معروف سماجی کارکن ڈاکٹر عالیہ حیدر کی قیادت میں ڈاکٹروں اور رضاکاروں کا ایک وفد کے پی کے میں میڈیکل کیمپس کے انعقاد کے لیے 25 اگست 2025 کو روانہ ہوا۔ یہ ڈاکٹر عالیہ کے کلائیمیٹ ہیلتھ مشن کا پہلا فیز تھا۔ وفد میں تین ڈاکٹر، راقم الحروف ، ڈاکٹر عالیہ حیدر، ڈاکٹر احمد اور ایک میڈیکل سال آخر کی طالبہ آمنہ چوہدری شامل تھے۔ نوجوان صحافی عقیدت چشتی، سیاسی اور سماجی کارکنان علی اشرف، اور علی آ فتاب بطور رضاکاروفد میں شامل تھے۔ ہم سیلاب زدگان کے لیے خوراک اور دوائیں لے کر لاہور سے نکلے۔ سماجی کارکن فیصل ایدھی نے خصوصی طور پر ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس ہمارے ساتھ بھیجی۔ ہم سوات پہنچے تو مقامی طلباٗ سید حسنین شاہ اور سید محسن شاہ ہمارے ساتھ آن ملے ۔
ہمارا قافلہ پہلے دن پیربابا کے مقام پر پہنچا جہاں ہم نے لاہور سے امانتاً بھیجا گیا راشن سکھ برادری کے سیلاب متاثرین میں تقسیم کیا۔ ہمیں گوردوارے میں پرجوش انداز میں خوش آمدید کہا گیا۔ گوردوارے کے مذہبی رہنما نے سرمایہ داروں کی طرف سے جنگلات کی کٹائی کو سیلاب اور تباہی کی وجہ قرار دیا جس سے ہم نے مکمل اتفاق کیا۔ پیر بابا کا علاقہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور لوگ اپنے مکانوں اور دکانوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ وہاں بڑے پیمانے پر جانی نقصان بھی ہوا ہے جس کے بارے میں ہمیں بتایا گیا کہ تقریباً دو سو افراد لقمہ اجل بنے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ کم سے کم پندرہ افراد اس وقت تک لاپتا تھے۔ ہم نے مقامی افراد سے انتہائی دردناک کہانیاں سنیں۔
اگلے روز ہم نے بو نیر میں میڈیکل کیمپس لگائے جن میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ بو نیر کے سیلابی علاقے میں جلدی امراض بالخصوص اسکیبیز، اور آنکھوں کی سوزش، پیٹ کے امراض جیسے اسہال اور معدے کی سوزش، پیشاب کے انفیکشن، ملیریا، اور ناک کان گلے کے انفیکشن پھیلی ہوئی ہیں ۔ معروف سوشلسٹ سیاسی کارکن عثمان فانوس گجر نے تمام میڈیکل کیمپس کے انعقاد میں ہماری مدد کی، انہوں نے ہمارے لیے کھانے اور رات کو سونے کا انتظام بھی کیا ۔

اگلے روز ہم شانگلہ کے لیے روانہ ہوئے۔ شانگلہ کی سڑکیں سوات اور بو نیر کی نسبت بہت خستہ حال تھیں۔ یوں لگتا تھا جیسے شانگلہ اس ڈویژن کا سوتیلا بچہ ہو۔ وہاں بھی فلیش فلڈز آئے تھے اور بادل پھٹنے کے واقعات رونما ہوئے تھے۔ جانی اور مالی نقصان اگرچہ بو نیر کے مقابلے میں کم تھا لیکن وہاں ہمیں طالبان دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں خبردار کیا گیا۔ ہمیں اپنی گاڑیاں چھوڑ کر ٹریکٹر ٹرالی میں سوار ہو کر اوپر جانا پڑا۔ راستہ انتہائی دشوار گزار تھا جسے ہم میں سے کچھ کارکنوں نے پیدل بھی عبور کیا۔ ہم نے راستے میں تباہ شدہ گاڑیاں، دکانیں اور گھر دیکھے۔ بہادر خاتون صحافی عقیدت چشتی پردہ کرنے کی سخت ہدایات کے باوجود اپنے عام لباس میں ممکنہ طور پر طالبان دہشت گردوں کے علاقے میں پہنچیں اور لوگوں کی دردناک کہانیاں ریکارڈ کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شاید پہلی خاتون صحافی تھیں جو وہاں پہنچی تھیں۔ وہ سیلاب متاثرین بالخصوص خواتین میں گھل مل گئیں اور ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔ شانگلہ میں ہمیں کچھ دوسری فلاحی تنظیموں کے وفد بھی ملے جنہوں نے ہمیں شانگلہ اور باجوڑ میں طالبان دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں خبردار کیا۔
ہماری قائد ڈاکٹر عالیہ حیدر نے ضروری حفاظتی اقدامات کے ساتھ ہر صورت میں یہ علاقے کور کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں اپنے وفد میں شامل خواتین عالیہ، عقیدت اور آمنہ کی بہادری اور جذبہ انسانیت سے بےحد متاثر ہوا۔ انہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ جنگ اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کام کر کے بلاشبہ پاکستان کی خواتین کے لیے بڑی مثال قائم کی۔
اگلے روز ہم سب سے دوردراز اور خطرناک علاقے باجوڑ میں میڈیکل کیمپ لگانے گئے۔ باجوڑ میں مقامی ممبر قومی اسمبلی نے ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور ہمیں پولیس کی سکیورٹی اور گائیڈ مہیا کیے۔ ہم ایک بار پھر انتہائی دشوار گزار راستوں سے گزر کر ایک بلند و بالا مقام پر پہنچے جہاں سینکڑوں لوگ پہلے ہی سے ہمارے منتظر تھے۔ 
باجوڑ میں خواتین کے حالات سب سے زیادہ خراب تھے۔ اندھیرا ہوا تو ہمیں سیکیورٹی مسائل کے بارے میں خبردار کیا گیا اور جلد واپسی کی ہدایات دی گئیں۔ بہت سی خواتین کا معائنہ کرناا ابھی باقی تھا۔ بدقسمتی سے انہیں پردے میں دیکھا جارہا تھا۔ ان کا معائنہ کرنے والی واحد ڈاکٹر، ڈاکٹر عالیہ حیدر تھیں کیونکہ مرد ڈاکٹروں کو ان کے معائنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ڈاکٹر عالیہ حیدر تمام خواتین کو چیک نہ کر سکنے پر بےحد دل برداشتہ ہوئیں، ۔ ہم نے علاقے میں سکیورٹی کی خراب صورتحال پر ریاست اور طالبان دونوں کی بھرپور مذمت کی۔
اگلے روز ہم واپس لاہور کی طرف روانہ ہو گئے۔ ہم مجموعی طور پر اپنے کام سے مطمئن تھے۔ ہمارے دورے کا مقصد اگرچہ محدود پیمانے پر طبی امداد فراہم کرنا تھا لیکن اس سے بھی بڑھ کر سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا اور دنیا کو ان پر ہونے والے مظالم اور ان کی سختیوں کے بارے میں آگاہ کرنا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سیلاب نے ایک بار پھر ریاست کی مکمل ناکامی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔۔ ڈاکٹر عالیہ حیدر اور ان کی ٹیم کی اگلی منزل گلگت بلتستان ہے۔ اگرچہ لاہور بھی اس وقت سیلاب کی لپیٹ میں ہے لیکن ڈاکٹر عالیہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے وہاں پہنچنا چاہتی ہیں جہاں کوئی نہیں پہنچتا۔
سیلاب زدگان ، طالبان اور اپاہج ریاست : ڈاکٹروں ، رضاکاروں کے تین روزہ دورے کا احوال : ڈاکٹر علی شاذف کے قلم سے
ایڈیٹر86 Views

