آئینی عدالت کے سربراہ نے آئین کی بالادستی کو عوام کی ’اجتماعی خواہش‘ قرار دیتے ہوئے ، اسے یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آئینی عدالت امین الدین خان نے کہا کہ ’اختیارات کے استعمال میں آئین کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہئے، آئین کی پاسداری سے ہی معاشرے میں استحکام ممکن ہے۔آئین میں اختیارات اور حدود کا واضح تعین کیا گیا ہے‘
جسٹس امین الدین خان کا کہنا تھا کہ ’ آئین کو ہر حال میں بالادست رہنا چاہیے اور ریاستی اختیار کا ہر استعمال آئین کی مقرر کردہ حدود کے اندر ہونا چاہیے‘۔ ذی وقار چیف جسٹس آئینی کورٹ کے یہ الفاظ بلاشبہ سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں لیکن پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ ایسے ’سنہرے حروف‘ پر عمل درآمد کے وقت مصلحت اور عملیت پسندی کا سایہ گہرا ہوجاتا ہے اور آئین و قانون کو معروضی صورت حال کی روشنی میں سمجھنے اور اس کے نفاذکا فیصلہ کرنا اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں آئینی عدالت بنانے کا فیصلہ بدستور قانون دانوں اور سیاسی حلقوں میں تنازعہ کا باعث بنا ہؤا ہے اور برسر اقتدار طبقہ مسلسل ایک ترمیم کے ذریعے بنائے گئے اس نئے اعلیٰ ترین ادارے کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے اور فیصلوں پر مرضی مسلط کرانے کے لیے استعمال کررہاہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آئینی عدالت اور اس کے فاضل اراکین حکومتی درخواستوں کی نیک نیتی پر سوال اٹھانے کی بجائے ان ہتھکنڈوں میں آلہ کار کے طور پر استعمال ہوں گے تو ’آئین کی بالادستی‘ کا سنہرا خواب بدستور گم گشتہ رہے گا۔
جس روز آئینی عدالت کے سربراہ کا آئینی بالادستی کے بارے میں روح افز ابیان شائع ہؤا ہے ، اسی روز یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ آئینی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو سپریم کورٹ کی طرف سے نجی ہسپتال میں علاج کرانے کی سہولت فراہم کرنے کے حکم کی تمام دستاویزات طلب کرلی ہیں۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے18 اگست کو سابق وزیر اعظم کی بہن عظمیٰ خان کی درخواست پر علاج معالجے کی غرض سے سابق وزیر اعظم کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم حکومت نے اس فیصلے پر عمل کرنے کی بجائے عمران خان کو تھوڑی دیر کے لیے اسلام آباد کے پمز سرکاری ہسپتال میں بھیجا اور ڈاکٹروں سے ان کےصحت یاب ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرکے دوبارہ اڈیالہ واپس روانہ دیا۔ حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل نہ کرنے کے خلاف ڈاکٹر عظمی کی توہین عدالت درخواست پر سپریم کورٹ نے ابھی تک سماعت نہیں کی۔ البتہ اس دوران اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں نے آئینی عدالت سے درخواست کی ہے کہ انہیں بھی عمران خان کی طرح پرائیویٹ علاج کرانے کی سہولت فراہم کی جائے ۔
اڈیالہ میں قید بھگتنے والے ان تین قیدیوں کی درخواست پر آئین کی بالادستی کے نام پر قائم ہونے والی وفاقی آئینی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق تمام عدالتی ریکارڈ سپریم کورٹ سے طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر عمران خان کی بہن کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست اور حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی نظرثانی کی اپیل کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔ آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے یہ حکم اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان قیدیوں کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد اپیل پرجاری کیا ہے۔ اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے آئینی عدالت نے یہ اعتراض لگانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کہ کسی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف اپیل پہلے سپریم کورٹ میں جانی چاہئے۔
