ہر عہد اپنی نسل کے مزاج، ترجیحات اور طرزِ زندگی پر اپنی ایک الگ چھاپ چھوڑتا ہے۔ آج کا عہد ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا، تیز رفتار معلومات اور بے مثال سہولتوں کا عہد ہے۔ ہماری نئی نسل، جسے عام طور پر جنریشن زی (Gen Z) کا دور کہا جاتا ہے، اس جدید دنیا کی سب سے نمایاں نمائندہ ہے۔ یہ نسل ذہین ہے، باصلاحیت ہے، تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہے اور دنیا کو بدلنے کی خواہش رکھتی ہے؛ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے طرزِ زندگی میں بعض ایسی عادات بھی جڑ پکڑ رہی ہیں جو فرد، خاندان اور معاشرے کے مستقبل کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ہر نوجوان کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا درست نہیں۔ جنریشن زی کے بے شمار نوجوان محنتی، باصلاحیت، تعلیم دوست، بااخلاق اور مقصدیت رکھنے والے بھی ہیں۔ مسئلہ پوری نسل کا نہیں بلکہ ان عادات اور رویوں کا ہے جو جدید سہولتوں کے بے اعتدال استعمال سے پیدا ہو رہے ہیں۔
سب سے نمایاں مسئلہ تعلیم سے عدم دلچسپی ہے۔ کتاب، مطالعہ، تحقیق اور گہری سوچ کے مقابلے میں مختصر ویڈیوز، فوری معلومات اور تفریحی مواد زیادہ پرکشش محسوس ہونے لگا ہے۔ موبائل فون نے معلومات تک رسائی آسان ضرور کر دی ہے، لیکن اس نے توجہ کے ارتکاز کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ نوجوان کسی موضوع کو گہرائی سے پڑھنے کے بجائے چند سطروں یا چند سیکنڈ کی ویڈیو سے اپنی تشنگیِ علم بجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ نتیجتاً مطالعے کا ذوق، تنقیدی سوچ اور مستقل مزاجی کمزور پڑ رہی ہے۔
دوسرا بڑا مسئلہ وقت کا ضیاع ہے۔ وقت زندگی کا وہ سرمایہ ہے جو ایک مرتبہ گزر جائے تو واپس نہیں آتا، مگر ہماری نوجوان نسل کا ایک قابلِ ذکر حصہ گھنٹوں سوشل میڈیا، آن لائن گیمز، غیر ضروری چیٹنگ اور مسلسل اسکرولنگ میں صرف کر دیتا ہے۔ چند منٹوں کے لیے کھولا جانے والا موبائل فون بعض اوقات کئی گھنٹوں کا وقت نگل جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ وقت گزرنے کا احساس بھی نہیں ہوتا اور دن کے اختتام پر ہاتھ میں صرف تھکن، بے مقصد مصروفیت اور نامکمل کام رہ جاتے ہیں۔
آن لائن گیمز بھی موجودہ نوجوان کے معمولات کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ کھیل بذاتِ خود بری چیز نہیں؛ بلکہ جسمانی اور ذہنی کھیل انسان کی صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں۔ لیکن جب اسکرین پر کھیلا جانے والا کھیل حقیقی زندگی کی سرگرمیوں، تعلیم، نیند، خاندان اور صحت پر غالب آجائے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ بعض نوجوان رات گئے تک گیمز کھیلتے رہتے ہیں اور صبح تعلیمی ذمہ داریوں کے لیے بیدار ہونا دشوار محسوس کرتے ہیں۔
اسی سے جڑا ہوا ایک اور مسئلہ رات گئے تک جاگنے اور نیند کے معمول میں بگاڑ کا ہے۔ قدرت نے انسانی جسم کو ایک مخصوص حیاتیاتی نظام کے تحت ترتیب دیا ہے۔ رات آرام کے لیے ہے اور دن سرگرمی کے لیے۔ لیکن موبائل فون، گیمز، ڈراموں، سوشل میڈیا اور آن لائن سرگرمیوں نے اس فطری ترتیب کو بدل دیا ہے۔ رات کے پچھلے پہر تک جاگنا اور دن چڑھے تک سونا نوجوانوں میں عام ہوتا جا رہا ہے۔ اس بے ترتیبی کے اثرات صرف تعلیمی کارکردگی تک محدود نہیں رہتے بلکہ جسمانی توانائی، مزاج، توجہ اور روزمرہ فعالیت بھی متاثر ہوتی ہے۔
جنک فوڈ اور غیر صحت مند خوراک بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ برگر، پیزا، فرائز، میٹھے مشروبات، پیک شدہ اشیا اور دیگر فاسٹ فوڈ نوجوانوں کی پسندیدہ غذاؤں میں شامل ہو چکے ہیں۔ کبھی کبھار ایسی غذا کھانا کوئی بڑا مسئلہ نہیں، لیکن جب یہی خوراک روزمرہ کا معمول بن جائے اور گھر کا متوازن کھانا نظرانداز ہونے لگے تو صحت متاثر ہونا فطری ہے۔ آج کا نوجوان جسمانی سرگرمی کم اور کیلوریز زیادہ حاصل کر رہا ہے۔ یہی تضاد مستقبل میں صحت کے کئی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
