خوش آئند خبر ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے قومی ایوارڈز کی تقسیم کے طریق کار میں اصلاح کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے۔ ریاست، قومی ایوارڈزدےکر اپنے شہریوں کی خدمات کا اعتراف کرتی ہے۔ ایوارڈ دراصل تب ہی اہم ہوتا ہے جب اس کی وجہ سے عزت اور وقار میں اضافہ ہو۔
بدقسمتی سے قومی ایوارڈز کی تقسیم میں ناانصافیوں اور بندربانٹ کی وجہ سے اس قدر تنازعے اٹھے ہیں کہ اگر کسی کو سوفیصد میرٹ پربھی ایورڈ ملے تو کوئی نہ کوئی معترض سوال اٹھا دیتا ہے۔ شہریوں اور ریاست و حکومت میں اعتماد، احترام اور باہمی وقار کیلئے ازحد ضروری ہے کہ قومی ایوارڈز کی ساکھ کی بحالی کیلئےفوری اقدامات کئے جائیں۔ قومی ایوارڈز کی سفارشات صوبائی حکومتوں کی قائم کردہ خصوصی کمیٹیاں بھی کرتی ہیں مگر ایوارڈ کے فائنل فیصلے آخرکار وزیر اعظم سیکرٹریٹ اور وفاقی وزیر کرتے ہیں۔ مجھے خود ایک صوبائی کمیٹی میں بطور ایک آزاد شہری رکن رہنے کا موقع ملا۔ صوبے کے مختلف محکمے اپنے اپنے شعبے میں نمایاں کام کرنے والوں کے نام کمیٹی کے سامنے باقاعدہ مقدمے اور ثبوت کے ساتھ ایک فائل کی صورت میں پیش کرتے ہیں ۔ ایک ایک نام پر باقاعدہ بحث ہوتی ہے اور پھر کمیٹی کے قاعدہ ، قانون کے تحت نام منظور ہوجاتے ہیں۔ تاہم اس منظوری کے بعد اصل کام شروع ہوتا ہے، جب صوبائی حکومت، وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ، وزیر اعظم سیکریٹریٹ اور ایوارڈز نیشنل کمیٹی اور اس کے وزیر صوبوں سے بھیجے ہوئے ناموں کی کانٹ چھانٹ کرکے ان میں نئے نام ڈال دیتے ہیں۔
دلچسپ ترین معاملہ یہ ہے کہ جب کبھی لفظ انصاف بنا اور ججوں کے ذریعے انصاف کا طریقہ کار طے ہوا تو اس وقت پہلا اور بنیادی اصول یہ طے ہوا تھا کہ انسان خود اپنا جج نہیں ہوسکتا ۔ مگر ایوارڈز کے حوالے سے ہر کوئی خود اپنا جج بن کر فیصلے کررہا ہے۔ اب ایوارڈز دینے کا حتمی اختیار وزیر اعظم اور وزرا کو ہے اور وزیر خود ہی اپنے آپ کو ایوارڈز دے رہے ہیں۔ یعنی فیصلہ کرنے والے بھی خود اور ایوارڈز لینے والے بھی خود۔ وزیر بننا کوئی کم ایوارڈ یا ریوارڈ ہے جو عام شہریوں، فن کاروں اور سائنس دانوں کیلئےمختص ایوارڈز بھی وزیروں نے لینے ہیں؟ صوبائی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے صوبے میں دوتین محکمانہ سیکریٹریوں نے اپنی شاندار خدمات کے اعترافات کی بریفنگ اپنے ہی محکمے سے کرکے ایوارڈز کی نامزدگی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مگر کمیٹی کے آزاد سویلین ارکان اور ماہر بیوروکریٹس دونوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ کسی بھی محکمےکا سیکریٹری اپنے ہی محکمے سے اپنے لئے ایوارڈز کی نامزدگی نہیں کرواسکتا۔ مگر کمیٹی کے اس فیصلے کے باوجود بالا ہی بالا کئی معاشرتی آنکھ کے شہتیر جو اقتداری آنکھ کا تارہ تھے وہ ایوارڈز لیتے رہے ہیں۔
اور اس بار تو حد ہی ہوگئی تین یا چار وفاقی وزیروں نے خود اپنے آپ کو پاکستان کے سب سے بڑے ایوارڈ ’نشان پاکستان‘ کیلئے نامزد کروالیا حالانکہ یہ ایوارڈ جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان یا ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو ملا تھا تو ایوارڈ کی عزت اور ساکھ میں اضافہ ہوا تھا۔ وزیروں کو یہ ایوارڈ ملنے سے خود ایوارڈ نے بھی برا منایا ہوگا۔ پیکیجزگروپ اور لمز یونیورسٹی کے بانی 92سالہ سید بابر علی کو یہ ایوارڈ ملتا تو پاکستان کے تاجر، صنعت کار اور طالب علم سب فخر سے اس کا ذکر کرتے۔ اب بھی اگر ایوارڈز کی ساکھ بحال کرنی ہے تو سوفیصد میرٹ سے فیصلے کئے جائیں اسی سال سید بابر علی اور92سالہ سرانور پرویز کیلئے نشان پاکستان کا فوراً اعلان کیا جائے۔ سر انور پرویز کو برطانوی حکومت نائٹ ہڈ یعنی سر کا خطاب دے چکی ہے۔ پاکستان میں وہ ایک بڑے بینک اور سیمنٹ گروپ کے مالک ہیں۔
