Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, ستمبر 30, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • مشہد احتجاج کیس: ایران میں دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
  • صومالیہ میں بحری قزاقوں نے 3 پاکستانیوں سمیت پانچ افراد قتل کر دیئے
  • لاہور میں آذر بائیجان کی سیاح کے ساتھ گینگ ریپ : میڈیکل رپورٹ میں تصدیق
  • ایرانی گلوکارہ پرستو احمدی کو 74 کوڑوں کی سزا برقرار : بغیر آستینوں والا لباس پہننے کا الزام
  • ایمرجنسی کے نفاذ کی تیاریاں؟ حکومتی بیانات اور تجزیہ نگاروں نے نئی بحث چھیڑ دی
  • ٹانک میں ٹریفک پولیس کی گاڑی پر فائرنگ، 3 اہلکار شہید
  • حکومت کا ممکنہ اگلا فیصلہ کن قدم، "آرٹیکل 232” : نصرت جاوید کا کالم
  • ایران امریکہ تنازعہ: نئی جنگ خطرناک اور مہلک ہوگی : سیدمجاہد علی کا تجزیہ
  • خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا وزیراعلیٰ کی تبدیلی پر غور
  • وقت کی کسوٹی : مولوی تمیز اُلدین خان کی داستانِ حیات : محمد اسلام تبسم کا کتاب کالم ( 2)
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » مارک ٹلی بھارت کا بیانیہ بناتے تھے : پاکستان میں مارشل لاء کی راہ ہموار کی : ثقلین امام
تازہ ترین

مارک ٹلی بھارت کا بیانیہ بناتے تھے : پاکستان میں مارشل لاء کی راہ ہموار کی : ثقلین امام

ایڈیٹرجنوری 25, 202618 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
mark tally1
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