اس صورتِ حال کا ایک خطرناک پہلو جسمانی کھیلوں سے دوری ہے۔ کبھی گلی، محلہ، میدان اور سکول کا گراؤنڈ بچوں اور نوجوانوں کی آوازوں سے آباد رہتے تھے۔ کرکٹ، فٹ بال، ہاکی، والی بال، کبڈی، دوڑ اور دیگر کھیل جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ ٹیم ورک، برداشت، نظم و ضبط اور شکست و فتح کو قبول کرنے کا حوصلہ بھی سکھاتے تھے۔ اب میدان کے مقابلے میں موبائل کی اسکرین زیادہ پرکشش ہو گئی ہے۔ نوجوان کے ہاتھ میں گیند کے بجائے موبائل اور گراؤنڈ کے بجائے اسکرین آ گئی ہے۔
ایک اور تشویش ناک تبدیلی والدین کی بات نہ ماننے اور بڑوں کے احترام میں کمی کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔ جدید تعلیم اور آزادیِ اظہار یقیناً ضروری ہیں، لیکن آزادی کا مطلب بے ادبی یا ہر نصیحت کو فرسودہ سمجھنا نہیں۔ نوجوان اور والدین کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ اکثر اس لیے بھی پیدا ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
والدین حکم دینے کے بجائے مکالمہ کریں اور نوجوان اختلاف کے باوجود احترام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
وقت کی پابندی کا فقدان بھی ہماری اجتماعی کمزوری بنتا جا رہا ہے۔ کلاس میں دیر سے پہنچنا، ملاقات کا وقت بدل دینا، کام کو کل پر چھوڑ دینا اور آخری لمحے میں ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کرنا ایسی عادات ہیں جو شخصیت میں غیر سنجیدگی پیدا کرتی ہیں۔ کامیاب زندگی صرف ذہانت سے نہیں بنتی؛ اس کے لیے وقت کی قدر، مستقل مزاجی اور ذمہ داری ضروری ہے۔
اسی طرح سلیقہ، ترتیب اور نظم و ضبط کی کمی بھی قابلِ توجہ ہے۔ کمرے کی بے ترتیبی، کتابوں اور اشیا کو مناسب جگہ نہ رکھنا، لباس اور ذاتی صفائی سے غفلت، کاموں کی منصوبہ بندی نہ کرنا اور ہر کام میں بے ترتیبی دراصل شخصیت کے اندرونی نظم کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ ایک کامیاب انسان صرف بڑا خواب نہیں دیکھتا، وہ اپنی میز، اپنی کتاب، اپنے وقت اور اپنے معمول کو بھی ترتیب دیتا ہے۔
فوری کامیابی کی خواہش بھی نئی نسل کا ایک اہم مسئلہ بن رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر کامیاب لوگوں کی چمک دمک دیکھ کر نوجوان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ کامیابی چند دنوں یا چند ہفتوں میں حاصل ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑی کامیابیاں برسوں کی محنت، ناکامیوں، تجربات اور مستقل مزاجی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ نوجوان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زندگی کوئی شارٹ ویڈیو نہیں جس کا اختتام چند سیکنڈ میں آ جائے۔
اسی طرح دوسروں سے مسلسل موازنہ نوجوانوں کے ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر شخص اپنی زندگی کا خوبصورت ترین حصہ دکھاتا ہے، جبکہ دیکھنے والا اپنی پوری زندگی کا موازنہ دوسرے کی منتخب چند تصاویر سے کرنے لگتا ہے۔ یوں احساسِ محرومی، بے اطمینانی اور اپنی ذات سے ناخوشی جنم لے سکتی ہے۔ نوجوان کو یہ سیکھنا ہوگا کہ زندگی مقابلہ نہیں، ایک سفر ہے؛ اور ہر انسان کا راستہ، رفتار اور منزل مختلف ہوتی ہے۔
پھر مختصر اور غیر سنجیدہ گفتگو کا بڑھتا ہوا رجحان بھی زبان اور فکر دونوں کو متاثر کر رہا ہے۔ مسلسل مختصر پیغامات اور فوری ردِعمل کی عادت کبھی کبھی انسان کو مکمل جملہ، دلیل اور سنجیدہ گفتگو سے دور کر دیتی ہے۔ زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ سوچ کی تشکیل بھی کرتی ہے۔ جس معاشرے میں الفاظ کا احترام ختم ہونے لگے وہاں مکالمہ بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ حل کیا ہے؟
