مشی گن: 61 سالہ امریکی شہری نے بائیو ہیکنگ سے اپنی عمر 38 سال کرنے کا دعویٰ کردیا۔
امریکی ریاست مشی گن سے تعلق رکھنے والے 61 سالہ ڈیو پاسکو حال ہی میں صحت اور لمبی عمر کے لیے اپنے منفرد طرز زندگی کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔
خود کو بائیو ہیکر سمجھنے والے پاسکو کا دعویٰ ہے کہ وہ خوراک، ورزش اور سپلیمنٹس پر مشتمل سخت طرز عمل کے ذریعے اپنی حیاتیاتی عمر کو 38 سال کی عمر میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
پاسکو طلوع آفتاب سے پہلے قدرتی طور پر جاگتا ہے، باہر کافی وقت گزارتا اور سخت ورزش کرتا ہے، وہ ایک مخصوص ڈائٹ پلان پر عمل کرتا ہے اور ہر روز 158 سپلیمنٹس لیتا ہے۔
پاسکو کی کہانی نے بائیو ہیکنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان میں دلچسپی کو جنم دیا ہے۔
واضح رہے کہ بائیو ہیکنگ ایک اصطلاح ہے جس میں انسان اپنی جسمانی صلاحیت کو بڑھانے اور لمبی عمر پانے کے لیے مختلف طریقوں پر عمل کرتا ہے جس میں خوراک، سپلیمنٹس اور ورزش وغیرہ شامل ہیں۔
دی نیویارک پوسٹ سے بات چیت میں پاسکو نے کہا میرا وقت میرے لیے بہت اہم ہے جسے میں اچھی طرح شیڈول کرتا ہوں۔
پاسکو کا کہنا ہے کہ وہ شاذ و نادر ہی دوپہر کا کھانا کھاتا ہے اور اس کے بجائے شام میں 3 سے 5 بجے تک رات کا کھانا کھانے کو ترجیح دیتا ہے۔
پاسکو نے کہا کہ اُس کے کھانے میں عام طور پر مختلف قسم کی تازہ سبزیاں، گائے کا گوشت، چکن یا مچھلی شامل ہوتی ہے، وہ اپنے کھانوں میں باقاعدگی سے لہسن بھی شامل کرتا ہے۔
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