لندن : برطانیہ میں مقیم سینئر صحافی ثقلین امام نے لکھا ہے کہ مارک ٹلی کے جانے سے جنوبی ایشیا کی صحافت ایک متنازع، طاقتور اور کبھی کبھار ٹاکسک شخصیت سے محروم ہو گئی ہے۔ ٹلی کی زندگی اور کام یہ واضح کرتے ہیں کہ میڈیا کبھی صرف خبر کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ سیاسی بیانیہ قائم کرنے اور عوامی رائے کو متاثر کرنے کا ایک مہلک ہتھیار بھی بن سکتا ہے، اور اس ہتھیار کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ولیم مارک ٹلی 24 اکتوبر 1935 کو کولکتہ (پرانا کلکتہ) میں پیدا ہوئے، اور اپنی ابتدائی زندگی انڈیا میں گزری۔ انہوں نے Twyford School، Marlborough College اور Trinity Hall, Cambridge سے تعلیم حاصل کی اور ابتدا میں پادری بننے کا ارادہ ترک کر کے BBC میں شمولیت اختیار کی۔ وہ بی بی سی کے نیو دہلی کے بیورو چیف رہے اور جنوبی ایشیا کے اہم واقعات رپورٹ کیے۔ بھارت میں طویل عرصے تک رہے۔ 25 جنوری 2026 کو نئی دہلی میں انتقال ہوا۔
بی بی سی کے سینئر رپورٹر اور جنوبی ایشیا کے بیورو چیف کی حیثیت سے مارک ٹلی نے دہائیوں تک انڈیا اور پاکستان کے درمیان سب سے حساس اور خطرناک لمحوں کی کوریج کی۔ ہمارے سینئیر صحافی مرحوم آصف جیلانی نے بتایا تھا کہ 1971 کی انڈیا‑پاکستان جنگ کے دوران وہ مشرقی پاکستان میں ہونے والے واقعات کی رپورٹنگ کے لیے کلکتہ میں بیٹھ کر خبریں بھجتے تھے۔
ان کی رپورٹنگ اتنی یکطرفہ اور انڈین موقف کے حق میں تھی کہ پاکستان کے عالمی موقف کو شدید نقصان پہنچا۔ وہ نہ صرف حقائق کا انتخاب کرتے بلکہ انہیں اس انداز میں پیش کرتے کہ بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان کی پوزیشن کمزور اور انڈیا مظلوم دکھائی دیتا۔ ان کی رپورٹنگ کی شدت نے یہ واضح کر دیا کہ ایک رپورٹر کے قلم سے عالمی سیاست میں کس طرح جھکاؤ پیدا کیا جا سکتا ہے اور کس طرح عوامی تاثر کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنا ممکن ہے۔
1977 میں جب پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف سیاسی بحران اور پاکستان قومی اتحاد کے نام پر بنائے گئے اپوزیشن کے سیاسی اتحاد کی تحریک زور پکڑ رہی تھی، مارک ٹلی کی رپورٹنگ اس حد تک شدت پسند اور بھٹو مخالف تھی کہ وہ محض رپورٹر کی حد سے نکل کر عوامی رائے اور سیاسی مخالفت میں حصہ ڈالنے لگے۔ وہ اکثر قومی اتحاد کے اگلے دن کے مظاہروں کے مقامات اور وقت کی خبریں بھی دیتے تھے جو صحافتی گائیڈ لائینز کی خلاف ورزی تھی۔
ان کی یکطرفہ رپورٹنگ اور تجزیاتی بیانیہ اتنی واضح اور بھٹو مخالف تھا کہ بھٹو کے تختہ الٹنے کے بعد جب بھٹو چند دنوں کی رہائی کے بعد وہ لاہور آئے تو لاہور میں مشتعل شہریوں نے لاہور ایئرپورٹ کے قریب مارک ٹلی کی پٹائی کی تھی۔ اگرچہ ایسا ہونا نہیں چاہیے تھا، مگر یہ واقعہ اس بات کا مظہر ہے کہ ٹلی کی رپورٹنگ نہ صرف خبروں کی ترسیل تھی بلکہ عملی سیاسی اثرات پیدا کرنے کی طاقت رکھتی تھی، اور ایک صحافی کے قلم کے نیچے چھپی طاقت عوام اور سیاسی منظرنامے کو باآسانی گمراہ کر سکتی ہے۔
مارک ٹلی کے کام پر کوئی ہمدردی نہیں کی جا سکتی۔ ان کی رپورٹنگ نے پاکستان کے مفادات کو کئی مواقع پر براہِ راست نقصان پہنچایا اور یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ حقائق کو سچ سمجھ کر پیش کر رہے تھے یا کسی سیاسی یا سٹریٹجک کھیل کا حصہ تھے۔ ان کی رپورٹنگ نے پاکستان میں مارشل لا کے لیے راہ ہموار کی گھی۔ ان کے کیس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عالمی میڈیا کس حد تک سیاسی بیانیے کی تشکیل میں کردار ادا کر سکتا ہے اور کیوں ایک ہی واقعے پر مختلف ملکوں، حلقوں اور تجزیہ کاروں کے درمیان متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔
ان کی رپورٹنگ کی شدت اور یکطرفہ نوعیت یہ واضح کرتی ہے کہ میڈیا کا قلم کبھی کبھار محض خبر کی نقل نہیں بلکہ سیاسی بیانیے کی تشکیل اور عوامی رائے پر اثر ڈالنے کا زہریلا ہتھیار بھی بن جاتا ہے۔ ٹلی کی صحافتی زندگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ صحافت کی طاقت نہ صرف خبر کی درستگی میں ہے بلکہ اس کے ذریعے سیاسی حقیقت کو کس زاویے سے پیش کیا جاتا ہے، اور کب یہ طاقت کسی ملک یا رہنما کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
مارک ٹلی کا نام اب صحافتی دنیا میں ہمیشہ اسی طاقتور، متنازع اور تلخ بیانیے کے ساتھ یاد رکھا جائے گا جس نے خبریں رپورٹ کرنے کی مہارت کو سیاسی اور سماجی اثرات کی طاقت میں بدل دیا، جس نے دہائیوں تک جنوبی ایشیا کے سیاسی منظرنامے کو اپنی ترجیح کے مطابق شکل دی اور جس کے اثرات آج بھی تجزیہ کاروں، تاریخ دانوں اور میڈیا مبصرین کے درمیان بحث کا محور ہیں۔
مارک ٹلی کی زندگی اور رپورٹنگ یہ واضح کرتی ہے کہ صحافت کبھی کبھار خالص پیشہ ورانہ کام نہیں رہتی بلکہ سیاسی کھیل، بیانیہ سازی اور عوامی تاثر کی تشکیل کا ایک طاقتور ہتھیار بن جاتی ہے۔

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

بھارت صحافت مارک ٹلی
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleبھٹو کی پھانسی سے شہرت پانے والے نامور برطانوی صحافی مارک ٹلی انتقال کر گئے
Next Article صدر مملکت کے اعتراضات دانش سکول اور اراکینِ پارلیمنٹ ۔۔۔ نصرت جاوید کا کالم
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

بھارت میں طالب علم رہنما نیہا بورا کے چہرے پر سیاہی پھینک دی گئی

اگست 9, 2026

ہوئی نجات سفر میں فریب صحرا سے : وجاہت مسعود کا کالم

اگست 5, 2026

نام نہاد عرب بہار اور بھارتی سی جے پی کی کامیاب تحریک : نصرت جاوید کا کالم

جولائی 28, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • مشہد احتجاج کیس: ایران میں دو افراد کو پھانسی دے دی گئی ستمبر 30, 2026
  • صومالیہ میں بحری قزاقوں نے 3 پاکستانیوں سمیت پانچ افراد قتل کر دیئے ستمبر 30, 2026
  • لاہور میں آذر بائیجان کی سیاح کے ساتھ گینگ ریپ : میڈیکل رپورٹ میں تصدیق ستمبر 30, 2026
  • ایرانی گلوکارہ پرستو احمدی کو 74 کوڑوں کی سزا برقرار : بغیر آستینوں والا لباس پہننے کا الزام ستمبر 29, 2026
  • ایمرجنسی کے نفاذ کی تیاریاں؟ حکومتی بیانات اور تجزیہ نگاروں نے نئی بحث چھیڑ دی ستمبر 28, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.