Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, ستمبر 27, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • وقت کی کسوٹی : مولوی تمیز اُلدین خان کی داستانِ حیات : محمد اسلام تبسم کا کتاب کالم ( 1 )
  • سوشل میڈیا اور اے آئی کے ذریعے بچوں کی آن لائن ہراسانی وسعت اللہ خان کا کالم
  • معرکۂ ناحق ، اور بیگم ملا بک بک کی مارشل لائی نگاہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
  • ہم کب مرتے ہیں ؟ زندگی ، موت اور لاتعلقی کے درمیان معلق ایک سوال ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • ڈیرہ اسماعیل خان ’’ امن میلہ ‘‘ میں خود کش دھماکہ : 12افراد ہلاک ، 35 زخمی
  • آج بابائے جمہوریت کی 23 ویں برسی ہے
  • سید مجاہد علی کا تجزیہ : پی ٹی آئی لانگ مارچ کا التوا ، عطا تارڑ اور سہیل آفریدی کی تکرار
  • پیٹرول میں اضافہ مسلسل جاری : آج 391 روپے 30 پیسے لیٹر ملے گا
  • پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ
  • پیٹرول ، ڈیزل پر جگا ٹیکس اور جماعتِ اسلامی کی ’’ نظریاتی سیاست ‘‘ : نصرت جاوید کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » وقت کی کسوٹی : مولوی تمیز اُلدین خان کی داستانِ حیات : محمد اسلام تبسم کا کتاب کالم ( 1 )
ادب

وقت کی کسوٹی : مولوی تمیز اُلدین خان کی داستانِ حیات : محمد اسلام تبسم کا کتاب کالم ( 1 )

ایڈیٹرستمبر 27, 20266 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
logo islam tabasum
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

مولوی تمیز اُلدین خان تحریک آزادی کے رہنما اور محب وطن سیاست دانوں میں سے تھے، اُنہیں قائداعظم کا قریبی ساتھی ہونے کا شرف بھی حاصل رہا ہے۔ آزادی کے بعد قائد اعظم محمدعلی جناح کو پاکستان کے دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب کیا گیا،اور مولوی تمیز اُلدین خان نائب صدر منتخب ہوئے۔ قائد اعظم کے وفات کے بعد 1949 ء میں وہ دستور ساز اسمبلی کے صدر بنے۔اس کے بعد وہ قومی اسمبلی کے رکن اور اسپیکر بھی رہے ،صدرکی عدم موجودگی میں قائم مقام صدر کے فرائض بھی انجام دئیے۔ جب مارچ 1940 ء میں لاہور میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی تو مولوی تمیزاُلدین اُس اجلاس میں شامل تھے۔
مولوی تمیزاُلدین جمہوریت پسند سیاست دانوں میں سے تھے، اُن کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ 1954 ء میں جب اُس وقت کے گورنر جنرل غلام محمد نے جمہورت پر شب خون مارا اور دستورساز اسمبلی کو تحلیل کرد یا تو تمیزاُلدین خان نے اُن کے اس غیر قانونی اقدام کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ، یہ مقدمہ مولوی تمیز اُلدین بنام سرکار کے نام سے مشہور ہوا۔ مولوی صاحب نے اس مقدمے میں کامیابی حاصل کی ، لیکن حکومت کی طرف سے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت میں سپریم کورٹ نے اسے کالعدم قرار دے دیا۔
