • خیر پور میرس سے ہوت والا تک : زبانوں اور مہربانوں کا تذکرہ : زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی
  • ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس الٹ گئی : 5 مسافر ہلاک 30 زخمی
  • شہباز شریف کا لانگ مارچ اور عمران خان کے گرد گھومتی سیاست : حامد میر کا کالم
  • "ممتاز نامہ” — ایک زندگی، کئی جہان : محمد عمران کا اختصاریہ
  • کوئٹہ میں پولیس گاڑی پر حملہ: ایک اہلکار ہلاک، چار افراد زخمی
  • ایمرجنسی کا نفاذ: قومی ضرورت یا جمہوریت کے لیے نیا امتحان؟ شہزاد عمران خان کا تجزیہ
  • خیبر پختون خوا میں وفاق کی حکمرانی : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
  • ریاض میں شاہ خالد ایئرپورٹ پر میزائل حملہ : متعدد افراد زخمی
  • پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پہلے ٹی ٹوئینٹی میں سری لنکا کو چار وکٹوں سے ہرا دیا
  • گورنر راج ، لانگ مارچ۔۔۔درمیانی راستہ؟ نصرت جاوید کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » شہباز شریف کا لانگ مارچ اور عمران خان کے گرد گھومتی سیاست : حامد میر کا کالم
حامد میر

