خیبرپختونخوا کے ضلع کرم کے دو قبائل کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ پانچویں روز بھی جاری ہے اور جھڑپوں میں اب تک 30 افراد جاں بحق ہوگئے۔
پولیس کے مطابق فریقین میں زمین کےتنازع پر تصادم شروع ہوا جس کے بعد مختلف علاقوں میں جھڑپیں شروع ہوگئیں۔
ذرائع نے بتایاکہ جھڑپوں میں اب تک 30 افراد جاں بحق اور 145 زخمی ہوگئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاراچنار اور صدہ شہر پر بھی متعدد میزائل فائرکیے گئے جبکہ متاثرہ علاقوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موجود ہے۔
رکن قومی اسمبلی انجینئر حمید حسین کا کہنا ہے کہ اسپتال اور مارکیٹ میں ادویات ختم ہوگئیں ہیں۔
ممبر صوبائی اسمبلی علی ہادی عرفانی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فائربندی کے لیے فوری اقدامات کرے۔
(بشکریہ:جیونیوز)
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