مولوی تمیز اُلدین کا تعلق بنگال سے تھا، ہم جانتے ہیں کہ تحریک پاکستان میں بنگالی مسلمانوں کا کردار نمایاں رہا ہے ، لیکن آزادی کے بعد اُن کے کردار کو منہا کرکے پیش کیا گیا اور کراچی اور پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کے کردار کو نمایاں کیا گیا ، اس طرح وہ خود کو پاکستان کا بانی سمجھنے لگے ۔
بنگالیوں کی حب الوطنی کو ہمیشہ شک کی نگار سے دیکھا گیا، اور اُنہیں ہمیشہ خود سے نیچا دکھانے کی کوشش کی گئی ، جس کا نتیجہ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں نکلا،کتاب کے ابتدائی صفحات میں مترجم ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
"میری فرمائش پر مولوی صاحب کی صاحبزادی نے اُس وقت کی تفصیل بتائی جب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں” نظریہ پاکستان” کی حفاظت کی تھی۔25 مارچ1971ء کی صبح ڈاکٹر نور الہدیٰ نماز فجر سے فارغ ہوکرقرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ڈاکٹر صاحب ڈھاکہ یونیوسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر تھے اور آفیسرز کواٹر میں رہائش پزیر تھے۔اُس وقت فوجی جوان اُن کے گھر میں آدھمکے اور نہایت ہی درشتی کے ساتھ اُن کا نام اور مذہب پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنا نام بتاتے ہوئے کہا۔ "میں ایک بنگالی مسلمان ہوں” فوجی افسر نے طنزیہ لہجے میں کہا ـ” کیاکوئی بنگالی مسلمان ہو سکتا ہے؟” اس کے بعد انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو بندوق کے نشانے پر رکھ لیا،اُسی وقت ڈاکٹر صاحب کی چھوٹی بیٹی اُن کو بچانے کے لیے اُن کے سامنے کھڑی ہوئی ،فوجیوں نے گھر کے اندر باہر ہر کونے میں دل کھول کر لوٹ مار کی ، پھر افراد خانہ کو خوف وہراس اور شدید اذیت میں مبتلا کرکے چلے گے۔آج بائیس سال گزر جانے کے بعد بھی ڈاکٹر نور الہدیٰ کے افراد خانہ کے دلوں کی گہرائیوں میں یہ تکلیف ،وہ یادیں اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔” چونکہ سقوط ڈھاکہ کا سانحہ میرے سامنے پیش تھا، اس لیے مجھے پر کچھ خاص حیرت نہ ہوئی، اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی پاکستان کے ارباب اختیار نے بنگالیوں کو اپنی رعیت اور حقیر سمجھا، اور خود کو اسلام، تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان کا چمپین سمجھا۔
وقت کی کسوٹی تحریک آزادی کے رہنما اور قائد اعظم کے قریبی ساتھی مولوی تمیز اُلدین خان کی داستان حیات ہے، جسے اُن کے داماد پرمرزا نورالہدیٰ نے مرتب کیا ، اور ا س کااردو ترجمہ معروف صحافی اور کالم نگار وجاہت مسعود نے کیا ہے۔ 1926 ء تک کے واقعات مولوی صاحب کے تحریر کردہ ہیں،جبکہ اس کے بعد کے واقعات کتاب کے مرتب مرزا نورالہٰداکے تحریر کئے ہیں۔وہ کتاب کے تعارف میں لکھتے ہیں کہ
” اسے بنگالی مسلمانوں کی بدقسمتی کہنا چاہیے کہ اُن کے سیاسی زعما میں سے بہت کم نے اپنی یادداشتیں رقم کی ہیں، یا اپنے ہم وطنوں کو اپنے خیالات اور مستقبل کے آدرشوں میں شریک کرنا چاہا ہے ،یہ ملک اس لحاظ سے خوش قسمت نہیں رہا۔اگرچہ مولوی تمیزاُلدین اپنی یادداشتیں مکمل نہ کرسکے، تاہم ان صفحات میں سماجی اور سیاسی مورخین کی اشتہا چمکانے کا کافی سامان بہم پہنچایا گیا ہے۔اُنہوں نے دیہاتی زندگی کی بھر پور تصویر کشی کی ہے۔مولوی صاحب کوتحریک آزادی ہند کاقریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا تھا۔ اُنہوں نے اس ضمن میں اپنے خیالات کو بے لاگ طریقے سے بیان کیا تھا۔ سرکردہ سیاسی قائدین کے افعال اور محرکات پر تبصرہ کرتے ہوئے اُنہوں نے حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔”
