کٹھمنڈو :نیپال میں حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عائد پابندی ختم کرنے کے باوجود دارالحکومت کھٹمنڈو سمیت مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور کابینہ کے تین ارکان کے بعد منگل کو ملک کے وزیراعظم کے پی شرما اولی بھی مستعفی ہو گئے ہیں۔
نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی اور مبینہ سیاسی بدعنوانی کے خلاف دارالحکومت کھٹمنڈو میں ہونے والے احتجاج میں متعدد افراد کی ہلاکت کے پی شرما اولی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
ملک میں جاری پرتشدد احتجاج کے دوران اب تک کم از کم 21 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اس صورتحال میں نیپال کے وزیر داخلہ اور وزیر صحت سمیت تین وزرا نے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تاہم نوجوان مظاہرین ملک کے وزیراعظم کے پی اولی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے اور منگل کی دوپہر ان کا استعفیٰ بھی سامنے آ گیا۔
وزیراعظم کے دستخط شدہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے موجودہ بحران کے آئینی حل کی راہ ہموار کرنے کے لیے استعفیٰ دیا ہے۔
پیر کو شروع ہونے والے احتجاج کے بعد حکومت نے رات گئے سوشل میڈیا ایپس پر عائد پابندی تو ختم کر دی لیکن منگل کی صبح بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔
اس دوران کئی اہم سیاستدانوں کی رہائش گاہوں پر حملہ کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی، جن میں مستعفی ہونے والے وزیراعظم اولی اور سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا کے مکانات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سول سروس ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر موہن ریگمی نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو ہونے والے احتجاج کے دوران مزید دو افراد ہلاک ہوئے۔ اس سے قبل پیر کو 19 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت 90 سے زیادہ افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
یاد رہے کہ سوموار کے روز ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں نے دارالحکومت کھٹمنڈو میں پارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی اور حکومت سے فیس بک، ایکس، یوٹیوب سمیت 26 میڈیا پلیٹ فارمز سے پابندی ختم کرنے اور ملک میں جاری کرپشن کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ دارالحکومت کھٹمنڈو کے علاوہ یہ مظاہرے ملک کے دیگر علاقوں میں بھی ہوئے، جن کی قیادت ملک کے نوجوان طبقے نے کی۔
وزیر اطلاعات پریتھوی سبھا نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے پابندی ہٹانے کا فیصلہ سوموار کو رات گئے کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد کیا گیا تاکہ ’جنریشن زی کے مطالبات کو حل کیا جائے۔‘
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے ان ہلاکتوں کی ’آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات‘ کا مطالبہ کیا ہے۔
ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ مظاہرین کے خلاف گولہ بارود کا استعمال کیا گیا جبکہ ڈاکٹروں نے بی بی سی نیپالی سروس کو بتایا کہ مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی گئی۔
واضح رہے کہ سوموار کے روز جب مظاہرین نے پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری عمارتوں میں داخل ہونے کی کوشش کی تو سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں روکنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا تھا۔
کن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی گئی؟
جمعرات کے روز نیپال کی حکومت نے مبینہ طور پر حکومتی ضوابط کی خلاف ورزی پر ملک بھر میں 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک کر دیا تھا۔
حکام نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو نیپال کی وزارت برائے کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ رجسٹر کرنے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔
جن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی گئی، ان میں واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب شامل ہیں تاہم چند دیگر ایپس جیسے ٹک ٹاک اور وائبر ملک میں ابھی بھی کام کر رہے تھے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
جمعرات, ستمبر 10, 2026
تازہ خبریں:
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- مذہب، ردِ مذہب اور انسانیت ۔۔ چند مباحث ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
- حامد میر کا کالم : مریم نواز کا بیان اور ’’کشمیر فریب زدہ‘‘
- سید مجاہد علی کا تجزیہ : جنگ نہیں، امن کی بات کریں
- پیٹرول کی قیمت میں 13 روپے لیٹر اضافہ : ڈیزل بھی مزید مہنگا
- صحافی بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ منظور : پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری ہوئی

