کوئٹہ :بلوچستان کے ضلع دُکی سے اغوا ہونے والے 12مزدوروں میں سے ایک کو اغوا کاروں نے ہلاک کر دیا ہے۔
دُکی میں پولیس حکام نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والے مزدور کا تعلق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان سے تھا۔
دُکی پولیس حکام کے مطابق قانونی کارروائی کے بعد مارے جانے والے مزدور کی لاش ان کے آبائی علاقے رحیم یار خان بھجوا دی گئی۔
ہلاک ہونے والے مزدور سمیت 12 مزدوروں کو 25 ستمبر کی شب نامعلوم مسلح افراد نے ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملے کے بعد اغوا کیا تھا۔
مزدور کی ہلاکت سے قبل سماجی رابطوں کی میڈیا پر ایک ویڈیو(جس کی بی بی سی آزادانہ طورپر تصدیق نہیں کرسکا) میں مغویوں نے اپنی بازیابی کی درخواست کی تھی۔
ہلاک ہونے والے مزدور کی لاش کہاں سے ملی؟
اگرچہ ان مزدوروں کو ضلع دُکی سے اغوا کیا گیا تھا تاہم مارے جانے والے مزدور کی لاش دُکی سے متصل ضلع کوہلو سے ملی۔
دکی پولیس کے ایک اہلکار فیض محمد نے بتایا کہ مارے جانے والے مزدور کی شناخت شاہد کے نام سے ہوئی جن کا تعلق ضلع رحیم یار خان سے تھا۔ انھوں نے بتایا کہ مارے جانے والے مزدور کی لاش ضلع کوہلو کے علاقے نربن سے ملی تھی۔
دُکی پولیس کے ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے مزدور کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ قانونی کارروائی کے بعد مارے جانے والے مزدور کی لاش رحیم یارخان بھجوا دی گئی۔ مزدوروں کو ضلع دُکی میں کہاں سے اغوا کیا گیا تھا؟
ہلاک ہونے والے مزدور سمیت 12 مزدوروں کو نامعلوم مسلح افراد نے ضلع کے علاقے پلری سے اغوا کیا تھا جن میں سے دس کا تعلق پنجاب سے ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق یہ مزدور شاہراہ کی تعمیر کرنے والی ایک کمپنی کے ساتھ کام کررہے تھے جس کے کیمپ پر 30 سے 40 نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔
اس حملے میں کمپنی کا ایک پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوا تھا جبکہ مسلح افراد نے کمپنی کی چار گاڑیوں کو نذرآتش کرنے کے علاوہ 12 مزدوروں کو اغوا کرلیا تھا۔
دو تین روز قبل ان مزدوروں کی ایک ویڈیو سماجی رابطوں کی میڈیا پر گردش کرنے لگی ۔ اس ویڈیو میں مغویوں میں سے ایک یہ درخواست کررہا تھا کہ ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں ورنہ ان کو نقصان پہنچایا جائے گا۔
( بشکریہ : بی بی سی )
پیر, اکتوبر 5, 2026
تازہ خبریں:
- دُکی سے اغوا ہونے والے 12 مزدوروں میں سے رحیم یار خان کا ایک مزدور قتل
- پی ٹی آئی لانگ مارچ کی ’گورنر راج ‘کی طرف پیش قدمی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ہر صوبے کے لیے ایمرجنسی یا گورنر راج کا جواز : نصرت جاوید کا کالم
- ماں کہانی سنا ۔۔۔ رضی الدین رضی کی نظم
- ایمان مزاری اور ہادی علی کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی: ڈی ایس پی کی گرفتاری کا عندیہ
- پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا پہلا روز، شرکا کا بنوں اور کرک کی سرحد پر پڑاؤ
- غامدی صاحب کی تعبیرِ دین : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- سیاسی شہید بننے کی تمنا ، مفاہمت میں رکاوٹ ہے : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- قومی ایوارڈز اور ان کی ساکھ : اس بار تو حد ہی ہو گئی : سہیل وڑائچ کا کالم
- اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی گرم جوشی : سید مجاہد علی کا تجزیہ