مولوی صاحب کی یہ خود نوشت تحریک آزادی اور پاکستان کی سیاست کے اُتار چڑھاو پر دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اپنی اس خود نوشت کو اُنہوں نے صرف اپنی زندگی کے حالات و واقعات تک محدود نہیں رکھا،بلکہ اس میں اُنہوں نے اُس وقت کے سیاسی و سماجی حالات او ر بنگال کے مسلمانوں کی ابتری اور اُن کے ساتھ ہندوجاگیردار اور زمینداروں کے ظالمانہ برتاؤ ؂کا بھی ذکر کیا ہے۔
مولوی تمیز اُلدین 1889 ء میں مشرقی بنگال کے ضلع فریدپور میں پیدا ہوئے ، یہ وہ دور تھا جب بنگال کے مسلمان کسمپرسی کی حالت میں زندگی بسر کر رہے تھے۔وہ سماجی و معاشی اعتبار سے ہندوؤں سے بہت پیچھے تھے۔ہندو تعلیم کے میدان میں مسلمانوں سے آگے ہونے کی وجہ سے اہم سرکاری عہدوں پر قابض تھے۔ ہندوستان بالخصوص بنگال کے ہندو مسلمانوں کے ساتھ اچھو توں جیسا سلوک کرتے تھے۔ مولوی تمیز اُلدین ہندوؤں کے مسلمانوں کے ساتھ برتاو کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
” سماجی طور پر ہندو مسلمانوں کو کئی لحاظ سے اچھوت سمجھتے تھے۔ دونوں اقوام میں باہم شادی بیاہ میں اکٹھے کھانا کھانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ دیگر اقسام کی سماجی میل جول کی مثالیں بھی بہت شاذونادر تھیں۔کسی مسلمان کوہندو گھرانے کے صحن میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔اگر مسلمان کھانے پینے کی اشیااور خاص طور پر ہندو کے لیے پکے ہوئے کھانے کو چھو دیتا تو سارا کھانا بھرشٹ قرار دے کر باہر پھینک دیا جاتاتھا۔ اگر شومئی قسمت کوئی مسلمان کسی ہندو کی رسوئی میں داخل ہوجاتا تو خواہ اس نے خوراک یاکسی برتن کو چھوا تک نہ ہو ، گھر میں موجود سارا کھانا اور مٹی کے برتن بھرشٹ قرار دے کر پھینک دیے جاتے تھے۔
ہندو جاگیردار اپنے مسلمان مزارعوں سے توہین آمیزسلوک کرتے تھے۔مسلمان مزارعوں کو جن کی اکثریت کاشت کار تھی ، جاگیردار کی حویلی میں فرش پر بچھے ٹاٹ ، لکڑی کے تختوں یا پیڑھیوں پر بٹھایا جاتا تھا، جبکہ اسی سماجی حیثیت کے حامل ہندو مزارعوں کو فراش ( فراش گھٹنوں تک بلند چبوترہ ہوتا تھاجس پر سترنگ نامی کپڑا بچھایا جاتا تھا)پر جاگیردار کے کارندوں کے برابر بیٹھنے کی اجازت تھی”
1905 ء میں بنگال کو دو حصوں مشرقی اور مغربی میں تقسیم کیاگیا، اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ صوبے کی جغرافیائی وسعت کے پیش نظر انتظامی امور چلانے میں دشواری کا سامنا تھا،مشرقی بنگال میں مسلمانوں آبادی زیادہ تھی، اس طرح مسلمانوں کو ایک نیا صوبہ مل گیاتھا۔ ہندو کسی صورت میں بھی یہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو کسی طرح کا فائدہ پہنچے، چنانچہ اُنہوں نے تقسیم بنگال کی منسوخی کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ہندوؤں کی اپیل پر عدم تعاون کی تحریک کا آغاز ہوا، جس کے تحت برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا گیا۔ شروع میں اپنی سادہ لوہی اور لاعلمی کی بنا پربنگال کے مسلمانوں نے بھی اس تحریک میں بھر پورحصہ لیا۔ مولوی تمیز الدین نے بھی اپنی سیاسی زندگی کا آغاز اسی تحریک سے کیا تھا۔ 1906 ء میں اُنہوں نے تقسیم بنگال کی مذمت میں اپنی پہلی سیاسی تقریر کی۔ اُنہیں بعد میں معلوم ہوا کہ تقسیم بنگال مسلمانوں کے مفادمیں تھا۔ مولوی تمیز اُلدین لکھتے ہیں کہ
"اس امرکے شواہد نظر آرہے تھے کہ تقسیم بنگال کو منسوخ کرکے ہندوؤں کو خوش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ان آثار سے مسلمان رہنماؤں میں تشویش پیدا ہونا قدرتی امر تھا۔ مسلمان زعمابرطانوی حکومت کے قیام کے بعد سے مسلمانوں کے حق میں جانے والا اولین اہم قدم سمجھتے تھے۔ان حالات میں مسلمانوں کی الگ سیاسی تنظیم کے قیام کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی۔”
چنانچہ نواب سلیم اللہ کی قیادت میں 30 دسمبر 1906 ء کو ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا۔1911 ، میں حکومت نے ہندوؤں کے دباو میں آکر تقسیم بنگال کو کالعدم قرار دے دیا اور مشرقی اور مغربی بنگال پھر سے متحد ہوگئے ۔حکومت کے اس فیصلے سے بنگال کے مسلمانوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گی ، اور مسلمانوں کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ ہندو اور مسلمان کبھی ایک قوم نہیں بن سکتے۔محمدعلی جناح اس بات کو سمجھتے تھے کہ ہندوستان کے مسلمان اپنے قدموں پر کھڑا ہوئے بغیر منزل حاصل نہیں کر سکتے ، لیکن وہ اکیلے کچھ نہیں کر سکتے، اس کے کانگریس کا ساتھ ضروری تھا۔اُنہوں نے 1913 ء میں آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی، لیکن کانگریس کاساتھ نہیں چھوڑا۔ مولوی تمیزاُلدین نے 1915 ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کی رکنیت اختیار کی۔اپنے ضلع فرید پور سے منتخب ہونے والے وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے رکن تھے ۔وہ فرماتے ہیں کہ” مجھے اس اعزازپر خاصی مسرت ہوئی، کیوںکہ فرید پور قصبے یا غالباً پورے ضلع میں کوئی دوسرا رکن موجود نہیں تھا۔ــ” 1921 ء میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی، اور 1926 ء میں اختلافات کے باعث کانگریس سے علیحدہ ہو گئے۔
1918 ء میں پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر ہندوستان بھر میں خوشی منائی گئی تھی،اس موقع پر فریدپور میں دو جلسے منعقد کئے گئے تھے،
ایک تعلیم یافتہ طبقے کے لیے اور دوسرا جلسہ عام لوگوں کے لیے تھا۔ تعلیم یافتہ لوگوں کے جلسے کی صدارت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے کی تھی۔ مولوی صاحب نے اس جلسے میں انگریزی میں اور دوسرے جلسے میں بنگالہ ز بان میں تقریر کی ، دونوں تقاریر کو جلسے میں شریک لوگوں نے بیحد پسند کی اور تالیاں بجا کر داد دی۔