شہباز شریف کا لانگ مارچ اور عمران خان کے گرد گھومتی سیاست : حامد میر کا کالم

ایڈیٹراکتوبر 13, 20265 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
new logo hamid mir
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن سچ یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست ایک ایسے شخص کے گرد گھوم رہی ہے جو پچھلے تین سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہے۔ اس قیدی کا نام عمران خان ہے۔
18اگست کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان کو دو دن کے اندر اندر اسلام آباد کے الشفا ہسپتال میں منتقل کرنے کا حکم دیا لیکن سپریم کورٹ کے اس حکم کو نظر انداز کرتے ہوئے شہباز شریف حکومت نے عمران خان کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کا چکر لگوایا اور واپس اڈیالہ جیل میں بند کر دیا۔ پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا تعلق عمران خان کی جماعت تحریک انصاف سے ہے۔ سہیل آفریدی نے عمران خان کی رہائی کیلئے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ وفاقی حکومت نے لانگ مارچ روکنے کیلئے تحریک انصاف کےساتھ مذاکرات شروع کئے لیکن سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر عمران خان کہہ دے کہ لانگ مارچ روک دو تو ہم روک دیں گے۔ وفاقی حکومت نہیں مانی اور سہیل آفریدی کو مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دے کر خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کر نے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
گورنر راج کا مطلب سہیل آفریدی کی حکومت کا خاتمہ ہے لیکن لانگ مارچ ختم نہیں ہوا۔ اتوار کو شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس بلایا اور سہیل آفریدی کو دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دے کر گورنر راج اور ایمرجنسی کا فیصلہ کیا۔ پاکستان کے کسی صوبے میں گورنر راج کا نفاذ کوئی نئی بات نہیں لیکن گورنر راج سے جڑی تاریخ بہت تکلیف دہ ہے۔ افسوس کہ اس تلخ تاریخ کو بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ 1954 میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں الیکشن ہوئے تو مسلم لیگ کو شکست ہوئی اور یونائیٹڈ فرنٹ کے اے کے فضل الحق وزیراعلیٰ بن گئے۔ پاکستان کی وفاقی حکومت نے اے کے فضل الحق کو ملک دشمن قرار دے کر برطرف کر دیا اورا سکندر مرزا کے ذریعے مشرقی پاکستان میں گورنر راج نافذ کر دیا۔ 1970 کے انتخابات میں عوامی لیگ کو اکثریت ملی۔ فوجی ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ خان نے اقتدار عوامی لیگ کو منتقل کرنے کی بجائے فوجی آپریشن کا فیصلہ کر لیا۔ پہلے لیفٹیننٹ جنرل صاحبزادہ یعقوب علی خان کو گورنر بنایا۔ انہیں فوجی آپریشن کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے فوجی آپریشن سے انکار کر دیا تو جنرل ٹکا خان کو گورنر بنا دیا گیا۔ ٹکا خان نے آپریشن شروع کیا لیکن امن قائم نہ کر سکے تو جنرل اے اے کے نیازی کو گورنر بنایا گیا جنہوں نے بھارت کے سامنے سرنڈر کر دیا۔
پاکستان کے ٹوٹ جانے کے بعد بھی پرانی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا گیا۔ 1973 میں بلوچستان کے منتخب وزیراعلیٰ عطا اللہ مینگل کی حکومت کو برطرف کر کے صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ اکبر بگٹی گورنر بنائے گئے لیکن صرف دس ماہ کے بعد انہوں نے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خدا حافظ کہہ دیا۔ 1975 میں بھٹو کے ایک قریبی ساتھی حیات محمد خان شیرپاؤ کو پشاور یونیورسٹی میں قتل کر دیا گیا۔ قتل کا الزام ولی خان اور ان کے ساتھیوں پر لگا کر صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ آئی ایس آئی کے سابق افسر میجر جنرل سید غوث گورنر بنا دیئے گئے لیکن وہ صوبے کے حالات نہ سنبھال سکے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں پچاس سال پہلے کھڑے تھے۔ 1973 میں گورنر بننے والا اکبر بگٹی 2006 میں پاکستانی فوج کی طرف سے غدار قرار دیا گیا اور بلوچستان کے پہاڑوں میں مارا گیا۔ عطا اللہ مینگل اور ولی خان کوملک دشمنوں کا سہولت کار قرار دینے والا وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو 1979 میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ بڑی ظالم ہے۔ یہ تاریخ بتاتی ہے کہ 2018 میں عمران خان بھی فوجی جرنیلوں کے کندھوں پر سوار ہو کر وزیراعظم بنے۔ جب ان جرنیلوں سے اختلاف ہوا تو عمران خان کو حکومت سے نکال کر شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا گیا۔ جرنیلوں کا خیال تھا کہ جس طرح ماضی میں نواز شریف جیسے سیاستدان جیل جانے کے بعد سمجھوتہ کرکے کبھی سعودی عرب اور کبھی برطانیہ چلے جاتے تھے تو عمران خان بھی زیادہ عرصہ جیل میں نہ گزار سکیں گے۔ نواز شریف کی طرح عمران خان بھی سمجھوتہ کریں گے اور بیرون ملک چلے جائیں گے لیکن عمران خان نے نواز شریف بننے سے انکار کر دیا۔ شہباز شریف کی حکومت انہیں رہا کرنے کا خطرہ مول لینے کیلئے تیار نہیں، یہاں تک کہ انہیں ہسپتال منتقل کرنے کیلئے بھی تیار نہیں ہے۔ اگر سپریم کورٹ کے 18اگست کے فیصلے پر عمل درآمد ہو جاتا تو نہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ ہوتا نہ لانگ مارچ ہوتا۔
سہیل آفریدی کا لانگ مارچ عمران خان کی رہائی کیلئے ہے لیکن شہباز شریف نے بھی ایک لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ یہ لانگ مارچ پاکستان کو ایک سول آمریت کی طرف دھکیل رہا ہے۔ شہباز شریف حکومت کا موقف ہے کہ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں، آئین کے اندر کر رہے ہیں۔ آئین تو انہیں سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا حکم بھی دیتا ہے لیکن جہاں آئین ان کے راستے کی رکاوٹ بنے، وہاں وہ آئین کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ جہاں آئین ان کے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کرتا ہے، وہاں وہ آئین پسند بن جاتے ہیں۔ یہی کچھ عمران خان بھی کیا کرتےتھے۔ عمران خان نے شہباز شریف سمیت اپنے کئی سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا اور مجھ جیسے گستاخ صحافی پر نو ماہ تک پابندی لگائے رکھی۔ لیکن ایک فرق ہے۔ گلوبل ڈیموکریسی انڈیکس میں عمران خان کی حکومت ہائبرڈ نظام میں شامل تھی لیکن آج شہباز شریف کی حکومت کو Authoritarian Regimes میں شامل کیا جا چکا ہے۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب بھارت اور افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرکے پاکستان کے دریاؤں کا رخ موڑنے کیلئے نئے منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ افغانستان کے راستے سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے۔
کچھ ماہ پہلے تک پاکستان کے حکمران امریکا اور ایران میں ثالثی کے کردار پر بڑا فخر کر رہے تھے۔ کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روزانہ ان کی تعریف کر رہے تھے۔ پھر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کر دیئے۔ پاکستان نے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مشترکہ دفاع کا ایک معاہدہ کر لیا۔ پاکستان کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ ہر قیمت پر سعودی عرب کا دفاع کریں گے۔ سعودی عرب کا دفاع ضرور کیا جائے لیکن پاکستان کی حکومت پہلے اپنا گھر ٹھیک کرے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 میں پاکستان پہلے نمبر پر آ چکا ہے۔ دہشت گردی کے مقابلے کیلئے شہباز شریف کی حکومت کو تمام سیاسی قوتوں کو متحد کرنا ہو گا۔ یہ تاثر نہیں ملنا چاہئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر خیبرپختونخوا میں ایک سیاسی جماعت کے خلاف آپریشن کیا جا رہا ہے۔ اس پالیسی سے صوبے میں امن قائم نہیں ہو گا۔
شہباز شریف کی حکومت عمران خان فوبیا کی قیدی بن چکی ہے۔ یہ قیدی حکومت پاکستان کو سول آمریت کی طرف دھکیل چکی ہے۔ اس حکومت کو عمران خان فوبیا سے رہا ہونا ہے اور بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے انجام سے سبق سیکھنا چاہئے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

شہباز شریف عمران
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Article"ممتاز نامہ” — ایک زندگی، کئی جہان : محمد عمران کا اختصاریہ
Next Article ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس الٹ گئی : 5 مسافر ہلاک 30 زخمی
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

حکومت کا ممکنہ اگلا فیصلہ کن قدم، "آرٹیکل 232” : نصرت جاوید کا کالم

ستمبر 28, 2026

سید مجاہد علی کا تجزیہ : پی ٹی آئی لانگ مارچ کا التوا ، عطا تارڑ اور سہیل آفریدی کی تکرار

ستمبر 26, 2026

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ

ستمبر 25, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • خیر پور میرس سے ہوت والا تک : زبانوں اور مہربانوں کا تذکرہ : زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی اکتوبر 13, 2026
  • ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس الٹ گئی : 5 مسافر ہلاک 30 زخمی اکتوبر 13, 2026
  • شہباز شریف کا لانگ مارچ اور عمران خان کے گرد گھومتی سیاست : حامد میر کا کالم اکتوبر 13, 2026
  • "ممتاز نامہ” — ایک زندگی، کئی جہان : محمد عمران کا اختصاریہ اکتوبر 13, 2026
  • کوئٹہ میں پولیس گاڑی پر حملہ: ایک اہلکار ہلاک، چار افراد زخمی اکتوبر 12, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.