سب سے پہلے ہمیں نوجوانوں کو برا بھلا کہنے کے بجائے انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ نسلوں کے درمیان فاصلے صرف تنقید سے کم نہیں ہوتے، مکالمے سے کم ہوتے ہیں۔ والدین کو بچوں کے لیے صرف حکم دینے والے نہیں بلکہ دوست، رہنما اور مربی بننا ہوگا۔ اساتذہ کو بھی محض نصاب مکمل کرنے کے بجائے طلبہ میں زندگی کی مہارتیں، وقت کی قدر، مطالعے کی عادت، اخلاقی شعور اور مقصدیت پیدا کرنا ہوگی۔
گھر میں ڈیجیٹل ڈسپلن قائم کیا جا سکتا ہے۔ کھانے کے وقت موبائل فون سے اجتناب، سونے سے پہلے اسکرین کا استعمال محدود کرنا، مطالعے کے لیے مخصوص وقت مقرر کرنا اور روزانہ جسمانی سرگرمی کو معمول بنانا چھوٹی مگر مؤثر تبدیلیاں ہیں۔
نوجوانوں کے لیے مطالعے کا ذوق دوبارہ پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ انہیں صرف یہ نہ کہا جائے کہ "موبائل چھوڑو، کتاب پڑھو” بلکہ ایسی کتابیں، مضامین اور ادبی مواد فراہم کیا جائے جو ان کے ذوق، عمر اور مسائل سے ہم آہنگ ہوں۔ جب کتاب کو سزا اور موبائل کو انعام بنا دیا جائے تو نوجوان کتاب سے محبت کیسے کرے گا؟
اسی طرح کھیل کے میدانوں کو دوبارہ آباد کرنا ہوگا۔ سکولوں، کالجوں اور معاشرے کو نوجوانوں کے لیے کھیل، مباحثے، ادبی سرگرمیاں، تقریری مقابلے، مطالعاتی نشستیں اور تخلیقی سرگرمیاں فراہم کرنا ہوں گی۔ جس نوجوان کے پاس مثبت مصروفیت نہیں ہوتی، وہ اکثر منفی مصروفیت تلاش کر لیتا ہے۔
والدین کو بچوں کے سامنے خود بھی مثالی کردار پیش کرنا ہوگا۔ اگر والدین ہر وقت موبائل میں مصروف ہوں اور بچے کو موبائل سے دور رہنے کا حکم دیں تو نصیحت بے اثر ہو جائے گی۔ تربیت صرف الفاظ سے نہیں، عمل سے ہوتی ہے۔
ہمیں نوجوانوں کو یہ بھی سکھانا ہوگا کہ زندگی کا مقصد صرف اچھی ملازمت، مہنگا موبائل، خوبصورت لباس یا سوشل میڈیا کی مقبولیت نہیں۔ اصل کامیابی ایک متوازن شخصیت بننے میں ہے؛ ایسی شخصیت جو علم رکھتی ہو، صحت مند ہو، وقت کی پابند ہو، والدین کا احترام کرتی ہو، دوسروں کے حقوق سمجھتی ہو، اپنے معاشرے کے لیے مفید ہو اور اپنی صلاحیتوں کو انسانیت کی بہتری کے لیے استعمال کرتی ہو۔
آخر میں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ جنریشن زی ہمارا مسئلہ نہیں، ہمارا مستقبل ہے۔ اگر اس نسل میں کچھ کمزوریاں ہیں تو ان کی اصلاح بھی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہم نوجوانوں کو صرف موردِ الزام ٹھہرا کر اپنے فرض سے سبک دوش نہیں ہو سکتے۔ گھر، سکول، کالج، میڈیا اور معاشرہ سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ہمیں ایسی نسل چاہیے جو ٹیکنالوجی کی غلام نہ ہو بلکہ اسے اپنا خادم بنائے؛ جو موبائل استعمال کرے مگر موبائل اسے استعمال نہ کرے؛ جو کتاب سے رشتہ جوڑے، میدان میں اترے، وقت کی قدر کرے، صحت کا خیال رکھے، والدین کا احترام کرے اور اپنی زندگی کو مقصد، نظم اور کردار کے ساتھ آگے بڑھائے۔
کیونکہ قوموں کا مستقبل صرف ان کی معیشت، عمارتوں اور ٹیکنالوجی سے نہیں بنتا؛ قوموں کا اصل مستقبل ان کے نوجوانوں کے کردار سے بنتا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی نئی نسل کو وقت کی قدر، علم کی محبت، صحت کی اہمیت اور کردار کی عظمت سکھا دی تو آنے والا کل یقیناً روشن ہوگا۔ لیکن اگر ہم نے آج کی سہولتوں کے نشے میں کل کی نسل کو بے سمت چھوڑ دیا تو تاریخ ہم سے یہ سوال ضرور کرے گی کہ ہم نے اپنے ہاتھوں میں موجود سب سے قیمتی سرمایہ—اپنی نوجوان نسل—کی حفاظت کے لیے کیا کیا؟
عہدِ حاضر ، جین زی کی بگڑتی عادات اور والدین کی ذمہ داریاں : پروفیسر صابر جروار کا کالم
ایڈیٹر7 Views