جنوری 1919 میں ہندوستان کی مجلس قانون ساز کے سامنے بل پیش کیا گیا ،جسے رولٹ کا نام دیا گیاتھا، بظاہر اس بل کا مقصد تخریبی سرگرمیوں پر قابو پانا تھا،لیکن درحقیقت اس بل کا مقصد حکومت کو مقدمہ چلائے بغیر گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات دینا اور حکومت کے خلاف تحریک کو کچلنا تھا۔ حکومت نے عوام کے پرزور احتجاج کے باوجود مارچ میں اس بل کو قانونی شکل دے دی ، حکومت کے اس اقدام کے خلاف پورے ہندوستان میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا، جو آگے چل کر سانحہ جلیانوالہ باغ کا سبب بنا۔ مولوی صاحب نے سانحہ جلیانوالہ باغ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ
ــ”محمد علی جناح نے اس قانون کی شدت سے مخالفت کی کہ اُنہوں نے بطور احتجاج انڈین مجلس قانون ساز کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔مسٹر گاندھی احتجاج میں ایک قدم آگے نکل گئے،اور اُنہوں نے عوام سے ستیا گرہ یعنی پرامن سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے اپیل کی ۔اس تحریک کا مقصد یہ تھا کہ اگر کسی پررولٹ ایکٹ کا اطلاق ہوتاہو تو اس قانون کی خلاف وررزی کی جائے۔اس تحریک کو عوام کی بھر پور حمایت ملی ، ملک بھر میں بالخصوص پنجاب میں شدید ہنگامے ہوئے۔مسٹر گاندھی اُس وقت بمبئی میں تھے اورصورتحال پرقابوپانے کے لیے پنجا ب جانا چاہتے تھے، مگر 7 اپریل کو اُنہیں پنجاب میں داخل ہونے سے روک دیا گیا اور پولیس اُنہیں دوبارہ بمبئی لے گئی ۔9اپریل کو د و کانگریسی رہنما احتجاج کرنے اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ حکومت کی ان سرگرمیوں کے خلاف امرتسرمیں خوفناک ہنگامے شروع ہو گئے ، جن میں کچھ یورپین بنک افسران مارے گئے اور ریلوے اسٹیشن کو آگ لگانے کی کوشش بھی کی گی۔11 اپریل کو جالندھر بریگیڈ کے کماندار بریگیڈیر آر ای ایچ ڈائرکو ہنگامہ فرد کرنے کا حکم ملا ۔ اس نے ایک فرمان کے ذریعے اجتماعات پر پابندی عائد کردی،لیکن عوام اس فرمان کی تعمیل کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے ۔ 13 اپریل کو ہندوؤں اور مسلمانوں پر مشتمل ہزاروں افراد کا مجمع ، جس میں بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی امرتسر ٌ( پنجاب ) کے جلیانوالہ باغ میں جمع ہوا ۔ یہ باغ ایک چاردیواری میں واقع تھا،جہاں پر داخلے اور باہر جانے کے صرف دو تنگ راستے تھے۔ قانون کی بالادستی قائم کرنے اور برطانوی قوت کے مظاہرے نیز عوام کی بڑھتے ہوئے خود سری کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی غرض سے ڈائر نے اپنے زیر کمان فوجیوں کو گولی چلانے کاحکم دے دیا،آن کی آن میں جلیانوالہ باغ خون کے تالاب میں بدل گیا،کشتگانِ ستم کی تعداد 400تھی، جبکہ 1300 افرادگھائل ہوئے ، پنجاب میں مارشل لا کا اعلان کردیا گیا، اور مارشل لا کے نفاذ کے لیے عوام کو غیر انسانی اور توہیں آمیز سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔ان واقعات کی خبر پھیلنے پر پورے ملک میں غم غصے کی لہردوڑ گئی۔مسٹر گاندھی ستیاگرہ کی تحریک واپس لینے پر مجبور ہوگئے۔”
