پاکستان کا سب سے بڑے اخبار روزنامہ جنگ نے آ ج سے اداریے کے تکلف سے آزاد ہو گیا ہے۔ آج پہلی بار روزنامہ جنگ کا ادارتی صفحہ اداریے کے بغیر شائع ہوا ہے اور اداریے کی جگہ حامد میر صاحب کا کالم شائع کیا گیا ہے ۔ کسی بھی اخبار میں اداریہ اس کی پالیسی کا آئینہ دار ہوتا ہے اور اداریے کے ذریعے مختلف اہم قومی امور اور بین الاقوامی امور پر رائے دی جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اخبارات میں مدیر کا عہدہ اب ویسے بھی ختم کر دیا گیا ہے اور مالکان کو مدیروں کی بجائے اب ایسے صحافیوں یا کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے جو مالکان کے انتظامی افسروں ، صنعت کاروں یا اہم سیاست دانوں کے ساتھ تعلقات بنوانے میں سہولت کار کے طور پر کام کر سکیں ۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ادارے میں چونکہ اب ایڈیٹر کی ضرورت ہی نہیں سو اخبار کے لیے ادااریہ بھی اب بے معنی ہو چکا ہے ۔ مالکان نے اداریے کو اخبار میں جگہ کا ضیاع سمجھ کر وہی۔ اب اپنے کالم نگاروں کے لیے وقف کر دی ہے ۔ اداریہ جب ختم ہوا تو یقینی طور پر اداریہ نویس کی ضرورت بھی نہیں رہی ہوگی کہ سٹاف پہلے ہی بہت محدود کر دیا گیا ہے کارکنوں کو بہت عرصے سے تنخواہیں بھی نہیں دی جا رہیں سو اداریہ شائع نہ ہونا بہرحالصحافیوں کے لیے تو آ ج کی بریکنگ نیوز ہے۔لگتا ہے حالیہ سیلاب روزنامہ جنگ کا اداریہ بھی بہا کر لے گیا ۔
جمعہ, اکتوبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے

