مریدکے : پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پیر کی علی الصبح تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق پولیس اہلکار مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کر رہے ہیں جبکہ ٹی ایل پی کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ اس موقع پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے شدید فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں چند افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی تحریک لبیک کے اموات سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے کیونکہ مریدکے اور اُس کے اطراف میں موبائل سروس بند ہے جبکہ حکام اس بابت ردعمل دینے سے گریزاں ہیں۔
تاہم تحریک لبیک کے آفیشل اکاؤنٹس پر شیئر کردہ ویڈیوز میں شیلنگ اور گولیاں چلائے جانے کی آوازیں سُنی جا سکتی ہیں، البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ گولیاں کس جانب سے چلائی جا رہی ہیں۔
تحریک لبیک کے ترجمان عرفان رضا قادری کا کہنا ہے کہ ’غزہ مارچ‘ میں شامل افراد فجر کی نماز کی ادائیگی کے لیے تیاری کر رہے تھے جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر اُن پر فائرنگ شروع کر دی۔
انھوں نے کہا کہ یہ سب کچھ اس سے قطع نظر ہوا کہ مارچ کے شرکا پرامن تھے اور قیادت کی طرف سے مارچ کے شرکا کو اپنا سفر جاری رکھنے کی ہدایات بھی نہیں دی گئی تھی۔
ٹی ایل پی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ اس آپریشن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ رینجرز کے اہلکار بھی مریدکے میں تعینات ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جس کنٹینر پر پارٹی قیادت سوار ہے اس پر براہ راست شیلنگ کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب مظاہرین کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے مریدکے میں تعینات ایک پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ اور غلیلوں میں پتھروں کی مدد سے حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
انھوں نے تصدیق کی کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل استعمال کیے جا رہے ہیں تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس قیادت کی طرف سے گولی چلانے کا حکم ہی نہیں ہے۔
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پولیس کو واضح ہدایات ہیں کہ مظاہرین کے مارچ کو مریدکے سے آگے نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ اتوار کے روز پنجاب کے پانچ اضلاع سے پولیس کے دستوں کو مریدکے پہنچایا گیا تھا جبکہ اسلام آباد پولیس کے مطابق 500 اہلکاروں پر مشتمل پولیس کے جوانوں کا دستہ بھی اتوار کو مریدکے پہنچا تھا۔
اتنی بڑی تعداد میں اہلکاروں کو مریدکے پہنچائے جانے کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ مظاہرین کو مزید آگے نہیں بڑھنا دیا جائے گا اور انھیں منتشر کرنے کے لیے آپریشن متوقع ہے۔
ادھر شیخوپورہ پولیس کے ترجمان رانا یونس نے بی بی سی اُردو کو تصدیق کی ہے کہ تحریک لبیک کے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیر کی علی الصبح کی گئی کارروائی کے دوران ایس ایچ او انسپیکٹر شہزاد نواز جھمٹ پیٹ میں گولی لگنے کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق انسپیکٹر شہزاد نواز ایس ایچ او تھانہ فیکٹری ایریا تعینات تھے۔
دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی کے دوران ان کے درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے مسلح جتھوں کو امن و امان میں خلل کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔
رانا یونس نے مزید بتایا کہ انسپیکٹر شہزاد نواز جھمٹ کی میت کو پوسٹ مارٹم کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس لائنز شیخوپورہ لایا جا رہا ہے جہاں آج دوپہر کو ان کی نماز جنازہ ادا کر دی جائے گی۔
پولیس ترجمان کے مطابق اس آپریشن میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن کا تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے جبکہ شدید زخمی ہونے والے اہلکاروں کو لاہور کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پنجاب پولیس کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایس ایچ او کی ہلاکت اور 17 اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ زخمی ہونے والے چھ پولیس اہلکاروں کی حالت نازک ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی ۔۔ اردو )