تحریک خلافت میں کامیابی کے بعددسمبر1920 ء ناگ پور میں کانگریس کے سالانہ اجلاس میں تحریک ترک موالات کی منظوری دی گئی۔ اس تحریک کا مقصد غیر ملکی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ تھا،یہ بہت کارگرہتھیار تھا، جو آزادی جدوجہدمیں استعمال کیا گیا۔ انگریزی حکومت کوخطرہ لاحق ہوا کہ اگر یہ تحریک زور پکڑ گئی توپورا ملکی نظام مفلوج ہوجائے اوربغاوت پھیل جائے گی، چنانچہ اس تحریک کو کچلنے کا فیصلہ کیا، اور اس تحریک میں حصہ لینے والوں کو گرفتار کرنا شروع کردیا۔مولوی تمیز اُلدین نے اپنے ضلع فریدپور میں خلافت کمیٹی کے نائب صدر کی حیثیت سے اس تحریک میں بھر پور حصہ لیا، اُنہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو جو سرکاری اسکول میں زیر تعلیم تھا، اُسے وہاں سے ہٹا دیا، بدقسمتی اس کے بعد وہ مزید تعلیم حاصل نہ کرسکا۔تحریک ترک موالات میں حصہ لینے کی وجہ سے دوسرے لوگوں کے ساتھ اُنہیں بھی گرفتار کرلیا گیا، وہ پہلے فرید پور اور اس کے بعد ڈھاکہ جیل میں قید رہے،تقریباً چودہ ماہ بعد اُنہیں جیل سے رہائی ملی۔
1926 ء میں مولوی تمیز اُلدین نے فرید پور کی دو سب ڈویژن صدر اور گولانڈو سے بنگال کی مجلس دستور ساز کی رکنیت کے لیے انتخاب میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔1937 ء کے انتخاب میں اُنہوں نے آل انڈیامسلم لیگ کے اُمیدوارکی حیثیت سے کانگریس کے اُمیدوار ہمایوں کبیر کو شکست دی۔ وہ 1937 ء سے1947 ء تک بنگال کی صحت، زراعت،تعلیم اور صنعت کے وزیر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعدطانیہ سیاسی‘ معاشی اور عسکری لحاظ سے اس قدر کمزور ہوچکا تھا کہ اس کے لیے ہندوستان پر اپنا تسلط برقرار رکھنا ناممکن ہوچکا تھا، چنانچہ برطانوی حکومت کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ جون 1948ء تک ہندوستان کو آزادی دے دی جائے گی۔ اس دوران کانگریس اور مسلم لیگ میں اختلافات پیدا ہو گئے،کانگریس ہندوستان کی تقسیم کے خلاف تھے،جبکہ مسلم لیگ اپنے ایک الگ وطن پاکستان کا قیام چاہتی تھی۔مسلم لیگ نے پاکستان کے حصول کی خاطر یوم راست اقدام منانے کا فیصلہ کیا ، یہ دن کلکتہ میں 16 اگست1946 ء کو منایا گیا، ہندوؤں کے اس کی مزاحمت کی ،جس کے نتیجے میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے ، جس میں لاتعداد مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔ہندوؤ کے اس خونی کھیل کے ردعمل کے طور پر نواکھالی میںہندوؤں کا خون بہایاگیا۔اس خون خرابے سے یہ ثابت ہو گیا کہ ہندوستان ہندو اور مسلمانوں کا اکٹھے رہنا ممکن نہیں چنانچہ 3 جون 1947ء کو قانون آزادی ہند 1947 ء کی رو سے فیصلہ کیا گیا کہ 15 اگست1947 ء کو ہندوستان کو دوآزاد مملکتوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔
اس فیصلے کے بعدہندوستان دستورساز اسمبلی کی طر زپردوالگ الگ دستورساز اسمبلیاں تشکیل دی گئیں، مولوی تمیزاُلدین پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے رکن تھے۔بنگال اور پنجاب کے صوبوں کو ہندو اور مسلم اکثریتی علاقوں کے لحاظ سے تقسیم کیا جانا تھا۔ اس مقصد کے لیے باونڈری کمیشن قائم کیا گیا، بظاہر کانگریس اور مسلم لیگ دونوں اس منصوبے سے خوش نہیں تھیں،لیکن اُنہیں ہندوستان کے آئینی مسئلے کے واحد حل کے طور پر یہ سمجھوتہ کرنا پڑا۔مسلم لیگ کو وہی پاکستان قبول کرنا پڑا،جسے اس نے ـ” کٹا پھٹا اور دیمک زدہ” پاکستان قرار دیا تھا۔