صنعتکاروں اور تاجروں کا ذکر آیا ہے تو86سالہ بشیر جان محمد (ڈالڈا والے) اور83سالہ حسین داؤد(داؤد گروپ) کوبھی نشان پاکستان ملنا چاہیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان چاروں نامور بزرگوں کو ہلال امتیاز ملا ہوا ہے۔ لیکن یہ سب نشان پاکستان کے مستحق ہیں۔ تاجروں کے ساتھ ساتھ سائنس دانوں، ماہرین تعلیم، فلاحی تنظیمیں چلانے والوں اورغریبوں کی سب سے زیادہ امداد کرنے والوں، فن کاروں، صحافیوں اور محنت کشوں کیلئے بھی میرٹ پر ایوارڈز کا انتخاب کیا جائے۔ اس کیلئے ان مخصوص شعبوں کی تنظیموں سے سفارشات حاصل کی جائیں۔ جو یونیورسٹی ملک بھر میں سب سے اچھے نتائج دے اس کے وائس چانسلر یا بانی کو ہرسال ایوارڈ دینا دراصل تعلیم کے فروغ میں مدد دے گا۔ اسی طرح سب سے زیادہ زیادتی فن کاروں، گلوکاروں اور شوبز میں ہوتی ہے۔ پسند ناپسند یا حسن وعشق کی کوئی کہانی، ایوارڈ کی بنیاد بنتی رہی ہے۔ اکثر مستحق رہ جاتے ہیں۔ میرے خیال میں غلام علی نشان پاکستان یا ہلال پاکستان کے مستحق ہیں کہ برصغیر میں غزل گائیکی میں ان کی خدمات کو ہرکوئی مانتا ہے۔ راحت فتح علی خان نے بھی اپنی محنت سے عروج پایا ہے۔ انہیں بھی بڑا ایوارڈ دے کر ایوارڈ کی عزت بڑھائی جاسکتی ہے۔
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت بڑھنے کی وجہ عالمی حالات ہیں لیکن بجلی کی مہنگائی کی بڑی وجہ آئی پی پیز اورناقص حکومتی پالیسیاں ہیں۔ پہلے سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے اس کے خلاف علم بغاوت بلند کیا توریٹ کچھ کم ہوئے تھے۔ یہ جنگ جاری رہنی چاہیے اور اگر گوہر اعجاز بجلی ریٹس پر غریب عوام اور صنعتوں کا بھلا کردیتے ہیں تو پھر جہاں انہیں عوامی پیار کا ایوارڈ ملے گا وہاں پاکستان کا بھی سب سےبڑا قومی ایوارڈ ملنا چاہیے۔
ہندوستان اور مسلم دنیا میں بھی اعزازات کی فراوانی تھی مگر برطانیہ نے آکر ان اعزازات اور ایوارڈز میں صرف خوشامد کو معیار نہ رکھا بلکہ ریاست اور عوام کیلئے خدمات کوبھی اہمیت دی۔ ڈاکٹر محمد اقبال کو سر اور ان کے استاد کو شمس العلما کا خطاب دینا برطانوی حکومت کی دانش تھی۔ پاکستان کے قومی ایوارڈز کی پسند ناپسند کی بناپر تقسیم کی بجائے بین الاقوامی معیار کے مطابق تکنیکی کمیٹیاں بنائی جائیں وزیر اعظم، کابینہ ، وزرائے اعلیٰ اور نوکرشاہی کو کمیٹیوں کے ناموں میں اضافے کی اجازت نہ ہو۔ اگر وزیر اعظم نے کسی وزیر کو نوازنا ہے تو ہرسال زیادہ سے زیادہ ایک وزیرکو ایوارڈ دے دیں مگر عام لوگوں کا حق نہ ماریں۔
اسی طرح بیوروکریٹس میں سے پاکستان بھر سے ایک ایوارڈ چیف سیکریٹریز اور پرنسپل سیکریٹری مل کر سب سے بہترین بیوروکریٹ کو دے دیں تاکہ مذاق کی بجائے واقعی اعزاز بنے۔ قومی ایوارڈ کی عزت، ریاست اور حکومت کی عزت اور وقار ہے براہِ کرم اس وقار اور ساکھ کو بحال کیا جائے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

