اسلام آباد : ایک نجی ٹی وی چینل جی این این کے صحافی کے لاپتہ ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد ادارے کی جانب سے پولیس کو باضابطہ درخواست جمع کرا دی گئی ہے۔
چینل کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ صحافی یاسر ایاز خان گذشتہ روز شام تقریباً پانچ بجے اپنے گھر سے نکلے تھے، تاہم اس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
درخواست کے مطابق، اہلِ خانہ اور ادارے کی جانب سے صحافی سے رابطہ کرنے کی متعدد کوششیں کی گئیں، جن میں موبائل فون کے ذریعے رابطہ بھی شامل ہے، لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ اس صورتحال کے باعث اہلِ خانہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافی کے اچانک لاپتہ ہونے سے نہ صرف ان کے گھر والوں بلکہ میڈیا حلقوں میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔
چینل نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے صحافی کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
درخواست میں عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی کے پاس یاسر ایاز خان کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو متعلقہ حکام کو آگاہ کریں تاکہ ان تک جلد رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
جی این این چینل میں کام کرنے والے ایک سینیئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ آبپارہ پولیس اس واقعے کو دیکھ رہی ہے اور مانسہرہ کے ایک گاؤں میں مقیم یاسر ایاز کے گھر والوں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
بدھ, اکتوبر 28, 2026
تازہ خبریں:
- نیتن یاہو اکثریت حاصل نہ کرسکے ’’ حکومت گر گئی، اب نئی حکومت بنانا ہوگی: اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ
- خان آف قلات کے بیٹے شہزادہ محمد خان تین ساتھیوں سمیت لاپتا : پارلیمانی سیکریٹری آغا عمر کا دعویٰ
- عبدالمجید سالک صاحب کی باتیں : حامد میر کا کالم
- زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : یورپین زبانیں اور انڈین اور ایرانی زبانوں سے رشتہ
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