حسین شہید سہروردی اور سرت بوس نے بنگال کو ایک الگ آزاد اور خود مختار ریاست بنا نے کی تجویز پیش کی، لیکن مسلم لیگ اور کانگریس کی طرف سے حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔کتاب کے مرتب نورالہدیٰ کے مطابق
” شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت نے ابتدائی طورپر اس منصوبے کی مشروط حوصلہ افزائی کی تھی،مگر بعد ازاں تجویز کے غائز مطالعے کے بعد یہ حمایت واپس لے لی۔فریقین کے موقف میں لچک ختم ہو گئی اور سہروربوس منصوبہ مسترد کر دیا گیا۔ اس تجویز کے استرداد کے بعد اس منصوبے کے دونوں محرکین بھی اپنی اپنی جماعت میں اپنی سیاسی حیثیت سے محروم ہو گئے۔”
بنگال اور پنجاب کی تقسیم کے فیصلے کے بعد دونوں صوبوں مشرقی و مغربی پنجاب اور مشرقی و مغربی بنگال کے اثاثوںاور واجبات کے تعین کی غرض سے پارٹیشن کونسل قائم کی گئی ، بنگال کے کونسل کے ارکان میں مولوی تمیزاُلدین بھی شامل تھے۔پارٹیشن کونسل بنگال میں اثاثوں اور واجبات کے تعین پر متفق نہ ہوسکی ، چنانچہ مشرقی بنگال کی حکومت کی تعمیر از سر نو کرنی پڑی۔
12 اگست 1947 ء کو پاکستان دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس کراچی میں جوگیندر ناتھ منڈل کی صدارت میں ہوا، جس میں لارڈ ماؤٹ بیٹن پاکستان کا اقتدار دستور ساز اسمبلی کے سپرد کیا ،اور قائد اعظم نے گورنر جنرل کی حیثیت سے اقتدار وصول کیا۔14 اگست کی صبح گورنر جنرل کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی، لیاقت علی خان نے ویزاعظم کی حیثیت سے کابینہ تشکیل دی،جس میں سردار عبدالرب نشتر کو نائب وزیراعظم مقرر کیاگیا۔ دیگر وزرا میں غلام محمد کو خزانہ، فضل الرحمٰن کو تجارت اور جوگیندر پال منڈل کو قانون کی وزارت سونپی گئی۔مولوی تمیزاُلدین نے اسمبلی کے قواعد کی تدوین کے لیے قائم کردہ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے اپنا کام بڑی دیانتداری سے سر انجام دیا ۔
1949 ء میں قائد اعظم کی وفات کا واقعہ ملک نوزائیدہ ملک کے لیے کسی سانحے سے کم نہ تھا۔ستمبر 1949 ء میں مولوی تمیزاُلدین دستور ساز اسمبلی کے نائب صدر کی حیثیت سے غیر ملکی دورے پر تھے، اس دوران اُنہیں قائد اعظم کے وفات کی خبرملی ،وہ دورہ مختصر کرکے واپس پاکستان آ گئے۔اُن کے واپس پہنچنے سے پہلے ہی خواجہ ناظم اُلدین وزیر اعظم اور نور الامین مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہو چکے تھے۔مولوی تمیزاُلدین کواتفاق رائے سے دستور ساز اسمبلی کا صدر نامزد کیا گیا۔
