انجینئر ممتاز احمد خان کی خودنوشت "ممتاز نامہ: واقعات، تجربات، مشاہدات، نظریات” ایسی سوانح عمری ہے جو قاری کو صرف مصنف کی زندگی سے متعارف نہیں کراتی بلکہ اسے ایک ایسے فکری اور عملی سفر کا شریک بنا دیتی ہے جس میں ذاتی جدوجہد، پیشہ ورانہ دیانت، سماجی شعور، قومی درد، مذہبی وابستگی اور عالمی مشاہدات ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہیں کہ کتاب ہر باب میں ایک نئی دنیا آباد کرتی دکھائی دیتی ہے۔
کتاب کے مندرجات پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے اپنی زندگی کے ہر اہم مرحلے کو بے لاگ انداز میں قلم بند کیا ہے۔ بچپن کی یادیں، ملازمت کے تجربات، سرکاری محکموں میں کرپشن، دیانت داری کی آزمائشیں، انتظامی معاملات، عدالتی اور بیوروکریٹک نظام کی پیچیدگیاں، ملکی سیاست، سماجی رویے، مذہبی اقدار اور بین الاقوامی اسفار—سبھی موضوعات اس کتاب کا حصہ ہیں۔ یہی تنوع اس کتاب کو عام خودنوشتوں سے ممتاز بناتا ہے۔
مصنف کی تحریر کا ایک نمایاں وصف اس کی سادگی، روانی اور بے تکلفی ہے۔ وہ واقعات کو بناوٹ یا مبالغے کے بغیر اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ قاری خود کو ان حالات کا چشم دید گواہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ متعدد مقامات پر طنز و مزاح کی چاشنی بھی موجود ہے، جو سنجیدہ موضوعات کو دلچسپ بنا دیتی ہے، جبکہ کئی ابواب ایسے ہیں جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اگر دیانت، انصاف اور ذمہ داری کو اجتماعی رویہ بنا لیا جائے تو پاکستان کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
کتاب کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مصنف نے اپنی ذات کو مرکز بنا کر خود ستائی نہیں کی بلکہ ہر واقعے سے کوئی نہ کوئی اخلاقی، سماجی یا انتظامی سبق اخذ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب محض یادداشتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ تجربات کی دانش، مشاہدات کی گہرائی اور نظریات کی پختگی کا مرقع بن جاتی ہے۔ عالمی بینک، آئی ایم ایف، کالا باغ ڈیم، بیوروکریسی، دہشت گردی، نئے صوبوں، قومی ترقی، سیاسی شعور اور معیشت جیسے موضوعات پر مصنف کی آراء ان کے وسیع مطالعے اور عملی تجربے کی عکاس ہیں۔
بین الاقوامی اسفار سے متعلق ابواب بھی خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ مصر، ہالینڈ، جرمنی، برطانیہ، امریکہ، انڈونیشیا اور دیگر ممالک کے بارے میں مصنف نے محض سیاحتی روداد نہیں لکھی بلکہ وہاں کے معاشرتی نظم، ادارہ جاتی رویوں، قانون کی حکمرانی اور قومی کردار کا تقابلی جائزہ پیش کیا ہے، جس سے پاکستانی معاشرے کے لیے بھی کئی سبق سامنے آتے ہیں۔
کتاب میں متعدد شخصیات کے تذکرے، ملاقاتیں، اعزازات اور یادیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ مصنف نے زندگی کو صرف پیشہ ورانہ دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ علمی، ادبی، سماجی اور قومی سطح پر بھی فعال کردار ادا کیا۔ اسی طرح ضمیمہ جات میں شامل خطوط، تحقیقی مضامین، کالم اور سرکاری دستاویزات اس کتاب کی تاریخی اور دستاویزی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر "ممتاز نامہ” ایک ایسی خودنوشت ہے جو زندگی کے مختلف رنگوں، تلخ و شیریں تجربات، قومی مسائل، دینی اقدار اور فکری بصیرت کو ایک ہی جلد میں سمو دیتی ہے۔ یہ کتاب نوجوانوں، سرکاری افسران، محققین، ادیبوں، طلبہ اور عام قارئین سب کے لیے یکساں دلچسپی رکھتی ہے۔ انجینئر ممتاز احمد خان نے اپنی زندگی کے تجربات کو جس دیانت، بے باکی اور اخلاص کے ساتھ قلم بند کیا ہے، وہ اس کتاب کو محض ایک آپ بیتی نہیں بلکہ ایک فکری، اخلاقی اور قومی دستاویز کا درجہ عطا کرتا ہے۔ ایسی کتابیں نہ صرف ایک فرد کی زندگی محفوظ کرتی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی اور شعور کا سرمایہ بھی بن جاتی ہیں۔
ملتان میں آٹھ سال کے قیام کے دوران ممتاز صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل نہ ہوا یہ ایک دکھ رہے گا۔ان شاءاللہ ملتان آنا جانا لگا رہتا ہے بہت جلد ملاقات ہو گی۔
آخری بات ممتاز نامہ کو میں نے ملتے ہی پڑھ لیا تھا مگر ڈیوٹی اور ریسرچ کی وجہ سے وقت نہ ملا کہ تبصرہ لکھوں۔اس لیے معذرت
یہ بس ایک طالب علم کی کتاب کے متعلق رائے ہے جو کافی تاخیر کے بعد لکھی گئی۔
منگل, اکتوبر 13, 2026
تازہ خبریں:
- "ممتاز نامہ” — ایک زندگی، کئی جہان : محمد عمران کا اختصاریہ
- کوئٹہ میں پولیس گاڑی پر حملہ: ایک اہلکار ہلاک، چار افراد زخمی
- ایمرجنسی کا نفاذ: قومی ضرورت یا جمہوریت کے لیے نیا امتحان؟ شہزاد عمران خان کا تجزیہ
- خیبر پختون خوا میں وفاق کی حکمرانی : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- ریاض میں شاہ خالد ایئرپورٹ پر میزائل حملہ : متعدد افراد زخمی
- پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پہلے ٹی ٹوئینٹی میں سری لنکا کو چار وکٹوں سے ہرا دیا
- گورنر راج ، لانگ مارچ۔۔۔درمیانی راستہ؟ نصرت جاوید کا کالم
- انٹرنیشنل مگر مچھ ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس : مگرمچھوں نے کیسے آنسو بہائے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- ریاض ایئر پورٹ پر میزائل حملہ : کئی ہوائی کمپنیوں نے پروازیں منسوخ کر دیں
- نام ور بھارتی اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

