اسلام آباد :منگل کے روز حکمران اتحاد نے سینیٹ کی 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ خیبر پختونخوا میں مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اپوزیشن ارکان کی حلف برداری سے متعلق تنازع پر انتخابات ملتوی کردیے گئے۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق سینیٹ کی 19 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) نے 6، پیپلز پارٹی نے 11 اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی۔
96 رکنی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 19 ہو گئی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 24 ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ سینیٹ میں پی ٹی آئی کے 20 ارکان ہیں۔
اسلام آباد کی سینیٹ کیلئے ٹیکنوکریٹ اور جنرل نشستوں پر حکومتی اتحاد کے اُمیدوار و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور رانا محمود کامیاب ہوگئے ہیں۔حکومتی اتحاد کے امیدوار اسحاق ڈار سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ اور جنرل نشست پر رانا محمود الحسن سینیٹ کے رکن منتخب ہوگئے۔
اسلام آباد کی جنرل و ٹیکنوکریٹ نشست پر دو دو امیدوار مدمقابل تھے۔ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر اسحاق ڈار کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار راجہ انصر محمود جبکہ جنرل نشست پر حکومتی اتحاد کے رانا محمود الحسن کا مقابلہ سنی اتحاد کونسل کے فرزند علی شاہ سے تھا۔
پنجاب
پنجاب میں جنرل نشستوں کے لیے مقابلہ کرنے والے تمام سات امیدوار مارچ کے آخر میں بلا مقابلہ منتخب ہو گئے تھے۔ آج خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی دو، دو نشستوں اور ایک اقلیتی نشست پر ووٹ ڈالے گئے۔ٹیکنوکریٹ کی دو نشستوں پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم مصدق ملک بالترتیب 128 اور 121 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔
پنجاب میں خواتین کے لیے مخصوص دو نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی انوشہ رحمان اور بشریٰ انجم بالترتیب 125 اور 123 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں۔ مسلم لیگ (ن) کے خلیل طاہر سندھو اقلیتی نشست پر کامیاب رہے۔
سندھ
سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے 12 میں سے 10 نشستیں حاصل کیں۔ تاہم باقی دو نشستوں پر ایم کیو ایم پاکستان اور ایک آزاد امیدوار نے کامیابی حاصل کی۔جنرل نشستوں پر پیپلز پارٹی کے اشرف علی جتوئی 22، دوست علی جیسر 21، کاظم علی شاہ 21، مسرور احسن 21 اور ندیم بھٹو 21 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔
جنرل نشست پر ایم کیو ایم پاکستان کے عامر چشتی نے 21 اور آزاد امیدوار فیصل واوڈا نے 21 ووٹ حاصل کیے۔ اس سے ایک روز قبل پیپلز پارٹی نے فیصل واوڈا کی حمایت کے لیے اپنے ایک امیدوار کو واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔
ٹیکنوکریٹ نشستوں پر پیپلز پارٹی کے ضمیر گھمرو 58 اور سرمد علی 57 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ خواتین کے لیے مخصوص دو نشستوں پر پیپلز پارٹی کی روبینہ سعادت قائم خانی نے 57 اور قرۃ العین مری نے 58 ووٹ حاصل کیے۔اقلیتی نشست پر پیپلز پارٹی کے پونجو بھیل (117 ووٹ) بھی کامیاب رہے۔
خیبر پختونخوا
کے پی میں پولنگ شیڈول کے مطابق صبح 9 بجے شروع نہیں ہوئی اور تقریبا دو گھنٹے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ’مخصوص نشستوں پر حلف برداری میں تاخیر کی وجہ سے‘ ملتوی کر دیا۔کے پی کے الیکشن کمشنر شمشاد خان اسمبلی پہنچے اور اسمبلی عملے سے حلف اٹھانے والے ایم پی ایز کی فہرست طلب کی۔ دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے الیکشن کمیشن سے سینیٹ انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
منگل, نومبر 3, 2026
تازہ خبریں:
- پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہیملٹن مانز نے عہدہ سنبھال لیا۔
- ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ قدیم ہندوستانی لسانیات ، پانینی سے مولانا محمد حسین آزاد تک
- ہارڈ سٹیٹ کے نام پر فسطائی ریاست ؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فضل الرحمان : ریاست کی نوکری سے ریاست کے مدمقابل آنے تک : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گوجرانوالہ: ولیمے کے روز دلہن کو قتل کرنے والا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- نونی سیاست اور ’’ گستاخ ‘‘ تماشائیوں کا خطرہ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو 10 ، 10 سال قید کی سزا : عدالت اڈیالہ جیل میں لگی
- اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی :کیا نیتن یاہو اقتدار بچا لیں گے ؟
- ہند یورپی زبانیں بولنے والوں کا آبائی وطن : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی سمیت چار افراد کے وارنٹ گرفتاری