اکتوبر1951 ء میں راولپنڈی کے ایک جلسے میں لیاقت علی خان کے قتل کے بعد خواجہ ناظم اُلدین کو گورنر جنرل کے عہدے سے ہٹا کر وزیر اعظم ،اور غلام محمد کو گورنر جنرل بنا دیا گیا۔نور الہدیٰ کے مطابق مؤخرالذکر اقدام جمہوریت کے لیے زہرقاتل ثابت ہوا۔ اس کے بعد پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں کمزور ہونا شروع ہو گیں،اور یکے بعد دیگرے کئی ایسے واقعات پیش آئے ، جو ملک کے لیے نقصادہ ثابت ہوئے ،ان میں فروری1952 ء کاواقعہ بہت اہم ہے ،جو آگے چل کر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سبب بنا,نور الہدیٰ لکھتے ہیں کہ۔
وزیر اعظم خواجہ ناظم اُلدین نے 1952 ء میں بنگال کا دورہ کیا اور اعلان کیا کہ پاکستان کی سرکاری زبان صرف اُردو ہوگی، گویا وہ اپنے ہی وعدے سے انحراف کر رہے تھے، جو اُنہوں نے مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کیا تھا کہ بنگالی زبان کوبھی سرکاری زبان کی حیثیت دلوائی جائے گی۔قبل ازیں اس مسئلے پر ناظم اُلدین قائد اعظم تک کی اعلانیہ مخالفت کر چکے تھے ،جب 1948 ء میں قائد اعظم نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے کانووکیشن اور پھر ریس کورس میدان کے جلسہ عام میں صرف اُردو کے سرکاری زبان ہونے کا اعلان کیا تھا، یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس کے بعد خود قائد اعظم نے بھی کبھی اس مسئلے پر اظہار خیال نہیں کیا تھا،وزیر اعظم کے اس اعلان نے جلتی پرتیل کاکام کیا اس کے بعد حالات میں ایسی تلاطم خیز تبدلیاں پیداہوئیں کہ تمام منصوبے اور تجاویز دھری کی دھری رہ گئیں،اس مسئلے پر فریقین سخت اشتعال میں تھے۔21فروری1952 ء کو پولیس نے بنگالی زبان کے حق میں مظاہرہ کرنے والے طلبا پر گولی چلا دی اور چند طلبا ہلاک ہو گئے ، اس کے بعد بھی پولیس نے اس پیمانے پر ظلم و تشدد جاری رکھاکہ اس کی مثال ملنامشکل تھی۔یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ کافیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔
( جاری ہے )

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleسوشل میڈیا اور اے آئی کے ذریعے بچوں کی آن لائن ہراسانی وسعت اللہ خان کا کالم
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

سوشل میڈیا اور اے آئی کے ذریعے بچوں کی آن لائن ہراسانی وسعت اللہ خان کا کالم

ستمبر 27, 2026

معرکۂ ناحق ، اور بیگم ملا بک بک کی مارشل لائی نگاہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

ستمبر 27, 2026

ہم کب مرتے ہیں ؟ زندگی ، موت اور لاتعلقی کے درمیان معلق ایک سوال ڈاکٹر علی شاذف کا کالم

ستمبر 27, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • وقت کی کسوٹی : مولوی تمیز اُلدین خان کی داستانِ حیات : محمد اسلام تبسم کا کتاب کالم ( 1 ) ستمبر 27, 2026
  • سوشل میڈیا اور اے آئی کے ذریعے بچوں کی آن لائن ہراسانی وسعت اللہ خان کا کالم ستمبر 27, 2026
  • معرکۂ ناحق ، اور بیگم ملا بک بک کی مارشل لائی نگاہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت ستمبر 27, 2026
  • ہم کب مرتے ہیں ؟ زندگی ، موت اور لاتعلقی کے درمیان معلق ایک سوال ڈاکٹر علی شاذف کا کالم ستمبر 27, 2026
  • ڈیرہ اسماعیل خان ’’ امن میلہ ‘‘ میں خود کش دھماکہ : 12افراد ہلاک ، 35 زخمی ستمبر 26, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.