اس معاملہ میں حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ درست نہیں تھا لیکن حکومت نہ تو اپنا مؤقف ابھی تک سپریم کورٹ سے تسلیم کرا سکی ہے اور نہ ہی ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے حکم پر عمل درآمد کی آئینی ذمہ داری پوری کی گئی ہے۔ تاہم آئینی عدالت میں کسی ’ذمہ دار شہری‘ نے ابھی تک یہ درخواست دائر نہیں کی کہ وفاقی حکومت کی اس آئینی کوتاہی کے خلاف چارہ جوئی کی جائے۔ اسی لیے آئینی عدالت ’مجبور‘ ہے۔ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اس حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ کسی بھی قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کرتا ہے۔ ان کے بقول اس کا اختیار ’نہ کسی جج کے پاس ہے اور نہ ہی کسی وزیر کے پاس‘۔ وفاقی وزارت کے عہدے پر فائز طارق فضل چوہدری البتہ اس بنیادی قانونی نکتہ کو سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ ملک میں سپریم کورٹ ہی تمام قوانین و قواعد کے نفاذ کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ سپریم کورٹ عمران خان کا شفا ہسپتال میں طبی معائنہ کرانے اور ان کی بیماریوں کے تعین کے لیے ایسا میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم بھی دے چکی ہے جس میں عمران خان کی بہن اور نجی معالج بھی شامل ہوں گے۔ لیکن حکومتی ترجمان اس حکم کے بعد اخباری بیانات میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے ججوں کو معاملہ کی ’قانونی پوزیشن‘ سمجھانے پر مامور ہیں۔
ایک دوسرے معاملہ میں وفاقی آئینی ب عدالت کے ایک بنچ نے خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی نااہلی کے لیے تحریک انصاف ہی کے باغی رہنما شیر افضل خان مروت کی آئینی درخواست بھی سماعت کے لیے منظور کرکے متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ اس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ خیبر پختون خوا کے سابق وزیر اعلیٰ مین گنڈا پور نے اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیا تھا بلکہ انہوں نے عمران خان کے حکم پر یہ استعفیٰ دیا تھا حالانکہ نواز شریف کیس میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کے مطابق کوئی نااہل لیڈر کسی قسم کے سیاسی فیصلے کرنے کا مجاز نہیں ہوتا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ خیبر پختون خوا کے گورنر نے کبھی علی امین گنڈا پور کا استعفی منظور نہیں کیا ۔ اس لیے نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب ناجائز اور غیر آئینی ہے۔ درخواست گزار یا آئینی عدالت نے البتہ ابھی تک اس پہلو پر غور نہیں کیا کہ سہیل آفریدی اکتوبر 2025 میں خیبر پختون خوا اسمبلی کے 145 ارکان میں سے 90 ارکان کے ووٹوں سے منتخب ہوئے تھے۔
ان مثالوں سے دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت اور اس سے وابستہ عناصر کیسے آئینی عدالت ہی نہیں بلکہ ملکی قانون و آئین کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا ہر حربہ استعمال کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اگر آئین عدالت کے فاضل جج ان ہتھکنڈوں کو سمجھنےاور انہیں مسترد کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تو ملکی آئین کا شیش محل مسلسل شکست و ریخت کا شکار رہے گا اور قانون کی حکمرانی پر عوام کا اعتبار و بھروسہ کمزور ہوتا رہے گا۔
حکومت کی طرف سے یہ ’قانونی و آئینی ‘ تیاریاں بادی النظر میں 27 ستمبر کو تحریک انصاف کے احتجاج کی روک تھام کے لیے کی جارہی ہیں۔ اس دوران خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ اپنے صوبے کے معاملات نظر انداز کرکے سندھ کے بعد پنجاب کے دورے پر روانہ ہیں تاکہ تحریک انصاف کے کارکنوں کو احتجاج کے لیے باہر نکلنے پر آمادہ کیا جاسکے۔ یوں لگتا ہے کہ دو ہفتے بعد ہونے والے سیاسی طاقت کے اس مظاہرے سے پہلے طرفین یکساں طور سے بدحواسی کا شکار ہیں۔ حکومت ’معزز شہریوں‘ کی مدد سے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہی ہے۔ اسی لیے اسلام آباد ہائی کورٹ نے خیبر پختون کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس سے حلف نامے حاصل کیے ہیں کہ اس احتجاج میں کوئی سرکاری مشینری یا کارکن استعمال نہیں ہوں گے ۔ اور سہیل آفریدی پنجاب حکومت کو مطعون کرنے کے لیے سڑک پر ’دھرنا دینے‘ یا خود ہی پولیس کی گاڑی میں گھس کر اپنے ہی اغوا کا ڈرامہ رچانے میں سہولت محسوس کررہے ہیں۔
حالانکہ موجودہ حالات میں ماضی کے چند افسوسناک سانحات کی طرح 27 ستمبر بھی گزر جائے گا۔ گو کہ قیاس یہی ہے کہ اس روز تحریک انصاف شاید ماضی کی طرح کوئی خاص پوائنٹ اسکورنگ کرنے میں بھی ناکام رہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے شاید اسی لیے قبل از وقت میڈیا کو متوجہ حاصل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ حالانکہ اگر فریقین سڑکوں اور عدالتوں میں زور آزمائی کی بجائے، یہ صلاحیت مذاکرات کی میز پر آزما سکیں تو شاید ملک و قوم کو بھی کوئی اچھی خبر سننے کو ملے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
Previous Articleاجتماعی سلامتی: تصور سے عملی حکمتِ عملی تک! امریکہ، ایران جنگ کے تناظر میں ۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (2)
Next Article حرف حق دل میں کھٹکتا ہے : وجاہت مسعود کا کالم

